وجود

... loading ...

وجود

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

اتوار 30 نومبر 2025 بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

حمیداللہ بھٹی

افغانستان کی جنگوںاورسیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی طویل تاریخ ہے، یہ ملک اب بھی امن کا گہوارہ نہیں کیونکہ طالبان رجیم عوامی اُمنگوں کے مطابق نہیں بلکہ یہ طاقت کے بل بوتے پرایک قابض گروہ ہے جن کے کنٹرول میں ملک کا بڑا حصہ ہے۔ یہ ابھی تک کئی وجوہات کی بناپر دنیا کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ افغانوں کی بڑی تعداد کی طرح تمام ہمسایہ ممالک پاکستان،ایران ،چین،تاجکستان، ازبکستان اورترکمانستان بھی اُنھیں شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔مگر آثارسے لگتا ہے طالبان کو افغان عوام اور ہمسایہ ممالک کے شہبات دور کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں وہ اب بھی اپنے نکتہ نظر کے مقید ہیں۔ اسی بناپر پندرہ اگست 2021 یعنی چاربرس سے کابل پر قبضے اور حکمرانی کے باوجود دنیا سے الگ تھلگ ہیں۔ خواتین کے لیے یہ ملک ایسی جیل کی مانند ہے جہاں وہ حقوق کے بغیر صرف زندگی کے دن پورے کر سکتی ہیں یہاں تعلیم و روزگار کے مواقع سمٹ رہے ہیں۔ غیر ملکی افواج کے انخلا کے باوجودیہ ملک سیاسی اور معاشی حوالے سے غیر محفوظ اورغیر مستحکم ہے۔ اِس لیے مستقبل میں لڑائی اورسیاسی اکھاڑ پچھاڑ کامرکز نہ بننے کے حوالے سے وثوق سے کچھ کہنامشکل ہے وجہ عوام میں اضطرات وبے چینی کا فروغ پانا اور ہمسایہ ممالک کے فکرمندی میں مسلسل اضافہ ہوناہے۔ طالبان کے اندرونی اختلافات بھی عروج پر ہیں۔ اِس کی وجہ قندھاری گروپ کی آمرانہ اور متشدد روش ہے۔ بظاہرطالبان کو افغان عوام کے اضطراب وبے چینی اورہمسایہ ممالک کی فکرمندی دور کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہمسایہ ممالک سے تعلقات کشیدہ ہونے پر غربت وبے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اگرطالبان متشدد رویہ ، لاپرواہی ،دبائو اور بلیک میلنگ جیسے حربے ترک کردیں تو نہ صرف ہمسایہ ممالک کی فکرمندی ختم ہو سکتی ہے بلکہ امن کولاحق خطرات بھی ختم ہو سکتے ہیں ۔
رواں ہفتے دو ایسے واقعات پیش آئے جن سے طالبان بارے دنیاکی فکرمندی میں اضافہ ہوگا جن سے پاکستانی تحفظات کی بھی تائید ہوئی ہے کہ طالبان امن کے داعی نہیں بلکہ اُن کی حکومت میں افغانستان دہشت گردگروہوں کا مرکزبن چکا ہے امریکہ میں وائٹ ہائوس کے قریب ایک افغان شہری کا نیشنل گارڈ کے دواہلکاروں پر حملہ کرنا اور26نومبر کی شب افغان سرزمین سے تاجکستان کے اندر ڈرون سے چینی شہریوں کونشانہ بنانا سنگین واقعات ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایسی تخریبی کارروائیاں دنیاکے ساتھ خود افغانستان کے لیے بھی نقصان دہ ہیں اِن سے متاثرہ ممالک کاتشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے۔ تاجکستان نے ڈرون حملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے افغان رجیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی سرحد پراستحکام اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں جبکہ صدر ٹرمپ نے حملہ آورمشتبہ افغانی کو درندہ قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر فوری پابندی عائدکردی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی انتظامیہ نے صدر جوبائیڈن کے دور ِ حکومت میں امریکہ آنے والے افغانوں کی دوبارہ جانچ کا عندیہ دیا ہے ۔ افغانستان ایک بار پھر لڑائی کا مرکز بننے کے ساتھ سیاسی عدمِ استحکام کے نرغے میں ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ طالبان ہمسایہ ممالک کے خدشات وتحفظات دور کریں اور ایسے فیصلے کریں جن سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو ہمسایہ ممالک اور دنیا کااعتماد حاصل کرنابہانے بازی نہیںامن کے لیے سنجیدہ اقدامات سے مشروط ہے۔
پاک افغان سرحدی بندش نے افغانستان کوبدترین معاشی،تجارتی اور انتظامی بحران سے دوچار کردیا ہے جس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا ۔اِس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان طالبان داخلی طورپر ناکام ہوچکے ہیں اگر وہ دہشت گردوں کی سرپرستی ترک کردیں تونہ صرف پاک افغان غیر ہموار تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ اُن کے لیے دنیا تک تجارتی رسائی بھی آسان ہو سکتی ہے لیکن قرآئن سے ظاہر ہے کہ طالبان ضدوہٹ دھرمی کی روش چھوڑنے پر آمادہ نہیں اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2025میں 23 لاکھ سے زائد افغانوں کی واپسی سے ملک شدید مشکلات میں ہے غربت،ناقص سہولیات اور بے روزگاری نے افغانستان پر غیر معمولی دبائو ڈالا ہے محدود رسائی ،پابندیوں اور تحفظ کے خطرات سے خواتین بُری طرح متاثر ہیں ۔ مگر کیا طالبان کو بڑھتے داخلی خطرات کا احساس ہے اُن کے طرزِعمل سے توایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا کیونکہ دیوالیہ معیشت کے ساتھ بھارتی سرمایہ کاروں کو رعایتوں نے امن اور معاشی مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات پیداہوئے ہیں جب واضح ہے کہ قابض طالبان کی ہٹ دھرمی افغانوں کو شدیدداخلی بحران میں دھکیل سکتی ہے تو پاکستان جیسے مہربان ملک سے دوری کوکج فہمی اور کوتاہ نظری کا لقب ہی دیا جا سکتاہے۔
ٹی ٹی پی ،ٹی ٹی اے،بی ایل اے ،داعش سمیت ایسے دہشت گرد اور شدت پسند گروہ دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں اِن کا خاتمہ خطے کے ساتھ دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے یہ گروہ کسی نرمی یا رعایت کے مستحق نہیں، اِ ن کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں مگر اِس کے باوجود اُن پر مہربان ہیں۔ بظاہر انھیں امن کوششوں سے کوئی دلچسپی نہیںتاجکستان سے لیکر امریکہ تک افغانوں کادہشت گردی میں ملوث ہونا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے طالبان سے تحفظات درست ہیں اور اگر خطے کے ساتھ دنیاکو دہشت گردی اور شدت پسندی سے پاک کرنا ہے تو افغان دہشت گرداور شدت پسند گروہوںکے خلاف بلا امتیاز کاروائی ناگزیر ہے لیکن دہشت گرداور شدت پسند گروہوں کی سرپرستی سے طالبان بظاہرہمسایہ ممالک کو خوف اور دبائو میں رکھنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرالگتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ امن کے لیے سب ایک ہوں اور طالبان کو مجبور کیاجائے کہ خطے کے ممالک اور دنیا کے تحفظات دورکریں تاکہ دیرپا امن کا خواب پورا ہو اور خطے میں معاشی و تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں۔
بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑایک حقیقت ہے دونوں کا یجنڈادہشت گردی ہے جس پر پاکستان کا فکر مند ہونااِس بناپرفطری ہے کہ طویل عرصہ سے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا نشانہ ہے بھارت کے جارحانہ عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں اگر افغان طالبان بھروسہ مند نہیں تو بھارت بھی دنیا کے اعتماد و اعتبار سے محرومی کے دہانے پرہے اگر پاکستان ،ایران ،چین اور وسط ایشیائی ممالک متفقہ لاعحہ عمل اپنا کر بھارت و افغان گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پیداہونے والے خطرات دنیا پر واضح کریں تواقوامِ عالم کا مثبت ردِ عمل آسکتاہے اِس طرح افغانستان کو دوبارہ لڑائی کا مرکز بننے سے روکنے کے ساتھ سیاسی عدمِ استحکام سے بھی بچایاجا سکتا ہے۔ بھارت افغان گٹھ جوڑ خطے کے ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے جس کا جتنا جلد ادراک کر لیا جائے دنیا کے لیے بہتر ہوگا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر