وجود

... loading ...

وجود

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

هفته 07 فروری 2026 8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

ب نقاب /ایم آر ملک

جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: “آپ کہاں قیام کریں گے؟”
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: “ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔”
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: “ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔”
اس پر ویت نامی نے کہا:
“ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔”
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
“ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔”
ایک دن جنرل “جیاب” جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے، نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی “انقلابی” تنظیمیں موجود تھیں۔وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا: “آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی !”
انہوں نے پوچھا: “کیوں؟”
جنرل جیاب نے جواب دیا:
“کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے”۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔اور جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
آج پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں ایسے مفاد پرست غداروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جنہوں نے عمران خان کے نام پر ووٹ لئے مگر اس کے نظریئے کو بیچ ڈالا ،جو پی ٹی آئی کے ساتھ منسلک ہونے سے قبل مسائل کی چکی میں پستے عوام کے کندھوں پر سوار ہوکر ایوان اقتدار تک پہنچنے کی تدبیریں کرتے رہے لیکن ان کو عوام نے مسترد کردیا ،مگر جب عمران خان کا نام لیکر یہ عوام کی عدالت میں پہنچے تو سرخرو ہوئے اس وقت تحریک انصاف کے پاس قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے لیکر سینیٹ تک سارے پلیٹ فارم موجود ہیں لیکن ان پلیٹ فارمز پر عمران خان کی قید تنہائی کے بارے میں کبھی بھر پورآواز نہیں اُٹھائی جاتی ، احتجاج نہیںہوتا ،یہ ممبران سینیٹ کے ہوں یااسمبلی کے سیشن اٹینڈ کرتے ہیں ،پروٹوکول انجوائے کرتے ہیں مگر عمران خان کے نظریات سے مخلص نہیں ،اڈیالہ کے گیٹ پر ہر منگل کو راولپنڈی کے نظریاتی ورکرز کو ہتھکڑیاں لگتی ہیں ،تشدد ہوتا ہے ،علیمہ خانم ،نورین خانم ،عظمیٰ خانم پر کہر آلود راتوں میں پانی کی بوچھاڑہو تی ہے ،عظمیٰ ملک جیسی خواتین ورکرز ہر منگل ایک نئی آس ایک نئے جذبے ،ایک جوش اور ولولے کے ساتھ گھروں کی دہلیز پار کرتی ہیںمگر لاوارث ورکروں کی قطار میں نہ تو قیادت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی عوامی نمائندہ ،اگر کوئی ایم پی اے یا ایم این اے وہاں پہنچتا بھی ہے تو صرف وکٹری کا نشان بنا کر تصاویر بنوانے تک ،پنجاب بھر سے لے کرراولپنڈی تک ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس پارٹی کے عہدے ہیں مگر ان کی کار کردگی یہ ہے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر کسی نیوزپیپر میں خبریں لگوا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا ،پارٹی کے ان عہدیداروں کو نہ تو کبھی ہتھکڑی لگی اور نہ ہی ان پر کبھی کوئی ایف آئی آر کٹی ،ماضی میں یہ لوگ جس طرح متحرک رہے ،جس جرأت اور اخلاص کے ساتھ باہر نکلے، ان کی یہ روش ورکرز کی صفوں میں ناقابل فہم محسوس ہوتی ہے ،اصولی طور پر کوئی بھی عوامی تحریک کسی حقیقی بنیاد کے بغیر نہیں اُٹھ سکتی ،آج اس تحریک کی حقیقی بنیاد یہی ہے کہ ایک عوامی لیڈر شپ بغیر کسی جرم اور قصور کے پابند سلاسل ہے ،9مئی کے واقعے کے بعد نوجوانوں میں پائی جانے والی تلخی کسی جادو منتر کا نتیجہ نہیں ،یہ چار برس کی ناانصافیوں ،جرم بے گناہی میں بننے والے مقدمات ،چادر چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے ،خواتین کی تذلیل ،جھوٹے مقدمات کے تسلسل ،پولیس گردی کے کڑوے کسیلے پھل ہیں ، لاوا پک چکا ہے لوگ اپنی جانیں دینے کیلئے خواہ مخواہ تیار نہیں ہوجاتے ،یہ مرحلہ تب آتا ہے جب ان کیلئے چین سے جینا ناممکن بنا دیا جائے ،تنگ آمد ،بجنگ آمد تک نوبت اس وقت پہنچتی ہے جب لوگ مرنے ،مارنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں، اس کیفیت میں ہر حلقہ انتخاب سے ایک مخلص اور ہمدرد قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس مظلوم طبقہ کی رہنمائی کرے کیونکہ ان کے مد مقابل وہ فسطائی حکمران ہیں جنہوں نے تعصبات اور نفرتوں کی آگ بھڑکاکر ،بھائی کو بھائی سے لڑا کر ،خون کے دریا بہا کر ،لاشوں کے مینار سجاکر سیاست کی منڈی میں اپنے دام بڑھائے ،دیکھنا یہ ہے کہ 8فروری کے دن یہ ممبران اسمبلی عمران خان کے نظریئے یاورکروں کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں ؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر