وجود

... loading ...

وجود

آئی ایم ایف سے یہ پروگرام تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا،وزیراعظم

اتوار 16 جون 2024 آئی ایم ایف سے یہ پروگرام تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا،وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے یہ پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوست ممالک کی سرمایہ کاری سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے نظام وضع کرلیا ہے ، ایسے تمام ادارے جو کرپشن کا مرکزبن چکے ہیں، ان کا خاتمہ فرض بن چکا ہے ، قوم ڈیڑھ سے دو ماہ میں پاکستان پر بوجھ بننے والے اداروں سے متعلق سخت فیصلے دیکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 2022میں اقتدار سنبھالا اور پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے نواز شریف اور آصف زرداری کی رہنمائی میں کام کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج معاشی مشکلات سے آہستہ آہستہ نکل کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہورہا ہے ، معاشی مشکلات سے نکالنے اور ترقی و خوشحالی کا سفر ملک کی اشرافیہ سے قربانی کا تقاضاکرتا ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ 8 فروری کے انتخاب کے بعد حکومت سنبھالی تو ہمارے اقدامات سے مہنگائی 38 فیصد سے گر کر 12 فیصد ہوگئی ہے ، قرضوں پر 22 فیصد شرح سود کم ہو کر 20فیصد پر آ چکی ہے ، اس سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہماری حکومت کو 100 دن پورے ہو چکے ہیں، کل پیٹرول کی قیمت مزید کم کی گئی ہے ، پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں جھانک کر رونے سے کوئی فائدہ نہیں، ماضی سے سیکھ کر پاکستان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے ، قائد اعظم کے خواب کی تعبیر کے لیے سنجیدہ ہیں، قربانی اور ایثار کا جذبہ لے کر آگے بڑھیں تو کوئی ہمارا راستہ نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ جن اداروں کا عوام کی خدمت سے کوئی تعلق نہیں ان کا خاتمہ کرنا ہوگا، پی ڈبلیو ڈی جیسے اداروں میں 50 فیصد سے زائد فنڈز کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں، ایسے تمام ادارے جو کرپشن کا مرکز بن چکے ہیں ان کو ختم کرنا میرا فرض بن چکا ہے، آئندہ ڈیڑھ سے دو ماہ میں ایسے اداروں کا خاتمہ کر دیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے ہیں، میرا وعدہ ہے کہ ڈیڑھ ماہ میں ٹھوس فیصلوں کے ساتھ آپ کے سامنے آؤں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ دوست ممالک کی سرمایہ کاری سے مکمل فائدہ حاصل کرنے کے لیے نظام بنا لیا ہے ، ایسا ماحول بنانا ہے جس سے اندرونی سرمایہ کاری بھی ممکن ہو، اندرونی سرمایہ کاری کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری بھی عوام کو نظر آئے گی، ایف بی آر کی 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن کی ذمہ داری عالمی شہرت رکھنے والی کمپنی کو دے دی گئی ہے ، ایف بی آر میں نالائق لوگوں کو ایک طرف کر دیا ہے ۔چین سے تین لاکھ پاکستانیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دلوائیں گے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پورے پاکستان میں پھیلائیں گے ، تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ صنعتوں کے لیے ساڑھے دس روپے فی یونٹ بجلی سستی کردی ہے ، سستی بجلی سے صنعتوں کے اوپر سے 200 ارب روپے کا بوجھ کم ہوجائے گا، اچھے بجٹ کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر پڑا، جس کا انڈیکس انتہائی بلند سطح 76 ہزار سے بھی اوپر گیا، امیر و غریب کا فرق کم کرنا ہوگا، اشرافیہ شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، ٹیکس صرف تنخواہ دار پر لگ رہا ہے ، مئی 2024 میں بیرون ملک پاکستانیوں نے 3 ارب ڈالرز کا غیر ملکی زرمبادلہ بھجوایا ہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اربوں کے خسارے کا باعث بننے والے ادارے بیچ رہے ہیں، ان اداروں کو بیچ کر وسائل حاصل کریں گے ، جن پر ہر سال کئی سو ارب روپے ڈوب جاتے ہیں، سادگی اپنا کر بچت کریں گے ، کارخانے نہیں لگائیں گے ، تجارت بڑھانے کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کریں گے ، مستقبل کا راستہ چن لیا ہے ، عوامی پیسے پر عیاشی نہیں ہوگی، قوم کا ایک ایک دھیلا ملکی ترقی پر خرچ ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ سے عہد ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن کرنے کے لیے کڑے سے کڑا فیصلہ کروں گا، کوئی دباؤ برداشت نہیں کروں گا، جو قربانی دینی پڑے گی مل کر دیں گے ، جدوجہد کا آغاز حکومت اور اشرافیہ سے کیا جا رہا ہے ، سب مل کر عہد کریں پانچ سال میں قوم کا مستقبل بدل دیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں جب بھی ترقی و خوشحالی کا سفر شروع ہوا، کوئی نہ کوئی حادثہ ہوگیا، یا رکاوٹ آگئی، دہشتگرد، بجلی چور، منافع خور اور بدعنوان سرکاری ملازم ملکی ترقی و استحکام کے دشمن ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ شہداء اور غازیوں کی توہین کرنے والا ملک کی ترقی و خوشحالی کا دشمن ہے ۔انہوں نے کہا کہ فلسطین پر ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے ، غزہ میں 40 ہزار افراد کو شہید کردیا گیا، کشمیریوں پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی، اللّٰہ سے دعا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کا حق آزادی ملے ۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر