وجود

... loading ...

وجود

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

جمعه 06 فروری 2026 '' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

بے لگام / ستار چوہدری

بی ایل اے کے پیچھے بھارت ہے ،ٹی ٹی پی کے پیچھے افغانستان ہے ،افغانستان کے پیچھے بھارت ہے ، بھارت کے پیچھے اسرائیل ہے ، اسرائیل کے پیچھے امریکا ہے ،امریکا ہمارا دوست ہے ،ٹرمپ روزہماری تعریفیں کرتا ہے ۔۔۔ بہت سخت کنفیوژن ہے ، دماغ خراب ہوا پڑا ہے ، کچھ سمجھ نہیں آرہا، یااللہ !! مجھے سمجھ عطا فرما، یہ ہوکیا رہا ہے ۔۔۔۔
ایک بات یاد رکھیں، تاریخ کسی کو نہیں بخشتی، وہ لکھے گی، یہ وہ ریاست تھی جو ہردشمن پہچانتی تھی مگرخود کو نہیں۔۔۔ہم ایک ہی سانس میں اس سے قرض بھی لیتے ہیں اور اسی سانس میں اسے سازش بھی کہتے ہیں، یہ عجیب جغرافیہ ہے جہاں دشمن ہمارے بینک اکاؤنٹس میں رہتا ہے اوردوست ہمارے قبرستانوں میں، وہ کہتے ہیں افغانستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے لیکن افغانستان کو ہم نے خود ہتھیار، سرحدیں اورخاموشی دی تھی، ہم نے طالبان کو فتح کا ہار پہنایا اورآج ان کے سائے میں اپنے جنازے اٹھا رہے ہیں، یہ کیسا انتقام ہے جو ہمارے فیصلوں سے ہمیں ہی ماررہا ہے ۔۔۔۔؟
ہم ہرلاش کے بعد ایک نیا دشمن تراش لیتے ہیں، جیسے درزی ہر پھٹے کپڑے پر نیا پیوند لگاتا ہے مگرکپڑا آخرکارچیتھڑے ہی بنتا ہے ، ہمیں سچ نہیں چاہیے ،ہمیں ایک خوبصورت کہانی چاہیے ، جس میں ہم ہمیشہ مظلوم ہوں اورباقی دنیا ہمیشہ ظالم، کیونکہ جو قوم خود کو قصوروارمان لے وہ بدل سکتی ہے اورجو قوم صرف سازش ڈھونڈے وہ مرجاتی ہے ۔ہم کہتے ہیں،افغانستان دشمن ہے کیونکہ وہاں سے گولیاں آتی ہیں مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ وہی افغانستان کل تک ہمارا فخرتھا، ہماری اسٹرٹیجک ڈیپتھ، ہماری فتح کی تصویر، ہم نے جس درخت کو اپنے ہاتھوں سے سینچا، آج اسی کی شاخیں ہمارا گلا کاٹ رہی ہیں، ہم نے دنیا کو کہا تھا، دیکھو !! ہم نے سوویت یونین کو ہرایا، آج دنیا کہہ رہی ہے ، دیکھو !! انہوں نے دہشت گردی کو پال لیا، ہم نے جہاد کو بیچا ریاستی پالیسی کے طورپر۔۔ اوراب،ہم امن مانگ رہے ہیں، بھیک کی طرح، ہم کہتے ہیں بھارت بی ایل اے کو چلا رہا ہے ،شواہد ہیں، وہ پیسہ دیتا ہے ، وہ فائدہ اٹھاتا ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں اگر دل جیتے ہوتے تو ڈالر کیسے داخل ہوتے ۔۔۔؟
کوئی باہروالا کسی خطے میں آگ نہیں لگا سکتا جب تک اندرایندھن نہ ہو، ہم نے بلوچ نوجوان کو شک میں بدلا اور پھر حیران ہوئے کہ وہ بندوق بن گیا، ہم نے اپنے شہریوں کو ریاست کا بوجھ سمجھا اور آج ریاست خود ان کے لیے بوجھ بن چکی ہے ، ہم ہر دشمن کے پیچھے ایک بیرونی طاقت کھڑی کرتے ہیں، تاکہ ہمیں آئینہ نہ دیکھنا پڑے ، لیکن تاریخ آئینہ نہیں چھوڑتی۔ وہ ہمیں ”ہم ” ہی دکھا دیتی ہے ۔ہم کہتے ہیں، اسرائیل بھارت کے پیچھے ہے ، بھارت ہمارے زخموں کے پیچھے اور ان سب کے پیچھے امریکا کھڑا ہے ۔ پھرہم اسی امریکا کے دروازے پر قطارمیں کھڑے ہوتے ہیں، قرض، حمایت، سرٹیفکیٹ اور سلامتی مانگنے ۔ یہ کیسا رشتہ ہے جہاں قاتل کو بھی سلام اور مقتول کو بھی۔ امریکا ہمیں دہشت گردی کے خلاف ساتھی کہتا ہے اور بھارت کو خطے کا چوکیدار، ہم دونوں ایک ہی عدالت میں کھڑے ہیں مگر فیصلے صرف ہمارے خلاف۔ یہی تو دوہرا معیار ہے جو بم نہیں ریاستیں توڑتا ہے ، اسرائیل انٹیلی جنس، ڈرون اورنگرانی دیتا ہے بھارت کو، اوربھارت اس کا عکس ہم پرآزماتا ہے ۔۔۔ اور ہم۔۔۔؟ ہم اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ شاید کوئی ہمیں بچا لے گا،ریاستیں بچائی نہیں جاتیں، وہ اپنی غلطیوں کو مان کر بچتی ہیں لیکن ہم ہرلاش کے بعد نیا نقشہ بناتے ہیں جس میں قصور ہمیشہ باہر ہوتا ہے ، ہم ایک عجیب ملک ہیں جواپنی بربادی کے نقشے خود بناتا ہے اورپھر غیرملکی سازش کا پرچم لہراتا ہے ۔
ریاست کہتی ہے ہم جنگ جیت رہے ہیں لیکن قبرستان بڑھ رہے ہیں، ریاست کہتی ہے دشمن ختم ہو رہا ہے لیکن نقشے سکڑ رہے ہیں ۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فتح کے اعلانات لاشوں سے تیزآتے ہیں ۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ بیرونی سازش ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ بلوچستان میں سیاسی آوازیں کیوں مرگئیں ۔۔۔؟ کے پی اوربلوچستان میں ریاست چیک پوسٹ تک کیوں محدود ہو گئی۔۔۔؟ کہ نوجوان قانون نہیں بندوق کیوں دیکھ رہا ہے ۔۔۔؟ یہ سوال ہرحکومت سے پوچھا جانا چاہیے ، مگر ہم ہرسوال کوغداری کہہ کردفن کردیتے ہیں۔ ریاست جب سوالوں سے ڈرنے لگے تو سمجھ لو وہ جواب کھو چکی ہے ، ہم نے سچ بولنے والوں کو خاموش کیا اور جھوٹ بولنے والوں کو پروٹوکول دیا، پھر ہم حیران ہیں کہ سچ کہاں گیا۔۔۔؟ ریاست اگراپنی غلطی مان لے تو وہ مضبوط ہوتی ہے لیکن اگرہرغلطی کو سازش بنا دے تو وہ کھوکھلی ہوجاتی ہے اورکھوکھلی ریاستیں دھماکوں سے نہیں، سچ سے ٹوٹتی ہیں۔ہم نے ہرطرف دشمن بٹھا دیے مگر خود کو کہیں کھڑا نہیں کیا، ہم نے ہرناکامی کے پیچھے ایک ملک رکھ دیا اورہرقبر کے پیچھے ایک سازش، لیکن ریاستیں یوں نہیں ٹوٹتیں۔ وہ غلط فیصلوں سے مرتی ہیں، جب آپ اپنے شہریوں کو سنا نہیں کرتے تو کوئی اور انہیں سن لیتا ہے ۔ جب آپ انصاف نہیں دیتے تو بندوق اپنا قانون لکھتی ہے ۔ جب آپ سیاست بند کردیتے ہیں تو جنگ شروع ہو جاتی ہے ، یہی وہ سچ ہے جسے ہم دشمن کہہ کر گولی مارتے رہے ، ہم نے سوچا تھا ہم دنیا کو بیوقوف بنا لیں گے ۔ مگرآخرکار ہم نے خود کوبیوقوف بنا لیا، اورتاریخ۔۔۔؟ وہ کسی کو نہیں بخشتی،وہ لکھے گئی ”یہ وہ ریاست تھی جوہر دشمن کو پہچانتی تھی لیکن خود کو نہیں” ۔۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل وجود جمعه 06 فروری 2026
مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل

'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔ وجود جمعه 06 فروری 2026
'' ہم بے وقوف '' ۔۔۔۔

5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن وجود جمعرات 05 فروری 2026
5 فروری یومِ یکجہتی ٔکشمیر:عہدِ وفا کا دن

بلوچستان حملے اورسازشیں وجود جمعرات 05 فروری 2026
بلوچستان حملے اورسازشیں

سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے ! وجود جمعرات 05 فروری 2026
سوال ہمیشہ طاقت کے لیے خطرہ ہوتا ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر