وجود

... loading ...

وجود

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

پیر 09 مارچ 2026 عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنے کے بعد مغربی ممالک کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ امریکی نیوی آئل ٹینکرز کو آبنا ئے ہرمز سے گزرنے کے لیے مدد فراہم کرے۔ اس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد اور قدرتی گیس ایل این جی کا 30فیصد حصہ گزرتا ہے ۔امریکہ کے توانائی کے ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن ای آئی اے کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہوگئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسی بھی وجہ سے یہ گزرگاہ بند رہتی ہے تو نہ صرف عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو فوری بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر ان ممالک پر پڑے گا جو خلیجی ریاستوں سے تیل درآمد کرتے ہیں پاکستان بھی انہی ملکوں میں شامل ہے کیونکہ اس کی تقریبا 90فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے آتی ہیں۔ پاکستان کے بڑے سپلائرز میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں اور ان سب کی برآمدات بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتی ہیں۔ سعودی عرب کی تقریبا 80 سے 90 فیصد آئل ایکسپورٹس بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں جبکہ محدود مقدار متبادل پائپ لائنز یا دیگر روٹس کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔ اس لیے بندش کی صورت میں سعودی معیشت بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 110 یا 120 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں مہنگائی کا شدید طوفان ا سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراج بڑھیں گے بلکہ صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہونگیں اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسا بقتی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی مسائل اور دہشت گردی کے واقعات پہلے ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں ،اگر توانائی بحران بھی اس میں شامل ہو گیا تو اس کے معاشی اور سلامتی سے متعلق اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں کیونکہ موجودہ دور میں ہر شعبے کا دارومدار ایندھن اور توانائی پر ہے۔ موجودہ صورت حال طویل عرصے تک برقرار رہنا عالمی معیشت کے لیے بہت بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ لہٰذا تمام متعلقہ ممالک کو سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کر کے عالمی اور علاقائی معیشت کو استحکام دینا ہوگا ۔
ماہرین نے آبنائے ہرمز کے راستوں کی بندش کو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا نقصان کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں تقسیم کاراداروں اور مجموعی صنعتی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے کیونکہ توانائی ہر شعبے کی بنیادی ضرورت ہے ۔آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک بحری پٹی ہے ۔اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ 33کلومیٹر چوڑی ہے لیکن اس مقام پر جہاز رانی کا راستہ صرف 3کلومیٹر چوڑا ہے ۔آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہ میں سے ایک ہے ،جہاں روزانہ 30سے 40بحری جہاز گزرتے ہیں ۔یہ جہاز دو کروڑ سے زیادہ بیرل تیل لے کر جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ تمام خطے کا جانے والا ساز و سامان بھی اسی راستے سے آتا ہے۔ آبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے ۔البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جاتی ہے، ایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔ امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا اس کشیدگی سے ایک طرف ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک کی معیشت متاثر ہوگی تو دوسری طرف پہلے سے معاشی مشکلات سے دوچار افغانستان بھی متاثر ہوگا ۔اس تنازع سے افغانستان وسطی ایشیا پاکستان اور انڈیا بھی متاثر ہوگا کیونکہ یہ ایک قسم کا بلاکیج بن گیا ہے اور سب سے بڑا اثر افغانستان پر ہوگا ۔ایک طرف افغانستان کی پاکستان سے جنگ تو دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جھڑپیں اس سے افغانستان میں مہنگائی بڑھے گی اور معیشت بری طرح متاثر ہوگی ۔افغانستان اورایران کے درمیان زمینی تجارتی راستہ کابل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی وجہ افغانستان کی جانب سے ایران کی درآمدات پرانحصار ہے ۔اسی طرح گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ حالات کی وجہ سے برآمدات میں بھی 23فیصد کمی آئی کیونکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی راستے بند ہو گئے تھے۔ افغانستان کی ضروری اشیاء کا زیادہ تر انحصار ایران پر ہے، اور اب ایران میں جنگ کی کیفیت ہے تو اس کا اثر افغانستان پر آئے گا۔ افغانستان وسطی ایشیا ممالک کو بھی دیکھتا ہے لیکن وہ راستہ طویل ہے اور ایران، انڈیا اور پاکستان ان کے لیے آسان ہے لیکن جب یہاں کشیدگی ہو تو افغانستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران افغانستان کا سب سے بڑا درآمدی پارٹنر ہے اور ورلڈ بینک کے مطابق کابل کی 29 فیصد درآمدات ایران سے آتی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ یہ واضح نظر آرہا ہے کہ اگر ایران امریکہ اسرائیل جنگ طول پکڑتی ہے تو عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا بحران سنبھل نہیں پائے گا ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر