... loading ...
منظر نامہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر غیر معمولی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت، وسیع توانائی ذخائر، مذہبی اور تہذیبی اثرات، اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی نے اسے ہمیشہ بین الاقوامی سیاست کا ایک اہم محور بنائے رکھا ہے ۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہاں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی، جنگی خطرات اور سفارتی سرگرمیوں نے اس خطے کو مزید حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے مفادات اور توانائی کی سیاست نے نہ صرف خطے کے استحکام کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور عالمی سفارت کاری کو بھی نئے امتحانات میں ڈال دیا ہے ۔
مشرقِ وسطیٰ بنیادی طور پر مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے چند ممالک پر مشتمل ایک وسیع جغرافیائی خطہ ہے جس میں سعودی عرب، ایران، عراق، اسرائیل، فلسطینی علاقے ، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، عمان اور مصر جیسے اہم ممالک شامل ہیں۔ یہ خطہ صدیوں سے عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے کیونکہ یہاں نہ صرف قدیم تہذیبوں کے آثار موجود ہیں بلکہ دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر بھی اسی خطے میں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ممکنہ بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر اہم علاقوں میں ہونے والے فضائی حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ اگرچہ اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ براہِ راست جنگ نہیں چاہتی، عملی طور پر جاری فوجی کارروائیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر پڑ رہا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ سے دنیا کے مختلف حصوں تک تیل اور گیس کی ترسیل بڑی حد تک سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے ۔ اگر ان راستوں میں خلل پیدا ہو جائے تو اس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے ۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت اس تناظر میں بہت زیادہ ہے ، کیونکہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے
گزرتی ہے ۔ اگر اس اہم آبی گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے ۔
موجودہ بحران نے عالمی شپنگ اور تجارتی صنعت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ اگر بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف توانائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خوراک، صنعتی خام مال اور دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے ۔ اس طرح ایک علاقائی تنازع عالمی معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مختلف سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔اس تناظر میں روس کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے ثالثی کی پیش کش کی ہے ۔ روس مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اگر روس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکل آئے ۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی دراصل عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تصادم کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔ امریکہ خطے میں اپنی اسٹرٹیجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے ، جبکہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے ۔ دوسری جانب ایران خود کو خطے میں ایک خودمختار اور بااثر طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے ۔ ان تمام مفادات کے ٹکراؤ نے خطے کو مسلسل عدم استحکام اور کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے ۔تاہم مشرقِ وسطیٰ کی سیاست صرف تنازعات اور جنگوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں سفارتی تبدیلیوں اور نئے علاقائی رجحانات کا بھی مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں خطے کے بعض ممالک نے اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس رجحان نے خطے میں ایک نئی سفارتی فضا پیدا کی ہے جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے ۔ان تبدیلیوں کے اثرات پاکستان جیسے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس خطے کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور اقتصادی روابط رکھتا ہے ۔ لاکھوں پاکستانی شہری خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور وہ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دفاعی تعاون اور سیکیورٹی کے شعبے میں بھی پاکستان اور کئی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کا سفارتی موقف بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی عمومی طور پر خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور علاقائی امن کے فروغ پر مبنی رہی ہے ۔ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے مسائل کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ۔ پاکستان کا یہ موقف دراصل اس کی دیرینہ سفارتی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے ۔توانائی کے شعبے میں بھی مشرقِ وسطیٰ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ضروریات کے باعث توانائی کی مسلسل ضرورت ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ توانائی کے معاہدے اور مشترکہ منصوبے پاکستان کے لیے توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے علاقائی توانائی منصوبوں میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے
نکال کر جدید صنعتی اور تجارتی نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ انفراسٹرکچر، سیاحت، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں بڑے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان اپنی صنعتی پیداوار کو بہتر بنائے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔تاہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو بعض بنیادی چیلنجز کا سامنا بھی ہے ۔ داخلی سیاسی استحکام، مضبوط معیشت اور واضح خارجہ پالیسی کے بغیر کسی بھی ملک کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقتصادی اصلاحات کو تیز کرے ، اپنی برآمدات میں اضافہ کرے اور سفارتی سطح پر ایک متوازن اور فعال حکمتِ عملی اختیار کرے ۔
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست یہ واضح کرتی ہے کہ عالمی نظام مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے ۔ جو ممالک ان تبدیلیوں کو
بروقت سمجھ کر اپنی پالیسیوں کو اس کے مطابق ڈھال لیتے ہیں وہی نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے
لیے بھی یہی وقت ہے کہ وہ خطے کی بدلتی ہوئی تبدیلی کا گہرائی سے تجزیہ کرے اور اپنے قومی مفادات کے مطابق ایک جامع حکمتِ عملی
ترتیب دے ۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق طاقت
کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں۔ موجودہ بحران دراصل ایک امتحان ہے ، نہ صرف
خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر اس مرحلے پر دانشمندی، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ
بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن جائے ۔ لیکن اگر طاقت کی سیاست اور جذباتی فیصلے غالب رہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ
وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔اسی تناظر میں پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاست کو
ایک خطرے کے ساتھ ساتھ ایک موقع کے طور پر بھی دیکھے ۔ دانشمندانہ سفارت کاری، اقتصادی اصلاحات اور علاقائی تعاون کے ذریعے
پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک فعال اور بااثر مقام دلا سکتا ہے ۔
٭٭٭