... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
تاریخ گواہ ہے ، جب ظلم برداشت کرنا عادت بن جائے تو پھر ظلم کرنے والوں کے حوصلے اوربڑھ جاتے ہیں،پاکستان میں سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ حکمران بے حس ہیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم اب درد محسوس کرنا چھوڑتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ جس معاشرے میں ظلم روز کا معمول بن جائے وہاں چیخیں بھی آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل جاتی ہیں۔
پاکستان ایک عجیب ملک ہے ،یہاں گاڑیاں کم اورعوام زیادہ جلتے ہیں۔ سرکاری فائلوں کے سرد کاغذوں پر شاید یہ صرف چند اعدادوشمار ہوں، مگر حقیقت میں یہ اعدادوشمار نہیں بلکہ ایک قوم کی چیخیں ہیں۔ سوچیے !! اس ملک میں بیوروکریٹس سال میں 250ارب روپے کا مفت پٹرول جلا دیتے ہیں، پارلیمنٹ کے ارکان اور ان کا عملہ مزید 200ارب روپے کا تیل پھونک دیتا ہے ۔ یعنی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا ایک چھوٹا سا طبقہ سال میں 450ارب روپے کا پٹرول جلا دیتا ہے ۔۔۔ اور دوسری طرف وہی ملک ہے جہاں ایک مزدور موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پٹرول ڈلواتے ہوئے بھی جیب ٹٹولتا ہے ، وہ رکشہ ڈرائیور ہے جو شام کو حساب لگاتا ہے کہ آج پٹرول زیادہ جل گیا۔۔۔۔ بچوں کیلئے دودھ نہیں لے کرجاؤں گا، وہ کسان ، جو سوچتا ہے کہ ڈیزل مزید مہنگا ہوگیا، اس بارفصل کیسے اُگاؤں گا۔۔۔؟ لیکن اسلام آباد کی ایئرکنڈیشنڈ راہداریوں میں شاید یہ سوال کبھی نہیں گونجتا۔۔۔۔ کیونکہ۔۔ وہاں پٹرول نہیں جلتا وہاں خزانے جلتے ہیں۔۔۔۔ اوران کے شعلوں میں عوام کی امیدیں۔
پاکستان میں پٹرول کی قیمت 321روپے فی لیٹر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں پٹرول کم اور حکومت کا ظلم زیادہ شامل ہے ۔ ہر لیٹر پر تقریباً 120روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے ۔ یعنی اگر کوئی مزدوراپنی موٹر سائیکل میں پانچ لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے تو وہ صرف تیل نہیں خریدتا، وہ 600 روپے حکومت کو ٹیکس میں دے رہا ہوتا ہے ۔ یہ وہی مزدور ہے جو صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا ہے ، سارا دن دھوپ میں کام کرتا ہے ، شام کو تھکا ہارا گھر آتا ہے اور پھر مہنگائی کی ایک نئی خبراس کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہے ۔ اور اسی وقت اسلام آباد کے سرکاری گھروں میں کھڑی سرکاری گاڑیوں کے ٹینک پورے بھرے ہوتے ہیں۔وہ گاڑیاں جو عوام کے پیسے سے خریدی گئیں۔ وہ تیل جو عوام کے پیسے سے خریدا گیا۔۔۔ اور وہ سفر جو عوام کے دکھوں سے بالکل بے خبر جاری رہتا ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف پچاس سے زائد غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔ سرکاری اعلانات کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ ایم او یو سائن کیے جا چکے ہیں۔ اخباروں میں تصویریں شائع ہوئیں، پریس کانفرنسیں ہوئیں، تالیاں بجیں، بیانات دیے گئے ۔ لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس سارے شور کے بعد پاکستان کے ہاتھ میں کیا آیا۔۔۔؟ایک روپے کی بھی نئی سرمایہ کاری نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہوا۔ پاکستان کے اپنے تاجر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں اپنے بورڈ اتار کر دوسرے ممالک کی طرف روانہ ہو رہی ہیں۔ یعنی حکومت دنیا بھر کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے اور اپنے ہی گھر کے دروازے اندر سے خالی ہو رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے کارخانے ہوتے ہیں۔ وہی کارخانے جہاں مزدور کے ہاتھوں سے رزق پیدا ہوتا ہے ، جہاں مشینوں کی آواز دراصل معیشت کی دھڑکن ہوتی ہے ۔ لیکن پاکستان میں یہ دھڑکن کمزور ہو چکی ہے ۔ کارخانے بند ہوگئے ۔ مینوفیکچرنگ تقریباً صفر کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ مشینیں خاموش ہیں، چمنیوں سے دھواں نہیں اٹھ رہا۔۔۔ اور مزدور اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ اب ان ہاتھوں سے کیا کماؤں۔۔۔؟ لیکن اسلام آباد کے ایوانوں میں شاید یہ خاموشی سنائی نہیں دیتی۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 9ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں بھی بڑا حصہ سعودی عرب، امارات اور چین کے قرضوں کا ہے ۔ یعنی حقیقت یہ ہے کہ ملک کا خزانہ اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اگر بیرونی سہارے ہٹ جائیں تو معیشت زمین پر آ گرے ۔ لیکن اس کمزور خزانے کے باوجود بیوروکریسی کی گاڑیاں چل رہی ہیں، سرکاری پروٹوکول جاری ہے ، اور مراعات کی فہرستیں بدستور لمبی ہیں۔ قرض کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں اور سہولتوں کا لطف کوئی اور لے رہا ہے ۔
پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمی حالات خراب ہیں، جنگیں ہو رہی ہیں، معیشت دباؤ میں ہے ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی قربانی کی بات ہوتی ہے تو قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے ۔ کبھی کسی نے یہ نہیں سنا کہ بیورو کریسی کی گاڑیاں کم کر دی گئیں، وزیروں کے قافلے چھوٹے کر دیے گئے ، یا سرکاری مراعات ختم کر دی گئیں۔ یہاں قربانی کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوام مزید مہنگائی برداشت کریں عوام مزید ٹیکس دیں اور ساتھ خاموش رہیں۔ اور شاید اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ عوام واقعی خاموش ہیں۔وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، سب کچھ سمجھ رہے ہیں لیکن پھر بھی ہنس کر ظلم سہ رہے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم برداشت کرنا عادت بن جائے تو پھر ظلم کرنے والوں کے حوصلے اور بڑھ جاتے ہیں۔
آخر سوال یہ ہے کہ یہ ریاست کس کے لیے چل رہی ہے ۔۔۔؟ اس ملک کا مزدور ٹیکس دیتا ہے ، کسان ٹیکس دیتا ہے ، دکاندار ٹیکس دیتا ہے ، موٹر سائیکل والا بھی ہر لیٹر پٹرول میں ٹیکس دیتا ہے ۔ مگر جب خزانہ خالی ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے عوام قربانی دیں، یہاں ہر بحران کا ایک ہی حل ہے عوام کی جیب میں ہاتھ ڈال دو۔پٹرول مہنگا، بجلی مہنگی، گیس مہنگی اورزندگی سستی۔ اور شاید اس ملک کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ نہیں کہ حکمران بے حس ہیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم بھی اب درد محسوس کرنا چھوڑتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ جس معاشرے میں ظلم روز کا معمول بن جائے وہاں چیخیں بھی آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل جاتی ہیں۔
٭٭٭