... loading ...
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
انسان اپنے آپ سے اُس وقت ناراض ہوتا ہے جب اُس کے اندر کا آئینہ اُس کا چہرہ پہچاننے سے انکار کر دے۔ یہ ناراضی باہر کی دنیا سے نہیں، اپنے وجود کے اُس حصے سے ہوتی ہے جو سچ جانتا ہے مگر ہمت نہیں کرتا۔ یہ کیفیت اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ—قبل از مسیح کے معبدوں سے لے کر آج کے شیشے کے شہروں تک یہی کشمکش سانس لیتی آئی ہے۔قدیم یونان میں سقراط نے کہا تھا:”اپنے آپ کو پہچانو”۔مگر خود شناسی کوئی آسان راستہ نہیں تھا؛ یہ دراصل اپنے باطن کی عدالت میں پیشی تھی۔ انسان اُس وقت اپنے آپ سے ناراض ہوتا تھا جب وہ جانتا تھا کہ وہ حق کے قریب تھا مگر مصلحت کے ہاتھوں ہار گیا۔ ایتھنز کی گلیوں میں سچ بولنے کی قیمت زہر کا پیالہ تھی، اور یہی وہ لمحہ ہے جب فرد اپنی خاموشی پر خود سے شرمندہ ہوتا ہے۔روم کی سلطنت میں، جہاں”روٹی اور تماشہ” سیاست کا اصول تھا، انسان اپنی کمزوری پر ناراض ہوتا تھا کہ وہ انصاف کے بدلے تماشے کو چن لیتا ہے۔ اسی کیفیت کو بعد میں سینیکا نے بیان کیا کہ سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے۔ جب انسان اپنی خواہش کے ہاتھوں اصول بیچ دے، وہ رات کو اپنے بستر پر خود سے آنکھ نہیں ملا پاتا۔مسیح کی تعلیمات میں ضمیر کو خدا کی آواز کہا گیا۔ جب انسان ظلم کے سامنے خاموش رہتا ہے، یا نفرت کو محبت پر ترجیح دیتا ہے، وہ اپنے اندر ایک خالی پن محسوس کرتا ہے۔ یہی ناراضی ہے—اپنی روح سے بغاوت کی سزا۔ قرونِ وسطیٰ میں صوفیا نے اسی کو”نفسِ امارہ” کا غلبہ کہا۔ جب نفس غالب آتا ہے اور دل ہار جاتا ہے، انسان اپنے آپ سے روٹھ جاتا ہے۔ نشاة ثانیہ میں جب انسان نے خود کو کائنات کا مرکز سمجھنا شروع کیا، تب بھی یہ ناراضی ختم نہ ہوئی۔ میکیاویلی نے سیاست کو اخلاق سے جدا کیا، مگر انسان کا دل اب بھی اخلاق کا طلبگار رہا۔ طاقت ملنے کے باوجود جب سکون نہ ملا تو انسان نے سمجھا کہ اس نے کچھ کھو دیا ہے—شاید اپنا آپ۔ جدید عہد میں، خاص طور پر صنعتی انقلاب کے بعد، انسان مشین بننے لگا۔ کارخانوں کے شور میں اُس کی باطنی آواز دب گئی۔ کارل مارکس نے اسے ”بیگانگی” کہا—انسان کا اپنے ہی وجود سے اجنبی ہو جانا۔ جب وہ اپنی محنت کے ثمر سے کٹ جائے، جب اُس کا کام اُس کی پہچان نہ رہے، وہ اپنے آپ سے ناراض ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی آزادی کیوں بیچ دی۔بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں نے انسان کو آئینہ دکھایا۔ تہذیب کے نام پر بربریت دیکھ کر وہ خود سے شرمندہ ہوا۔ ژاں پال سارتر نے کہا کہ انسان آزاد ہے اور اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں ہو سکتا۔ یہی آزادی کا بوجھ ہے—جب ہم غلط انتخاب کرتے ہیں تو الزام کسی اور پر نہیں ڈال سکتے۔ اپنی ناکامی کا سامنا کرنا ہی خود سے ناراضی کی اصل جڑ ہے۔ادب میں فیودور دوستوئیفسکی کے کردار اسی باطنی جنگ کے اسیر ہیں۔”جرم اور سزا”کا راسکولنیکوف صرف قانون سے نہیں، اپنے ضمیر سے بھی بھاگتا ہے۔
انسان اُس وقت اپنے آپ سے ناراض ہوتا ہے جب وہ اپنے ہی اصول توڑ دے، جب وہ اپنی نظر میں چھوٹا ہو جائے۔آج کے ڈیجیٹل عہد میں یہ ناراضی نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سوشل میڈیا کے چمکتے چہروں کے بیچ انسان اپنی حقیقت سے موازنہ کرتا ہے اور خود کو ناکافی سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے اس لیے ناراض ہوتا ہے کہ وہ دوسروں جیسا کیوں نہیں۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود جیسا بھی نہیں رہا؛ اُس نے اپنی سچائی کو پسندیدگی کے بٹن پر قربان کر دیا ہے۔انسان اپنے آپ سے تب بھی ناراض ہوتا ہے جب وہ اپنے خوابوں سے غداری کرے، جب وہ خوف کو حوصلے پر غالب آنے دے، جب وہ جانتا ہو کہ سچ کیا ہے مگر بول نہ سکے۔ یہ ناراضی دراصل ضمیر کی بیداری ہے؛ اگر ضمیر مر جائے تو ناراضی بھی ختم ہو جاتی ہے، اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔قبل از مسیح کے فلسفی سے لے کر آج کے تنہا انسان تک، یہ کہانی ایک ہی ہے: انسان اپنی کمزوری، اپنی منافقت، اپنی بے عملی اور اپنی خود فراموشی پر خود سے ناراض ہوتا ہے۔ مگر اسی ناراضی میں نجات کا امکان بھی چھپا ہے، کیونکہ جو شخص اپنے آپ سے سوال کر سکتا ہے، وہ خود کو بدل بھی سکتا ہے۔ ناراضی دراصل اندر کی عدالت ہے جہاں سزا بھی ہم ہیں اور منصف بھی ہم۔ جب ہم اپنے اندر کے سچ سے صلح کر لیتے ہیں تو یہی ناراضی خود شناسی میں بدل جاتی ہے—اور انسان پہلی بار خود سے راضی ہونا سیکھ لیتا ہے۔پاکستانی سماج کا انسان بھی اپنے آپ سے اُس وقت ناراض ہوتا ہے جب اُس کے اندر کا سچ اُس کی زبان تک نہیں آ پاتا۔ جب وہ جانتا کچھ اور ہے اور کہتا کچھ اور، جب وہ مانتا کچھ اور ہے اور کرتا کچھ اور۔ یہ ناراضی کسی ایک واقعے کی پیداوار نہیں، یہ برسوں کی خاموشیوں، سمجھوتوں اور چھوٹے چھوٹے جھوٹوں کا جمع شدہ بوجھ ہے جو دل پر تہہ در تہہ جم جاتا ہے۔یہاں انسان بچپن سے سیکھتا ہے کہ سچ ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کہ اصول اکثر راستہ روک لیتے ہیں، کہ تعلقات انصاف سے زیادہ قیمتی ہیں۔ وہ یہ سب سیکھتے سیکھتے بڑا ہو جاتا ہے، مگر اُس کے اندر کہیں ایک حصہ ایسا رہ جاتا ہے جو ہر بار سوال اٹھاتا ہے۔ جب وہ سفارش سے کام نکلوا کر خوش ہوتا ہے تو اسی خوشی کے پیچھے ایک ہلکی سی شرمندگی بھی سانس لیتی ہے۔ جب وہ نااہلی پر ہنستا ہے مگر اُسی نااہلی کو قبول بھی کرتا ہے، تو اُس کے اندر ایک خاموش سا اضطراب جنم لیتا ہے۔ یہی اضطراب خود سے ناراضی کی ابتدائی صورت ہے۔
پاکستانی انسان اکثر حالات کو کوستا ہے، نظام کو برا کہتا ہے، قیادت پر تنقید کرتا ہے، مگر تنہائی میں اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسی نظام کا ایک پرزہ ہے۔ وہ قطار توڑتے ہوئے نظام کو کمزور کرتا ہے، قانون کو معمولی سمجھ کر ریاست کو کھوکھلا کرتا ہے، اور پھر اسی کمزوری پر افسوس بھی کرتا ہے۔ یہ دوہرا پن اُس کے اندر ایک مستقل کشمکش پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا میں بھی وہی ہوں جس پر میں تنقید کرتا ہوں؟ اور جب جواب ہاں میں ملتا ہے تو وہ خود سے نظریں چُرا لیتا ہے۔اس معاشرے میں عزت کا تصور بھی عجیب ہے۔ لوگ دوسروں کی نظر میں اچھا دکھائی دینے کے لیے جیتے ہیں، اپنے ضمیر کی نظر میں اچھا ہونے کے لیے نہیں۔ دکھاوا یہاں ایک سماجی کرنسی ہے۔ مذہب، حب الوطنی، اخلاق—سب کا اظہار بلند آواز میں ہوتا ہے، مگر عملی زندگی میں اُن کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔ جب انسان کو اپنے قول و فعل کا فرق نظر آتا ہے تو وہ اندر ہی اندر ٹوٹتا ہے۔ مگر وہ اس ٹوٹنے کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے غصے، طنز یا مایوسی کی شکل دے دیتا ہے۔نوجوان کی کیفیت اور بھی پیچیدہ ہے۔ وہ خواب دیکھتا ہے، محنت کرتا ہے، مگر راستے بند پاتا ہے۔ وہ میرٹ کی بات سنتا ہے مگر سفارش کو جیتتے دیکھتا ہے۔ وہ انصاف کی امید رکھتا ہے مگر طاقت کو غالب پاتا ہے۔ ایسے میں وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا میری کوشش کم تھی یا یہ زمین ہی بنجر ہے؟ کبھی وہ خود کو قصوروار ٹھہراتا ہے، کبھی پورے سماج کو۔ مگر دونوں صورتوں میں اُس کے اندر ایک ناراضی پلتی ہے—یا اپنے آپ سے یا اپنے ماحول سے۔ اکثر یہ دونوں ناراضیاں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔
یہاں خوف بھی ایک بڑا عنصر ہے۔ سچ بولنے کا خوف، تنہا ہو جانے کا خوف، نقصان اٹھانے کا خوف۔ انسان جب خوف کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے تو وقتی سکون تو مل جاتا ہے، مگر ضمیر خاموش نہیں ہوتا۔ وہ یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم نے آسان راستہ چُنا تھا، درست نہیں۔ یہی یاد دہانی رات کے سناٹے میں خود سے ناراضی بن جاتی ہے۔پاکستانی سماج کا انسان مذہبی بھی ہے اور جذباتی بھی۔ وہ ظلم پر تڑپتا ہے، ناانصافی پر دکھ محسوس کرتا ہے، مگر عملی اقدام کے مرحلے پر رک جاتا ہے۔ اُس کی تڑپ اور اُس کی بے عملی کے درمیان جو خلا ہے، وہی اُس کی سب سے بڑی اذیت ہے۔ وہ خود کو بہادر سمجھنا چاہتا ہے مگر اپنی خاموشی دیکھ کر شرمندہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو دیانت دار سمجھنا چاہتا ہے مگر چھوٹے فائدے کے لیے اصول موڑ دیتا ہے۔ یہی تضاد اُس کے اندر ایک مستقل ناراضی کو جنم دیتا ہے۔اس ناراضی کی سب سے گہری شکل وہ ہے جب انسان اپنے خوابوں سے سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ جب وہ یہ کہہ کر دل کو مطمئن کرتا ہے کہ ”یہاں ایسا ہی ہوتا ہے”، تو دراصل وہ اپنے ہی امکانات کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ وہ جینا سیکھ لیتا ہے، مگر اُس کے اندر ایک حصہ ایسا رہ جاتا ہے جو کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ وہ حصہ ہر کامیابی کے بعد بھی پوچھتا ہے: کیا تم واقعی وہی بن سکے جو بننا چاہتے تھے؟
٭٭٭