... loading ...
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم
پاکستانمیںاعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ برسوں میں تمام انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں اے آئی پر تین گھنٹے کا کورس لازمی ہوگا۔ اس کے پیچھے عقلی جواز سیدھا سادہ ہے۔ اے آئی 21 ویں صدی کی کایاپلٹ قوت ہے، اور ہر طالب علم کو اس سے اچھی واقفیت ہونی چاہئے۔اگر مقصد طلبہ کو اے آئی کی ریاضی سے متعلق اور سائنسی بنیادوں سے متعارف کرانا ہے تو تین گھنٹے محض واقفیت حاصل کرنا ہے۔مشین لرننگ کی اصل زبانlinear algebra,probability theory,statistics and optimimisation ہے۔ ان موضوعات میں ایک سمسٹرمیں مہارت حاصل نہیں کی جاسکتی۔ان کیلئے برسوں کی ریاضت ضروری ہے۔اس کے بجائے اگر طلبہ کو اے آئی ٹولز کا استعمال سکھانا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسے ٹولز؟ آج کا سافٹ ویئر کل منسوخ ہو سکتا ہے تو پھر کیا نصاب ہر سال دوبارہ لکھ جائے گا؟ کیا یونیورسٹیاں engineering” prompt ” ڈگریاں جاری کرنا شروع کریں گی جو مختصر دورانیہ کے پلیٹ فورموں سے جڑاہوا ہے۔ باضابطہ کورسز کے سابقہ تجربہ سے واضح ہے کہ گہرائی کے بغیر ایسے اقدامات بنیادی تبدیلی کی بجائے علامتی ہونگے۔بنیادی نظم و ضبط کے بغیر سائنس گریجوئٹس ریاضی کی عمدہ تربیت کے بغیر بنتے ہیں کیونک ہم انہیں الجبرا، منطق اور شماریات کا ایک ملغوبہ پیش کرتے ہیں۔
جب بنیادیں ہی کمزور پڑ جائیں تو جدیدیت نمائشی رہ جاتی ہے۔اگر طلبہ کی ریاضی کی بنیاد مضبوط ہے،منطق واضح ہے ،تحریر منظم ہے اور اخلاقی آگاہی ہے تو وہ کسی بھی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکیںگے۔
ایران کے دوستوں کی مدد صرف الفاظ تک محدود
بھارت ایران کو چاول اور ادویہ برآمد کرتا ہے ۔ اس نے ایران کے جنوبی ساحل پر چاہ بہار بندرگاہ میں بھاری سرمایہ کاری کی تاکہ وسط ایشیا تک برآمد ات کا راستہ حاصل کرسکے جسے اس کے سب سے بڑے حریف پاکستان نے ناکام بنا دیا۔ایران کے ساتھ تعلقات نے بھارت کو اسرائیل کا سب سے بڑا اسلحہ کاگاہک بننے سے نہیں روکا۔وہ اسرائیل کا34 فی صد اسلحہ خریدتا ہے۔اس سلسلے میں بھارت کی خارجہ پالیسی واضح ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے کا م میں ٹانگ نہیں اڑاتا۔
چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے کیونکہ وہ ایران کے تیل کا تین چوتھائی سے زائد خریدتا ہے۔یہ تیل اسے امریکی پابندیوں کی بناء پر رعایتی قیمت پر ملتا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو براہ راست چیلنج نہیں کریگا۔ وہ اپریل میں ٹرمپ کے متوقع دورہ سے قبل نازک مفاہمت کی راہ میںرخنہ ڈالنا نہیں چاہتا۔
روس ایران کا سب سے قریبی حلیف ہے جسے وہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے مغرب کے خلاف پیچھے دھکیل رہا ہے۔ دونوں ممالک نے شام کے صدر بشارالاسد کو سہارا دیا جسے دسمبر2024 میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔روس کے یو کرین پر بھرپور حملے نے ان کے تعلق کو مضبوط کیا۔ روس کو ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی جو اس نے یوکرین کے خلاف استعمال کی۔ روس نے ایران کو کچھ فوجی سامان دیا لیکن یہ مددمحدود رہی کیونکہ روس اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پیچیدہ نہیں بنانا چاہتا۔اب جبکہ ایران حالت جنگ میں ہے، روس مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے بچنے کی پالیسی پر قائم رہے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی فریب نظری چکنا چور
ٹرمپ کی تصوراتی دنیا میں امریکہ ناقابل تسخیر ہے۔اس کی فوج اتنی ترقی یافتہ اور ہنرمند ہے کہ وہ ایک دشمن ملک کے سربراہ کو اٹھا کر نیویارک سٹی کی جیل کی کوٹھڑی میں ڈال سکتی ہے اور اس کاایک سپا ہی بھی ضائع نہیں ہوا۔یہ کسی بھی ملک پر سزا کے طور پرٹیرف عائد کر سکتا ہے، وہ ترنگ میں آکردیرینہ اتحاد کو چھوڑ سکتا ہے، کسی بھی وقت کسی بھی ملک پر بمباری کر سکتا ہے اور اگر اسے شک ہو تو منشیات لے جانے والی کشتیوں کو دھماکے سے اڑا سکتا ہے۔امریکہ کی خوفناک طاقت کا مطلب ہے کہ وہ کسی قاعدہ کا پابند نہیں،نہ اسے کسی نتائج کی پرواہ ہے۔یہ انتہا ئی دولتمند اور پھیلنے والی قوم ہے۔ اس کا جغرافیہ اس کیلئے نعمت ہے اور دو وسیع سمندر اسے دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ پھر یہ وہ کیوںنہیں کرے گا جو وہ چاہتا ہے؟
ٹرمپ کاامریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کے کئی روزبعد قدرت کاملہ کا یہ تصور چکنا چور ہو چکا ہے۔ یہ جنگ اب عالمی معیشت کے مرکزی حصے میں لڑی جا رہی ہے۔مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے توانائی کی مارکیٹوں میں زلزلہ آگیا ہے ۔اگرجنگ خدا کاامریکیوں کو جغرافیہ کاسبق سکھانے کا طریقہ ہے تو اس میںٹرمپ کیلئے بھی ایک سبق ہے۔دوسری جگیںاور دوسرے لوگ بھی ایک حقیقت ہیں اور اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ امریکہ کے اقدامات کے نتائج ایسے نکلیں گے جسے وہ کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
٭٭٭