وجود

... loading ...

وجود

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

جمعه 20 مارچ 2026 امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

افتخار گیلانی

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے ، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے بحری مال برداری میں پیدا ہونے والے تعطل نے جنوبی ایشیائی ممالک خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کی توانائی کی سلامتی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور ہندوستان کے شہروں اور قصبوں میں ایل پی جی ڈسٹری بیوشن سینٹرز کے باہر لگی طویل قطاریں توانائی کے بحران کی گواہی دے رہے ہیں۔ہندوستانی دارالحکومت دہلی کے مکین اپنے اسمارٹ فونز پر بار بار ڈیلیوری کے پیغامات کو اس امید میں ری فریش کر رہے ہیں کہ شاید اگلا ٹرک ان کے گھر کے چولہے جلانے کا سامان لے آئے ۔ گیس ڈپوکے باہر کا یہ منظر دراصل ہندوستان کے مجموعی توانائی کے ڈھانچے میں موجود اس گہری دراڑ کا خاموش نوحہ ہے جسے گزشتہ دو دہائیوں کی غلط ترجیحات نے جنم دیا ہے ۔ آج ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زائد خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بہت بڑا حصہ درآمد کرنے پر مجبور ہے ۔ اس گیس کا بڑا حصہ مائع حالت (ایل این جی) میں قطر، آسٹریلیا اور اب تیزی سے امریکہ سے بحری راستوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے ، جو اکثر عالمی منڈی کی ان اتار چڑھاؤ والی قیمتوں پر خریدا جاتا ہے جو ہر جغرافیائی و سیاسی جھٹکے کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔اس معاشی اور تزویراتی بے یقینی سے بچنے کے لیے کبھی ہندوستان اور پاکستان کے پاس ایک نہایت معتبر، سستا اور پائیدار متبادل موجود تھا۔نوے کی دہائی کے اوائل میں دونوں ملکوں کے ایوانوں میں ایک ایسی پائپ لائن کے نقشے زیر بحث تھے جو سرحدوں کی لکیروں کو مٹا کر توانائی کے رشتوں کو جوڑ سکتی تھی۔ ایرانـپاکستانـانڈیا یعنی آئی پی آئی نامی یہ پائپ لائن ایک خواب تھا جو حقیقت بننے کے قریب تھا، لیکن اسے عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔اس تزویراتی سفر کا آغاز 1989 میں ہوا تھا، جب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے نئی دہلی کے دورے کے دوران طویل فاصلے کی ایک گیس پائپ لائن کی تجویز پیش کی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سرد جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی اور ایشیا میں علاقائی تعاون کے نئے چراغ روشن ہو رہے تھے ۔مگر اس پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز 1994 میں ہوا۔مارچ 1994 کو جب ہندوستان کوجنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی طرف سے کشمیر پر انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سخت مذمتی قرارداد کا سامنا تھا، تو وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اپنے شدید علیل وزیر خارجہ دنیش سنگھ کو ایک خصوصی طیارے میں، جس میں تمام طبی سہولیات موجود تھیں، ایک خفیہ مشن پر تہران بھیجاتھا۔
ایران نے اس وقت ہندوستان کی لاج رکھی اور قرارداد پر اتفاقِ رائے نہ ہونے دیا، جس سے ہندوستان عالمی سطح پر تنہا ہونے سے بچ گیا۔
اس کے بدلے میں ایران کو کئی یقینی دہانیاں کرائی گئی تھیں۔ جن میں کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے علاوہ نرسمہا راؤ نے تہران سے گیس پائپ لائن میں سرمایہ کاری اور تعاون کا پکا وعدہ کیا تھا۔ نئی دہلی میں دی انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹرراجندر پچوری کو اس کے خد و خال طے کرنے کے لیے کہا گیا۔چونکہ یہ پائپ لائن ہندوستانـپاکستان اور ایران کی مشترکہ کاوش تھی، اس لیے مبصرین نے اس کو امن پائپ لائن کا خوبصورت نام دیا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ جب دو ایٹمی پڑوسی، ہندوستان اور پاکستان، ایک ہی پائپ لائن سے توانائی حاصل کریں گے ، تو ان کے معاشی مفادات اس قدر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے کہ جنگ کا تصور ہی محال ہو جائے گا۔اس کے ایک سال بعد یعنی 1995 میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ایران اور پاکستان کے درمیان ساؤتھ پارس فیلڈ سے کراچی تک گیس پہنچانے کا ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ ایران نے اس منصوبے کو ہندوستان تک وسعت دینے کی تجویز دی، کیونکہ ہندوستان کی بڑی منڈی کے بغیر یہ منصوبہ تجارتی طور پر اتنا پرکشش نہیں ہوسکتا تھا۔
سال 1999 میں ہندوستان نے اس منصوبے میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا اور تہران کے ساتھ ایک ابتدائی یادداشت پر دستخط کیے۔ 2000کے سال سے ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان قیمتوں، فزیبلٹی اور پائپ لائن کے راستے پر سہ فریقی مذاکرات شروع ہوئے جنہیں عالمی میڈیا میں جنوبی ایشیا کی تقدیر بدلنے والے مذاکرات سے موسوم کیا گیا۔یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کی معیشت سالانہ آٹھ سے نو فیصد کی شرح سے نمو پا رہی تھی۔ اس لیے اس پائپ لائن کی اہمیت تزویراتی سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ بن گئی تھی۔تکنیکی ماہرین کے مطابق یہ پائپ لائن ہندوستان کی صنعتوں اور بجلی گھروں کو روزانہ 60ملین اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر گیس فراہم کر سکتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک سہ فریقی ‘جوائنٹ ورکنگ گروپ’ بنایا گیا جس نے قیمتوں اور ٹرانزٹ فیس جیسے پیچیدہ مسائل پر دن رات کام کیا۔اس منصوبے کے سب سے بڑے علمبردار منی شنکر ایر تھے ، جو 2004سے 2006کے درمیان ہندوستان کے وزیر پیٹرولیم کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ ان کا نظریہ تھا کہ اقتصادی باہمی انحصار دہلی اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کی برف کوپگھلا سکتا ہے ۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے ؛پائپ لائن محض گیس لے جانے والی اسٹیل کی نالی نہیں، بلکہ یہ تعاون کی ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر امن کا قافلہ چلے گا۔
دریاؤں کا پانی ہندوستان سے پاکستان کی طرف جاتا ہے ، گیس کی ترسیل چونکہ پاکستان سے ہندوستان کی طرف ہونی تھی، اس لیے بتایا گیا کہ اس سے وسائل کی ترسیل میں بھی ایک توزن قائم ہوجائے گا۔سفارت کار تلمیذ احمد، جو اس دور میں مذاکرات کی میز پر ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے ، بتاتے ہیں کہ قدرتی گیس کا حصول اس وقت ہندوستان کی سفارت کاری کے لیے اہم حیثیت رکھتا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ گیس پر مبنی معیشت کوئلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے ۔

جس وقت جنوبی ایشیا کے پالیسی ساز ‘امن پائپ لائن’ کے خواب کو آخری شکل دے رہے تھے ، اسی وقت نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ایک ایسا سودا طے پا رہا تھا جس نے ہندوستان کی ترجیحات کو یکسر بدل دیا۔ 18جولائی 2005 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے واشنگٹن میں ایک ‘سول نیوکلیئر معاہدے ‘ کا اعلان کیا۔یہ معاہدہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا، جس کا مقصد ہندوستان پر 1974 کے پہلے ایٹمی تجربے کے بعد سے لگی عالمی پابندیوں کا خاتمہ کرنا اور اسے ایٹمی ٹکنالوجی فراہم کرنا تھا۔مارچ 2006 میں صدر بش نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں ایٹمی تعاون کے عزم کو دہرایا گیا۔ 26 جولائی 2006 کو امریکی ایوان نمائندگان نے ہنری جے ہائیڈ ایکٹ منظور کیا، جس نے این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے کے باوجود ہندوستان کے لیے عالمی جوہری تجارت کا راستہ صاف کر دیا۔ 18 دسمبر 2006 کو صدر بش نے اس پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دے دی۔لیکن اس ایٹمی قربت کی ایک بھاری قیمت ایران کے ساتھ تعلقات کی قربانی تھی۔ امریکی حکام پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے نہایت معاندانہ رویہ رکھتے تھے ۔ان کا واضح موقف تھا کہ یہ پائپ لائن ایران کو معاشی طور پر مستحکم کرے گی، جبکہ امریکہ اسے اس کے ایٹمی پروگرام کی پاداش میں دنیا بھر میں تنہا کرنا چاہتا تھا۔ 3 اگست 2007 کو ہندوستان اور امریکہ نے ایٹمی تعاون کے معاہدے کا متن جاری کیا۔ ہندوستان کے اندر اس پر شدید سیاسی بحران پیدا ہوا اور 8جولائی 2008 کو بائیں بازو کی پارٹیوں نے منموہن سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔حکومت گرنے کے قریب تھی، مگر دہلی نے واشنگٹن کا ہاتھ تھامے رکھا۔
اگست 2008 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ہندوستان کے لیے مخصوص سیف گارڈز کی منظوری دی اور پھر 4 سے 6 ستمبر 2008 کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ‘نیوکلیئر سپلائرز گروپ’ (این ایس جی)نے ہندوستان کو وہ تاریخی استثنیٰ دے دیا جس نے ہندوستان کی ایٹمی تنہائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ 27 ستمبر 2008 کو امریکی ایوانِ نمائندگان اور پھر 8 اکتوبر 2008 کو صدر بش نے حتمی قانون پر دستخط کر کے اس تاریخی سودے پر مہر ثبت کر دی۔اس ایٹمی کامیابی کے سائے میں، جون 2009 میں ہندوستان نے قیمتوں اور سلامتی کا بہانہ بنا کر پائپ لائن سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ ہندوستان کی توانائی کی تاریخ کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ہندوستان کو یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے اسے وہ توانائی ملے گی جو پائپ لائن نہیں دے سکتی ہے ۔ ویسٹنگ ہاؤس اور جی ای ہٹاچی جیسی امریکی کمپنیوں سے دسیوں ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے وعدے کیے گئے ۔ 8 جون 2016 کو ہندوستان کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور ویسٹنگ ہاؤس کے درمیان چھ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا معاہدہ بھی ہوا، مگر یہ سب کاغذوں تک محدود رہا۔ان کمپنیوں نے ہندوستان کے 2010 کا ‘نیوکلیئر لائبلٹی ایکٹ کو بہانہ بنایا، جس کی رو سے ان کو کسی بھی حادثے کی صورت میں قانونی ذمہ داری اٹھا نی تھی اور ہرجانہ دینا تھا۔ ایٹمی معاہدے کے بیس سال مکمل ہونے کے باوجود آج تک زمین پر ایک بھی امریکی ری ایکٹر نہیں لگ سکا۔
اگرچہ حال ہی میں 16 جنوری 2025 کو امریکہ نے ہندوستانی ایٹمی اداروں پر سے کچھ برآمدی پابندیاں ختم کیں اور اگست 2025 میں ہندوستانی پارلیامنٹ نے ‘نیوکلیئر لائبلٹی فریم ورک’ میں ترامیم بھی کیں تاکہ غیر ملکی سپلائرز کو دوبارہ راغب کیا جا سکے ، مگر عملی طور پر ہندوستان ابھی تک اس ایٹمی انقلاب کے ثمر سے محروم ہے جس کا ڈھنڈورا بیس سال پہلے پیٹا گیا تھا۔دوسری جانب، 2010 میں ہندوستان کی علیحدگی کے بعد ایران اور پاکستان نے دوطرفہ طور پر منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ 2013 میں ایران نے اپنے حصے کی تعمیر مکمل کرنے کا دعویٰ کیا، مگر عالمی پابندیوں اور امریکی دباؤ نے پاکستان کے ہاتھ بھی باندھ دیے ۔ 2016 میں جے سی پی او اے کے تحت پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ہندوستان میں متبادل راستوں اور سمندر کے نیچے سے پائپ لائن لانے کی تجویز پر بھی بات ہوئی، مگر وہ بھی جغرافیائی سیاست کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئی۔اسی دوران ایران سے تین الگ پائپ لائنزترکیہ، عراق اور آرمیناء و گیس پہنچانے کے لیے وجود میں آئی اور وہ اس وقت ان ممالک کی انرجی کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔
سوال ہے کہ اگر عراق، اور ترکیہ جیسے امریکی حلیف اور ایک نسبتاً کمزور ملک آرمیناء امریکی دباؤ کو نظر انداز کرکے ان پائپ لائنوں کی تکمیل کرسکے ، تو ہندوستان اور پاکستان نے مل کر امریکہ کے سامنے کیوں گھٹنے ٹیک دیے ؟
آج دو دہائیوں کے سفر کے بعد جب ہم ہندوستان اور پاکستان کے توانائی کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک افسوسناک تصویر سامنے آتی ہے ۔ درآمدی توانائی پر انحصار کم ہونے کے بجائے بڑھ چکا ہے ۔ ایٹمی معاہدے نے بلاشبہ ہندوستان کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کرایا اور اس کا سفارتی قد بلند کیا، مگر توانائی کی سستی اور بلا تعطل فراہمی کا جو بنیادی مقصد تھا، وہ تشنہ رہا۔ہندوستان نے اس وقت ایرانی گیس پائپ لائن سے ناطہ توڑا جب وہ واشنگٹن کی دہلیز پر ایٹمی وصال کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ آج ایندھن کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہندوستان کی صنعت سازی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ آج کی صورتحال اس شعر کی عملی تفسیر ہے ؛
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
نہ امریکی ری ایکٹر ملا نہ گیس پائپ لائن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکا۔ ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے ، یہ ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں دراصل حکومتوں کی اسی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر