وجود

... loading ...

وجود

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

جمعرات 12 مارچ 2026 ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

پاکستانمیںاعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ برسوں میں تمام انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں اے آئی پر تین گھنٹے کا کورس لازمی ہوگا۔ اس کے پیچھے عقلی جواز سیدھا سادہ ہے۔ اے آئی 21 ویں صدی کی کایاپلٹ قوت ہے، اور ہر طالب علم کو اس سے اچھی واقفیت ہونی چاہئے۔اگر مقصد طلبہ کو اے آئی کی ریاضی سے متعلق اور سائنسی بنیادوں سے متعارف کرانا ہے تو تین گھنٹے محض واقفیت حاصل کرنا ہے۔مشین لرننگ کی اصل زبانlinear algebra,probability theory,statistics and optimimisation ہے۔ ان موضوعات میں ایک سمسٹرمیں مہارت حاصل نہیں کی جاسکتی۔ان کیلئے برسوں کی ریاضت ضروری ہے۔اس کے بجائے اگر طلبہ کو اے آئی ٹولز کا استعمال سکھانا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسے ٹولز؟ آج کا سافٹ ویئر کل منسوخ ہو سکتا ہے تو پھر کیا نصاب ہر سال دوبارہ لکھ جائے گا؟ کیا یونیورسٹیاں engineering” prompt ” ڈگریاں جاری کرنا شروع کریں گی جو مختصر دورانیہ کے پلیٹ فورموں سے جڑاہوا ہے۔ باضابطہ کورسز کے سابقہ تجربہ سے واضح ہے کہ گہرائی کے بغیر ایسے اقدامات بنیادی تبدیلی کی بجائے علامتی ہونگے۔بنیادی نظم و ضبط کے بغیر سائنس گریجوئٹس ریاضی کی عمدہ تربیت کے بغیر بنتے ہیں کیونک ہم انہیں الجبرا، منطق اور شماریات کا ایک ملغوبہ پیش کرتے ہیں۔
جب بنیادیں ہی کمزور پڑ جائیں تو جدیدیت نمائشی رہ جاتی ہے۔اگر طلبہ کی ریاضی کی بنیاد مضبوط ہے،منطق واضح ہے ،تحریر منظم ہے اور اخلاقی آگاہی ہے تو وہ کسی بھی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکیںگے۔
ایران کے دوستوں کی مدد صرف الفاظ تک محدود
بھارت ایران کو چاول اور ادویہ برآمد کرتا ہے ۔ اس نے ایران کے جنوبی ساحل پر چاہ بہار بندرگاہ میں بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ وسط ایشیا تک برآمد ات کا راستہ حاصل کرسکے جسے اس کے سب سے بڑے حریف پاکستان نے ناکام بنا دیا۔ایران کے ساتھ تعلقات نے بھارت کو اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ کاگاہک بننے سے نہیں روکا۔وہ اسرائیل کا34 فی صد اسلحہ خریدتا ہے۔اس سلسلے میں بھارت کی خارجہ پالیسی واضح ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے کا م میں ٹانگ نہیں اڑاتا۔
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے کیونکہ وہ ایران کے تیل کا تین چوتھائی سے زائد خریدتا ہے۔یہ تیل اسے امریکی پابندیوں کی بناء پر رعایتی قیمت پر ملتا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو براہ راست چیلنج نہیں کریگا۔ وہ اپریل میں ٹرمپ کے متوقع دورہ سے قبل نازک مفاہمت کی راہ میںرخنہ ڈالنا نہیں چاہتا۔
روس ایران کا سب سے قریبی حلیف ہے جسے وہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے مغرب کے خلاف پیچھے دھکیل رہا ہے۔ دونوں ممالک نے شام کے صدر بشارالاسد کو سہارا دیا جسے دسمبر2024 میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔روس کے یو کرین پر بھرپور حملے نے ان کے تعلق کو مضبوط کیا۔ روس کو ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی جو اس نے یوکرین کے خلاف استعمال کی۔ روس نے ایران کو کچھ فوجی سامان دیا لیکن یہ مددمحدود رہی کیونکہ روس اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پیچیدہ نہیں بنانا چاہتا۔اب جبکہ ایران حالت جنگ میں ہے، روس مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے بچنے کی پالیسی پر قائم رہے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی فریب نظری چکنا چور
ٹرمپ کی تصوراتی دنیا میں امریکہ ناقابل تسخیر ہے۔اس کی فوج اتنی ترقی یافتہ اور ہنرمند ہے کہ وہ ایک دشمن ملک کے سربراہ کو اٹھا کر نیویارک سٹی کی جیل کی کوٹھڑی میں ڈال سکتی ہے اور اس کاایک سپا ہی بھی ضائع نہیں ہوا۔یہ کسی بھی ملک پر سزا کے طور پرٹیرف عائد کر سکتا ہے، وہ ترنگ میں آکردیرینہ اتحاد کو چھوڑ سکتا ہے، کسی بھی وقت کسی بھی ملک پر بمباری کر سکتا ہے اور اگر اسے شک ہو تو منشیات لے جانے والی کشتیوں کو دھماکے سے اڑا سکتا ہے۔امریکہ کی خوفناک طاقت کا مطلب ہے کہ وہ کسی قاعدہ کا پابند نہیں،نہ اسے کسی نتائج کی پرواہ ہے۔یہ انتہا ئی دولتمند اور پھیلنے والی قوم ہے۔ اس کا جغرافیہ اس کیلئے نعمت ہے اور دو وسیع سمندر اسے دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ پھر یہ وہ کیوںنہیں کرے گا جو وہ چاہتا ہے؟
ٹرمپ کاامریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کے کئی روزبعد قدرت کاملہ کا یہ تصور چکنا چور ہو چکا ہے۔ یہ جنگ اب عالمی معیشت کے مرکزی حصے میں لڑی جا رہی ہے۔مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے توانائی کی مارکیٹوں میں زلزلہ آگیا ہے ۔اگرجنگ خدا کاامریکیوں کو جغرافیہ کاسبق سکھانے کا طریقہ ہے تو اس میںٹرمپ کیلئے بھی ایک سبق ہے۔دوسری جگیںاور دوسرے لوگ بھی ایک حقیقت ہیں اور اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ امریکہ کے اقدامات کے نتائج ایسے نکلیں گے جسے وہ کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر