... loading ...
اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ
۔۔۔۔۔۔
انسان کے اندر اندھیرا کسی ایک لمحے میں پیدا نہیں ہوتا، یہ آہستہ آہستہ جمع ہونے والا سایہ ہے، اور اس سائے کو سمجھنے کے لیے دوستوئیفسکی کا ناول”Crime and Punishment”سب سے گہرا اور بے رحم آئینہ ہے۔ یہ ناول ہمیں بتاتا ہے کہ اندھیرا تب جنم لیتا ہے جب انسان خود کو دوسروں سے الگ، برتر اور تنہا سمجھنا شروع کر دیتا ہے، جب وہ یہ مان لیتا ہے کہ اس کے دکھ منفرد ہیں اور اس کے اصول عام انسانوں پر لاگو نہیں ہوتے۔ راسکولنیکوف کا اندھیرا غربت سے نہیں بلکہ اس خیال سے پیدا ہوتا ہے کہ کچھ انسان ”غیر معمولی” ہوتے ہیں اور انہیں قانون، اخلاق اور ہمدردی سے آزاد ہونا چاہیے۔ یہی لمحہ ہے جب عقل، اخلاق سے کٹ جاتی ہے، اور یہی کٹاؤ انسان کے اندر اندھیرے کی پہلی اینٹ رکھتا ہے۔ دوستوئیفسکی اس اندھیرے کو کسی دیو یا شیطان کی صورت میں پیش نہیں کرتا بلکہ ایک ذہنی دلیل، ایک منطقی نظریے کے طور پر دکھاتا ہے۔ راسکولنیکوف اپنے جرم کو انصاف کا نام دیتا ہے، وہ قتل کو سماجی خدمت سمجھنے لگتا ہے، اور یہی وہ خطرناک موڑ ہے جہاں زبان، تصور اور اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ فلسفیانہ طور پر یہ وہ مقام ہے جہاں ہیگلین عظمت یا نطشے کے ”سپر مین” کا خام تصور انسانی ہمدردی کو کچل دیتا ہے۔
انسان جب خود کو تاریخ کا جج سمجھنے لگے تو اندھیرا ذاتی نہیں رہتا، اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ انسان کے اندر اندھیرا کوئی جدید نفسیاتی حادثہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ساتھ جنم لینے والا ایک قدیم تجربہ ہے۔ قبلِ مسیح کے اساطیری زمانے سے لے کر آج کی جدید ریاست اور فرد تک، اندھیرے کی پیدائش کا ایک ہی بنیادی لمحہ ہے: جب طاقت، خوف، انا یا نظریہ انسان کو دوسرے انسان سے کاٹ دے۔ تاریخ، فلسفہ اور ادب تینوں مل کر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ اندھیرا فطرت میں نہیں، فیصلے میں پیدا ہوتا ہے۔قبلِ مسیح یونانی المیہ اس اندھیرے کا پہلا بڑا ادبی اظہار ہے۔ سوفوکلیز کے ”اوڈیپس ریکس” میں اوڈیپس کوئی ظالم بادشاہ نہیں، مگر وہ سچ جاننے کے جنون میں اپنی حد بھول جاتا ہے۔ یہاں اندھیرا لاعلمی سے نہیں بلکہ اس غرور سے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے وہ تقدیر کو عقل سے شکست دے سکتا ہے۔ ہیراکلیٹس کا قول ہے:”انسان کا کردار ہی اس کی تقدیر ہے”—اوڈیپس کا کردار، اس کی ضد اور خود اعتمادی، اسے اسی انجام تک لے جاتی ہے جہاں سچ روشنی نہیں بلکہ اندھیرا بن جاتا ہے۔ فلسفیانہ طور پر یہ وہ لمحہ ہے جب عقل، عاجزی سے جدا ہو جاتی ہے۔ افلاطون کی ”ری پبلک” میں اندھیرے کی تمثیل غار کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ انسان زنجیروں میں جکڑا سایوں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ یہاں اندھیرا جہالت سے نہیں بلکہ عادت اور طاقت کے نظم سے پیدا ہوتا ہے۔ افلاطون کہتا ہے:”جہالت برائی کی جڑ ہے”، مگر وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جو شخص غار سے باہر جا کر سچ دیکھ لے، اگر وہ واپس آ کر طاقت کے نظام کو چیلنج کرے تو وہی سب سے بڑا مجرم ٹھہرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سچ بولنا اندھیرے کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔ رومی دور میں تھوسی ڈائیڈیز نے طاقت کے فلسفے کو ایک جملے میں قید کر دیا:”طاقتور وہی کرتے ہیں جو کر سکتے ہیں، کمزور وہی سہتے ہیں جو انہیں سہنا پڑتا ہے”۔ یہ قول انسانی تاریخ میں اندھیرے کی مستقل منطق بن گیا۔ سلطنتیں، جنگیں اور غلامی اسی سوچ سے پیدا ہوئیں۔ اندھیرا یہاں ذاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہو جاتا ہے۔ مذہبی روایت میں بھی یہی اندھیرا مختلف شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ بائبل میں قابیل کا ہابیل کو قتل کرنا پہلا انسانی قتل ہے، اور اس کی وجہ نفرت نہیں بلکہ حسد اور برتری کا احساس ہے۔ قرآن میں فرعون کی مثال ایک ایسے حکمران کی ہے جو کہتا ہے:”انا ربکم الاعلیٰ”—یہ اعلان دراصل اندھیرے کی بلند ترین سطح ہے، جہاں طاقت خود کو خدا سمجھنے لگتی ہے۔ ابنِ خلدون صدیوں بعد لکھتا ہے:”ظلم تہذیب کی تباہی کا اعلان ہوتا ہے”۔ یعنی اندھیرا صرف فرد کو نہیں، پوری تہذیب کو کھا جاتا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں انکوئزیشن اور مذہبی جنگیں اس اندھیرے کی مثال ہیں جہاں سچ پر اجارہ داری قائم کی گئی۔ آگسٹین کا قول ”غلطی کرنا انسانی ہے” یہاں الٹ دیا گیا، کیونکہ غلطی اب جرم نہیں بلکہ کفر بن گئی۔ جب سوال پوچھنا گناہ ہو جائے، وہی لمحہ اندھیرے کی اجتماعی پیدائش کا ہوتا ہے۔ جدید دور میں ہابس کہتا ہے:”انسان انسان کا بھیڑیا ہے”۔ یہ جملہ اندھیرے کو انسانی فطرت میں قید کرنے کی کوشش ہے، مگر روسو اس کے مقابل کہتا ہے:”انسان فطرتاً اچھا ہے، سماج اسے بگاڑ دیتا ہے”۔ یہاں فلسفیانہ بحث واضح کرتی ہے کہ اندھیرا ناگزیر نہیں بلکہ سماجی ساخت کا نتیجہ ہے۔ انیسویں صدی میں نطشے خبردار کرتا ہے:”جو شخص عفریتوں سے لڑتا ہے، اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ خود عفریت نہ بن جائے”۔ یہ قول بیسویں صدی میں ہٹلر، اسٹالن اور نوآبادیاتی قوتوں کی صورت میں سچ ثابت ہوا۔ نظریہ، قوم، نسل اور ترقی کے نام پر انسان نے ایسی تباہی پھیلائی کہ ہولوکاسٹ جیسا لفظ انسانی لغت میں شامل ہو گیا۔ یہاں اندھیرا اس وقت پیدا ہوا جب انسان کو ایک عدد، ایک نسل، ایک دشمن بنا دیا گیا۔ ہنہ آرنٹ نے اسے”The Banality of Evil”کہا—یعنی برائی اکثر کسی شیطانی جنون سے نہیں بلکہ معمولی اطاعت، خاموشی اور حکم ماننے سے جنم لیتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں عام آدمی اندھیرے کا سب سے مؤثر ہتھیار بن جاتا ہے۔ ادب میں یہی اندھیرا ، کافکا اور آرویل میں نظر آتا ہے۔ کافکا بتاتا ہے کہ بے چہرہ نظام انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔ آرویل دکھاتا ہے کہ جب ریاست سچ پر قبضہ کر لے تو انسان خود اپنے ذہن کا دشمن بن جاتا ہے۔
آج کے دور میں اندھیرا ٹینکوں یا تختوں میں نہیں بلکہ ڈیٹا، خوف، نفرت اور خاموشی میں چھپا ہے۔ فوکو کہتا ہے:”طاقت صرف مارتی نہیں، وہ سچ پیدا بھی کرتی ہے”۔ یعنی آج اندھیرا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان جھوٹ کو سچ اور جبر کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔ انسانی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اندھیرا کسی خاص دور، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں۔ یہ ہر اس لمحے پیدا ہوتا ہے جب انسان خود کو مطلق سچ، مطلق طاقت یا مطلق مظلوم سمجھ لیتا ہے۔ روشنی بھی اسی تاریخ میں موجود ہے، مگر وہ ہمیشہ کمزور، خاموش اور خطرے میں رہی ہے۔ فلسفے اور ادب کا کام یہی ہے کہ وہ ہمیں یاد دلاتے رہیں: اندھیرا باہر سے نہیں آتا، یہ انسان کے اندر اس دن جنم لیتا ہے جس دن وہ دوسرے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس تمام تاریخی و فلسفیانہ پس منظر میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ اخلاقی ہم آہنگی کی کمی ہے۔ اندھیرا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاست خود کو عوام سے برتر اور عوام خود کو مکمل مظلوم سمجھنے لگیں۔ مطلق طاقت اور مطلق مظلومیت دونوں خطرناک تصورات ہیں، کیونکہ دونوں مکالمے کو ختم کر دیتے ہیں۔ روشنی اسی وقت ممکن ہے جب ریاست قانون کو سب پر یکساں نافذ کرے، سماج اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے، اور فرد دوسرے انسان کو محض شناخت یا ووٹ نہیں بلکہ ایک زندہ چہرہ سمجھے۔
یوں انسانی تاریخ کی طرح پاکستان کی کہانی بھی یہی سبق دیتی ہے کہ اندھیرا کسی خاص قوم کا مقدر نہیں۔ یہ فیصلوں سے پیدا ہوتا ہے اور فیصلوں سے ہی ختم ہو سکتا ہے۔ جب طاقت عاجزی کے ساتھ، نظریہ ہمدردی کے ساتھ، اور قانون انصاف کے ساتھ جڑ جائے تو وہی تاریخ جو اندھیرے سے بھری ہے، روشنی کا امکان بھی پیدا کر دیتی ہے۔
٭٭٭