وجود

... loading ...

وجود

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

جمعرات 05 مارچ 2026 مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

محمد آصف

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے ۔ حالیہ دنوں ایرانی اور چینی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً سیٹلائٹ نگرانی اور ہائپرسونک میزائلوں نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے ۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین کے سیٹلائٹ نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی معلومات نے ایران کو اپنے اہداف کے درست مقامات تک رسائی دی، جس کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام شدید دباؤ میں آ گئے ۔ اگرچہ ان دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن یہ امر واضح ہے کہ جدید جنگ اب صرف روایتی اسلحے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیٹا، رفتار اور درستگی فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب( Islamic Revolutionary Guard Corps) کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کو مربوط حکمت عملی کے تحت استعمال کیا۔ اسرائیل کا معروف دفاعی نظام آئرن ڈوم اور امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم اس نئی طرز کی جنگ میں مسلسل آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ کم لاگت ڈرونز کے مقابلے میں مہنگے انٹرسیپٹر میزائلوں کا استعمال عسکری توازن اور پائیداری کے حوالے سے سوالات پیدا کر رہا ہے ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر سستی اور بڑی تعداد میں دستیاب ٹیکنالوجی مہنگے نظاموں کو تھکا دے تو طویل المدت جنگ میں برتری کا معیار بدل سکتا ہے ۔
خلیجی خطے میں امریکی موجودگی بھی اس کشیدگی کا اہم پہلو ہے ۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں قائم یونائیٹڈ اسٹیٹ ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر امریکی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہاں موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان اطلاعات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ اگر واقعی امریکی مواصلاتی یا دفاعی نظام متاثر ہوئے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ
عالمی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کے اندرونی حالات بھی اس جنگی ماحول سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تل ابیب اور حیفہ جیسے اہم شہروں سے عوامی بے چینی، پناہ گاہوں میں ہجوم اور حکومتی اقدامات پر تنقید کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وزیرِاعظم نتین یاہوکی قیادت میں حکومت کو ایک طرف بیرونی خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف اندرونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے ۔ جنگی حالات میں اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر لیتی ہے ،جہاں ہر فریق نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
خطے کی کشیدگی کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے ، جسے Strait of Hormuz کے نام سے جانا جاتا ہے ۔یہ عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے ۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ بحرین، متحدہ عرب امارات ، سعودی عربیہ اور قطرجیسی ریاستیں نہ صرف توانائی کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور درآمدی خوراک پر بھی ان کی معیشت کا بڑا حصہ قائم ہے ۔ کسی بڑے تصادم کی صورت میں ان ممالک کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا نتیجہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اتار چڑھاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے ۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں کہ ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام نے بعض حملوں کی تصدیق کی، مگر نقصانات کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی۔ ایک طیارہ بردار جہاز پر ہزاروں اہلکار اور جدید جنگی سازوسامان موجود ہوتا ہے ، اس لیے اس نوعیت کا کوئی بھی واقعہ عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔ تاہم جنگی حالات میں معلومات کا محدود اجراء بھی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے تاکہ عوامی ردعمل اور عالمی تاثر کو قابو میں رکھا جا سکے ۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ کے ابتدائی دن اکثر فیصلہ کن نہیں ہوتے ۔ ویتنام امریکہ کی طویل مداخلت، افغانستان میں بیس سالہ جنگ، اورعراق میں پیچیدہ حالات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عسکری طاقت ہمیشہ سیاسی استحکام میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ جدید جنگیں اکثر طویل اور تھکا دینے والی شکل اختیار کر لیتی ہیں جہاں معاشی دباؤ، داخلی سیاست اور عوامی رائے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ایک کثیر قطبی عالمی نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہے ، جہاں امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کو چیلنج درپیش ہے اور چین و دیگر علاقائی طاقتیں زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عالمی طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی یہ پیش رفت عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمتِ عملی کے
لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے ۔
آخرکار یہ تصادم صرف میزائلوں اور بحری بیڑوں کی جنگ نہیں بلکہ نظریات، معیشت اور اطلاعات کی جنگ بھی ہے ۔ اگر سفارتی راستے اختیار نہ کیے گئے تو خطہ ایک طویل اور غیر یقینی کشمکش کی طرف بڑھ سکتا ہے ، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے ۔ تاریخ کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے ، اورآنے والے برس طے کریں گے کہ یہ بحران عالمی نظام کو کس سمت لے جاتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی وجود جمعرات 05 مارچ 2026
چون بہنوں کا اکلوتا بھائی

Crime and Punishment وجود جمعرات 05 مارچ 2026
Crime and Punishment

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ وجود جمعرات 05 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی جنگ ۔۔عالمی سیاست کا نیا منظرنامہ

تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر