وجود

... loading ...

وجود

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

بدھ 21 جنوری 2026 ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

ب نقاب /ایم آر ملک

سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ “افراد اہم نہیں بلکہ ادارے اہم ہیں”۔ یہ نظریہ مستحکم قوانین، روایات اور تنظیموں کو طویل مدتی معاشرتی کامیابی کی کلید قرار دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ایسے استثنیٰ بھی پیش کرتی ہے جب کوئی واحد فرد اپنی لگن، دیانتداری اور جرأت مندی سے نہ صرف اداروں کی کایا پلٹ دیتا ہے بلکہ عوام کے دل و دماغ میں اپنے لیے اعتماد اور احترام کی ایسی اینٹیں رکھ دیتا ہے جو زمانے کی آزمائشوں میں کھڑی رہتی ہیں۔ ملک مبشر احمد خان اسی نادر الوجود استثنا کا نام ہے۔
نفسیات انسانوں کے رویہ کا سائنسی مطالعہ ہے ،نفسیات میں احساسات اور خیالات سمیت شعوری مظاہر کا مطالعہ کرنا شامل ہوتا ہے ،اگر آپ لکھاری ہیں ،صحافی ہیں ،معاشرے کی آنکھ کے تصور پر پورا اترتے ہیں ،تو شخصیات کی نفسیات کا کھوج لگائیں آپ کسی بھی شخصیت کی نفسیات سمجھ کر اس کا احاطہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔میں اکثر بطور قلم کار شخصیات کی نفسیات پر لکھتا ہوں ،اس روز مجھے ایک ایسا بوڑھا قیدی ملا تھا جس نے سابق آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر احمد خان کی شخصیت کا اپنے الفاظ میں احاطہ کیا تو مجھے لکھنا پڑا ، مجھے اس بوڑھے کے الفاظ کو اپنے الفاظ کی زباں دینا پڑی کہ کچھ شخصیتیں کھلی کھڑکی کی طرح ہوتی ہیں۔ کھلتی ہیں تو محبس کو راستہ ملتا ہے۔ اندر کے اندھیرے کو باہر نکال پھینکتی ہیں۔ روشنی ، ہوا اور تازگی کا وسیلہ بنتی ہیں۔ آکسیجن بن کے سانس کی نالی میں جینے کی سانسیں انڈیلتی ہیں۔ ‘جب تک سانس تب تک آس’ کے مصداق آپ کو زندگی ، امید ، خواب اور کچھ کر گزرنے کی دھن میں سوار کر دیتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں جو ملتے ہی آپ کو اپنے ہونے کا احساس دلائیں ۔ پناہ دے دیں۔ سنبھال لیں۔ آپ کا خیال کریں۔ یخ سردیوں میں آپ سے پوچھیں سردی تو نہیں لگ رہی۔ سردی لگے تو آپ کا لحاف بن جایئں۔ راکھ کرتی گرمیوں میں آپ کو جلتا دیکھیں تو آپ پر سایہ بن جائیں ۔ننگے فرش پر بیٹھ کر کسی قیدی کے دکھ کو شیئر کریں ، اسے اپنائیت کا انمول احساس دلائیں ،قیدی عورتوں اور نوعمر بچوں کے سر پر دست ِ شفقت رکھیں ،زیر سایہ اہلکاروں کو مشفق ہونے کا احساس دلائیں ،ایسی شخصیتیں مقناطیسی کشش رکھتی ہیں۔ کھینچتی ہیں۔ جو آپ کو آگے بڑھنے، کچھ کر گزرنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ ان سے مل کر قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے۔ عزم جلا پاتا ہے۔ ارادہ پختگی محسوس کرتا ہے۔ایسی شخصیتیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہوتی ہیں۔ کول کول ، سویٹ سویٹ ۔ مزاج اور برتائو میں اپنی عظمت کا احساس دلانے والی ۔ معتدل ۔ یہی اعتدال انہیں معتبر کرتا ہے۔ انہیں با اعتماد با اخلاق ، با کردار کرتا ہے دوستوں میں ، اپنوں میں ، غیروں میں ، افسروں میں ، ملازموں میں ، رشتہ داروں میں۔ بڑوں میں ، چھوٹوں میں۔
ایسی شخصیتیں ہمیشہ اپنے کام اور میرٹ پسندی سے عوامی پذیرائی میں کامران ٹھہرتی ہیں ، اپنے محکمہ اور ہیڈز کا اعتماد ، ماتحتوں کو عزت دے کر ان کا اخلاص ، کمیونٹی اور دوستوں کو اپنی بے لوث وفائیں دے کر ان کے دل جیتنے کا فن جانتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں تخلیقی ہوتی ہیں۔ انو ویٹوو۔ انسپائرنگ اور مثالی۔ جس شعبہ میں بھی کام کریں شعبہ کی جدت ، ترقی اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ ان کے شعبہ میں آپ پہلا قدم رکھیں ادارہ نظر آتا ہے۔ دکھتا ہے۔ ملک مبشر احمد خان نے انتہائی قلیل عرصہ بطور آئی جی جیل خانہ جات کام کیا تو اپنے کام میں یکتانظر آئے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ” آیا نہ تیرے بعد کوئی” ۔مجھے اس بوڑھے قیدی کے الفاظ نہیں بھولتے کہ اخلاص میںان کا کوئی ثانی نہیں۔
ملک مبشر احمد خان جیسے آفیسر اپنے شعبہ جات کے ٹرینڈ سیٹرہوتے ہیں۔ رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ان کو مرا مٹا ہوا کوئی شعبہ دے دو اگلے چند ماہ میں ایک وزٹ میں آپ کو وہ ادارہ ملکی اور غیر ملکی اداروں کے ہم پلہ نظر آئے گا۔ لوگوں کا رش ہو گا۔ اعتماد اور اخلاص کی خوشبو ہو گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ادارے میں سچے دل اور آہنی ارادے والے لوگ آئے ہیں، بطور آئی جی جیل خانہ جات انتہائی قلیل وقت انہیں ملا ،انہوں نے ابتدائی طور پر محکمہ جیل خانہ جات میں اصلاحات کیلئے جو قدم اُٹھایااسے اُس وقت معمول کا منصوبہ سمجھا گیا۔ لیکنوقت نے ان کی اصلاحات کا مطالعہ کرنے والوں کی آنکھیں کھول دیں ، کیونکہ ملک مبشر احمد خان کی قیادت میں ایک ایسی غیرمتزلزل کارروائی کا آغاز ہوا جس نے پنجاب کی تاریخ کے اوراق ہی بدل دیے: ایسی شخصیتیں منظور نظر ٹھہرتی ہیں ۔ کرہ ارض کے ہر ذی شعور کی۔ ایسی شخصیتیں اصولوں اور ضابطوں کی پاسداری کرکے ضمیر کی قیدی ہوتی ہیںاور ضمیر کاقیدی ہونا بہت بڑی بات ہے،وہ ضابطہ قانون اور ضابطہ اخلاق و حیات کی پاسدار ہوتی ہیں۔ جنہیں اپنے پیشہ سے لگائو، اخلاص ، کمنٹمنٹ، احساس ذمہ داری ، ایمان داری ، فرض شناسی اور اعلی ظرفی، نیک نیتی ، بردباری ، ایثار اور صلہ رحمی اپنی قابل رشک وراثت میں ملی ہووہ اپنے پورے ملک اور اپنے شعبہ کے لئے مایہ ناز ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیتیں شجر سایہ دار ہوتی ہیں۔ درخت کی طرح خود کڑی دھوپ میں جل کر بھی سایہ مہیا کرتی ہیں۔ راحت کا سبب بنتی ہیں۔ انتہائی محترم و مکرم ، نیک، قابل رشک میراث ،حقیقی آبرو مند ، آفیسرملک مبشر احمد خان کی صورت فطرت نے زمین پر ایک انعام کی صورت اتارا ۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوں۔ ۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی رحمتیں جاری رکھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سفارش و مہربانی کے سائبان میں رکھے۔ آمین
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر