وجود

... loading ...

وجود

بنگلہ دیش میں سول نافرمانی تحریک ، 91؍افراد جاں بحق،ملک بھر میں کرفیو نافذ

اتوار 04 اگست 2024 بنگلہ دیش میں سول نافرمانی تحریک ، 91؍افراد جاں بحق،ملک بھر میں کرفیو نافذ

بنگلہ دیش میں طلبہ گروپ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے پہلے ہی روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 91؍افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔غیر ملکی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق بنگلہ دیش میں طلبہ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کردیا گیا ہے اور پہلے ہی روز مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کے دوران اب تک کم از کم91؍افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔پولیس ترجمان قمر الاحسن کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں اور احتجاج کے دوران جھڑپوں میں کم از کم 91؍افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ 300 سے زائد اہلکار زخمی بھی ہیں۔وزارت داخلہ نے ملک بھر میں شام چھ بجے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے احتجاج میں پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے اس طرح کا اقدام اٹھایا گیا ہے ۔اس صورتحال کی وجہ سے حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے جہاں حکومت کے مخالفین، طلبہ اور انسانی حقوق کے ادارے حکومت پر اس تحریک کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔مظاہرین نے ملک کی اہم شاہراہیں بلاک کردی ہیں اور حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔وزیر اعظم حسینہ واجد نے نیشنل سیکیورٹی پینل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں جو ملک کو غیرمستحکم کرنے کے لیے باہر نکلے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان دہشت گردوں کو آہنی ہاتھوں سے کچل دیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ منشی گنج کے وسطی ضلع میں مظاہرین، پولیس اور حکمران جماعت کے کارکنوں کی تین طرفہ جھڑپوں میں دو مزدور کام پر جاتے ہوئے ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ۔ضلعی ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ابو حنا محمد جمال نے کہا کہ ان افراد کو گولیاں لگی تھیں لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکے تھے ۔ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی گولی نہیں چلائی تاہم دیسی ساختہ بم کے پھٹنے سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ شمال مشرقی ضلع پبنا میں مظاہرین اور حکمران جماعت عوامی لیگ کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے دوران کم از کم تین افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ۔ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ شمالی ضلع بوگورا میں تشدد میں دو مزید افراد ہلاک اور نو دیگر اضلاع میں 20 افراد ہلاک ہوئے ۔پولیس انسپکٹر الہلال نے بتایا کہ طلبہ اور حکمران جماعت کے لوگوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جہاں ڈھاکا کے علاقے منشی گنج میں دو نوجوان مارے گئے ۔ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرنے والوں میں سے ایک کے سر میں وار کیا گیا اور دوسرے کو گولی لگنے سے زخم آئے تھے ، پورا شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے ۔پولیس نے بتایا کہ شہر کے شمالی علاقے کشیور گنج میں دو افراد ہلاک ہوئے جہاں مظاہرین نے حکمران جماعت کے دفتر کو نذر آتش کر دیا۔دارالحکومت ڈھاکا میں ایک گروپ کی جانب سے میڈیکل کالج ہسپتال میں توڑ پھوڑ اور ایمبولینس سمیت گاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد وزیر صحت سمنتا لال سین نے کہا کہ ہسپتال پر حملہ ناقابل قبول ہے ، سب کو اس سے باز رہنا چاہیے ۔پولیس نے بتایا کہ لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح مظاہرین کا بہت بڑا ہجوم اتوار کو ڈھاکا کے مرکزی شاہ باغ اسکوائر میں امڈ آیا جبکہ اس کے علاوہ دیگر اہم شہروں میں بھی سڑکوں پر لڑائیاں اور جھڑپیں ہوئیں۔پولیس نے کہا ہے کہ شام 6بجے ملک گیر کرفیو کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ریلیوں کو منتشر اور ناکام بنانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ تک رسائی کو بڑے پیمانے پر روک دیا گیا ہے ۔اتوار کو ہونے والے تشدد کے بعد گزشتہ ماہ سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد کم از کم 230 ہو گئی ہے ۔ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک کے اہم اور سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک آصف محمود نے گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے ریلی میں کریک ڈاؤن کے بعد اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ تیار رہیں۔انہوں نے اتوار کو فیس بک پر مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ بانس کی لاٹھی تیار کرو اور بنگلہ دیش کو آزاد کراؤ۔اس کے بعد سے کچھ سابق فوجی افسران نے طلبہ کی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور سابق آرمی چیف جنرل اقبال کریم بھویاں نے ان کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فیس بک پروفائل کی تصویر کو سرخ کر دیا۔اقبال کریم نے اتوار کو دیگر سینئر سابق افسران کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران بنگلہ میں ہونے والی تمام سنگین ہلاکتوں، تشدد، گمشدگیوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر شدید تشویش ہے اور ہم اس پر پریشان اور غمزدہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ حکومت سے فوری طور پر مسلح افواج کو سڑکوں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ لوگ اب اپنی جانیں قربان کرنے سے نہیں ڈرتے ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ملک کے لوگوں کو اس انتہائی بدحالی کی طرف دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔موجودہ آرمی چیف وقار الزماں نے ہفتے کے روز ڈھاکا میں فوجی ہیڈکوارٹرز میں افسران کو بتایا کہ بنگلہ دیش کی فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے ۔فوج کی جانب سے جاری بیان میں آرمی چیف نے کہا کہ فوج ہمیشہ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور عوام کی خاطر اور ریاست کی کسی بھی ضرورت میں ایسا کرے گا۔تاہم بیان میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آرمی اس احتجاج کی حمایت کرتی ہے یا نہیں۔17 کروڑ آبادی کے حامل ملک بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گیا۔اس عوامی تحریک میں بنگلہ دیش کے تمام فلمی ستاروں، موسیقار اور گلوکار، شاعر، ادیب، طلبہ، سیاستدان سمیت تمام طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں اور مظاہرے کی حمایت کرنے والوں کے ریپ گانے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو چکے ہیں۔سخاوت نامی خاتون نے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم حسینہ واجد کو ’قاتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج اب نوکریوں کے کوٹے کے بارے میں نہیں ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ملک میں آزادی سے رہ سکیں۔حسینہ واجد کی حکمران عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر نے پارٹی کارکنوں سے حکومت کی حمایت کے لیے ملک کے ہر ضلع میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے ۔76سالہ حسینہ 2009 سے بنگلہ دیش پر حکومت کر رہی ہیں اور انہوں نے جنوری میں مسلسل چوتھے انتخابات میں کسی مخالفت کے بغیر کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت نیشنل پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔انسانی حقوق کے اداروں کا الزام ہے کہ حسینہ واجد ریاستی اداروں کا غلط استعمال کر کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہیں اور اپنی مخالفت کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل سمیت دیگر غیرانسانی اقدامات میں ملوث ہیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر