وجود

... loading ...

وجود

خاموش چیخیں

منگل 10 مارچ 2026 خاموش چیخیں

بے لگام / ستار چوہدری

تاریخ گواہ ہے ، جب ظلم برداشت کرنا عادت بن جائے تو پھر ظلم کرنے والوں کے حوصلے اوربڑھ جاتے ہیں،پاکستان میں سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ حکمران بے حس ہیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم اب درد محسوس کرنا چھوڑتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ جس معاشرے میں ظلم روز کا معمول بن جائے وہاں چیخیں بھی آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل جاتی ہیں۔
پاکستان ایک عجیب ملک ہے ،یہاں گاڑیاں کم اورعوام زیادہ جلتے ہیں۔ سرکاری فائلوں کے سرد کاغذوں پر شاید یہ صرف چند اعدادوشمار ہوں، مگر حقیقت میں یہ اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخیں ہیں۔ سوچیے !! اس ملک میں بیوروکریٹس سال میں 250ارب روپے کا مفت پٹرول جلا دیتے ہیں، پارلیمنٹ کے ارکان اور ان کا عملہ مزید 200ارب روپے کا تیل پھونک دیتا ہے ۔ یعنی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ایک چھوٹا سا طبقہ سال میں 450ارب روپے کا پٹرول جلا دیتا ہے ۔۔۔ اور دوسری طرف وہی ملک ہے جہاں ایک مزدور موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پٹرول ڈلواتے ہوئے بھی جیب ٹٹولتا ہے ، وہ رکشہ ڈرائیور ہے جو شام کو حساب لگاتا ہے کہ آج پٹرول زیادہ جل گیا۔۔۔۔ بچوں کیلئے دودھ نہیں لے کرجاؤں گا، وہ کسان ، جو سوچتا ہے کہ ڈیزل مزید مہنگا ہوگیا، اس بارفصل کیسے اُگاؤں گا۔۔۔؟ لیکن اسلام آباد کی ایئرکنڈیشنڈ راہداریوں میں شاید یہ سوال کبھی نہیں گونجتا۔۔۔۔ کیونکہ۔۔ وہاں پٹرول نہیں جلتا وہاں خزانے جلتے ہیں۔۔۔۔ اوران کے شعلوں میں عوام کی امیدیں۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمت 321روپے فی لیٹر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں پٹرول کم اور حکومت کا ظلم زیادہ شامل ہے ۔ ہر لیٹر پر تقریباً 120روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے ۔ یعنی اگر کوئی مزدوراپنی موٹر سائیکل میں پانچ لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے تو وہ صرف تیل نہیں خریدتا، وہ 600 روپے حکومت کو ٹیکس میں دے رہا ہوتا ہے ۔ یہ وہی مزدور ہے جو صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے ، سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ، شام کو تھکا ہارا گھر آتا ہے اور پھر مہنگائی کی ایک نئی خبراس کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اور اسی وقت اسلام آباد کے سرکاری گھروں میں کھڑی سرکاری گاڑیوں کے ٹینک پورے بھرے ہوتے ہیں۔وہ گاڑیاں جو عوام کے پیسے سے خریدی گئیں۔ وہ تیل جو عوام کے پیسے سے خریدا گیا۔۔۔ اور وہ سفر جو عوام کے دکھوں سے بالکل بے خبر جاری رہتا ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف پچاس سے زائد غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔ سرکاری اعلانات کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ ایم او یو سائن کیے جا چکے ہیں۔ اخباروں میں تصویریں شائع ہوئیں، پریس کانفرنسیں ہوئیں، تالیاں بجیں، بیانات دیے گئے ۔ لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس سارے شور کے بعد پاکستان کے ہاتھ میں کیا آیا۔۔۔؟ایک روپے کی بھی نئی سرمایہ کاری نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہوا۔ پاکستان کے اپنے تاجر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں اپنے بورڈ اتار کر دوسرے ممالک کی طرف روانہ ہو رہی ہیں۔ یعنی حکومت دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے اور اپنے ہی گھر کے دروازے اندر سے خالی ہو رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے کارخانے ہوتے ہیں۔ وہی کارخانے جہاں مزدور کے ہاتھوں سے رزق پیدا ہوتا ہے ، جہاں مشینوں کی آواز دراصل معیشت کی دھڑکن ہوتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں یہ دھڑکن کمزور ہو چکی ہے ۔ کارخانے بند ہوگئے ۔ مینوفیکچرنگ تقریباً صفر کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ مشینیں خاموش ہیں، چمنیوں سے دھواں نہیں اٹھ رہا۔۔۔ اور مزدور اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اب ان ہاتھوں سے کیا کماؤں۔۔۔؟ لیکن اسلام آباد کے ایوانوں میں شاید یہ خاموشی سنائی نہیں دیتی۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 9ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں بھی بڑا حصہ سعودی عرب، امارات اور چین کے قرضوں کا ہے ۔ یعنی حقیقت یہ ہے کہ ملک کا خزانہ اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اگر بیرونی سہارے ہٹ جائیں تو معیشت زمین پر آ گرے ۔ لیکن اس کمزور خزانے کے باوجود بیوروکریسی کی گاڑیاں چل رہی ہیں، سرکاری پروٹوکول جاری ہے ، اور مراعات کی فہرستیں بدستور لمبی ہیں۔ قرض کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں اور سہولتوں کا لطف کوئی اور لے رہا ہے ۔
پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمی حالات خراب ہیں، جنگیں ہو رہی ہیں، معیشت دباؤ میں ہے ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی قربانی کی بات ہوتی ہے تو قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے ۔ کبھی کسی نے یہ نہیں سنا کہ بیورو کریسی کی گاڑیاں کم کر دی گئیں، وزیروں کے قافلے چھوٹے کر دیے گئے ، یا سرکاری مراعات ختم کر دی گئیں۔ یہاں قربانی کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوام مزید مہنگائی برداشت کریں عوام مزید ٹیکس دیں اور ساتھ خاموش رہیں۔ اور شاید اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ عوام واقعی خاموش ہیں۔وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، سب کچھ سمجھ رہے ہیں لیکن پھر بھی ہنس کر ظلم سہ رہے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم برداشت کرنا عادت بن جائے تو پھر ظلم کرنے والوں کے حوصلے اور بڑھ جاتے ہیں۔
آخر سوال یہ ہے کہ یہ ریاست کس کے لیے چل رہی ہے ۔۔۔؟ اس ملک کا مزدور ٹیکس دیتا ہے ، کسان ٹیکس دیتا ہے ، دکاندار ٹیکس دیتا ہے ، موٹر سائیکل والا بھی ہر لیٹر پٹرول میں ٹیکس دیتا ہے ۔ مگر جب خزانہ خالی ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے عوام قربانی دیں، یہاں ہر بحران کا ایک ہی حل ہے عوام کی جیب میں ہاتھ ڈال دو۔پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، گیس مہنگی اورزندگی سستی۔ اور شاید اس ملک کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ حکمران بے حس ہیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم بھی اب درد محسوس کرنا چھوڑتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ جس معاشرے میں ظلم روز کا معمول بن جائے وہاں چیخیں بھی آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل جاتی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

خاموش چیخیں وجود منگل 10 مارچ 2026
خاموش چیخیں

بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر