وجود

... loading ...

وجود

شیرخوار بچوں کی امریکا اسمگلنگ، ایک بچی کے عوض 3ہزار ڈالر وصولی کا انکشاف

اتوار 09 جون 2024 شیرخوار بچوں کی امریکا اسمگلنگ، ایک بچی کے عوض 3ہزار ڈالر وصولی کا انکشاف

کم عمر بچوں کی امریکا اسمگلنگ کے مقدمے میں عدالت نے ملزم صارم برنی کے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، دوران سماعت انکشاف ہوا کہ ملزم نے امریکن جوڑے سے 3 ہزار ڈالر وصول کیے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بچوں کے اسمگلنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے ملزم صارم برنی کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر چوہدری بلال، پراسیکیوٹر، وکلا صفائی عامر نواز وڑائچ، قادر خان سمیت دیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ایف آئی اے نے مزید 7دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ بچی حیا کو فیملی کورٹ میں لاوارث قرار دیا گیا ہے بچی کی والدہ افشین نے مدیحہ نامی خاتون کو فروخت کیا تھا، مدیحہ نے بچی کو بشری کے پاس فروخت کیا۔ فیملی کورٹ میں صارم برنی ٹرسٹ نے بچی کو لاوارث قرار دیا، ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا اور ایک بھی سوال کا صحیح جواب نہیں دے رہا۔ اس کے ساتھ اور بھی متاثرین ہیں جن میں سے اب تک 20 کی نشاندہی ہوچکی ہے ، ملزم ریکارڈ فراہم نہیں کررہا ملزم کے ٹرسٹ کے حوالے سے بینکوں سے معلومات کا کہا ہے ۔عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ بچی حیا کے حوالے سے کتنے پیسے لیے گئے ؟ پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ 3 ہزار ڈالر لیے گئے اور پیسے اس نے ادا کیے جس نے بچی ایڈاپٹ کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس کا کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس۔ وکیل ایف آئی اے نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ کم عمر بچیوں کا معاملہ ہے ، ان کیمرا ٹرائل کیا جائے اس میں منظم گروہ ہے ، ہمیں مزید ایک ہفتے کا ریمانڈ دیا جائے ڈیجیٹل، مالی اور یو ایس انٹیلی جنس سے ریکارڈ مانگا ہے ، اس کی اسکروٹنی کرنی ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بچیوں کے حقیقی والدین زندہ ہیں؟ ایف آئی اے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جی زندہ ہیں ان کا عدالت میں بیان ریکارڈ کرائیں گے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ انہیں شامل تفتیش کریں گے ؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ جی وہ تفتیشی کا حصہ ہیں، امریکی انٹیلی جنس سے ملنے والے ریکارڈ کے بارے میں ملزم سے مزید تفتیش کرنی ہے ۔ تفتیشی افسر نے 3ہزار ڈالر کی رسید بھی عدالت میں پیش کی۔عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ 3 ہزار ڈالر وصول کیے ؟ ملزم صارم برنی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم، عدالت نے کہا کہ آپ چیئرمین ہیں اور آپ کو معلوم نہیں؟ ملزم نے کہا کہ پیسے ٹرسٹ نے لیے ہوں گے ۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ اب تک 3 بچوں کے معاملات کی تفتیش ہو چکی ہے جبکہ 20 مزید کیسز کی تفتیش کرنی ہے ۔وکیل صفائی عامر نواز وڑائچ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ صارم برنی کا ریمانڈ نہ دیا جائے اگر جسمانی ریمانڈ دیا تو صارم برنی کو ٹارچر کیا جائے گا، یہ جو رسید پیش کی گئی ہے اسے پڑھا جائے اس پر کیا لکھا ہے ، کیا اس پر بیچنے کا لفظ موجود ہے ؟ فیملی سے رابطہ کیا ہے ، انہوں نے کہا ہے بچی ہم نے خود دی ہے ان کے پاس ڈھائی ماہ سے انکوائری ہوئی ہے ، اس خاتون کو بلیک میل کیا گیا ہے جو مناسب سوال ہوگا اس کا جواب دے گا۔ ملزم نے کہا کہ میرے پاس موبائل میں شواہد موجود ہیں۔ میں نے ایف آئے اے کو کہا کہ میں ملک سے باہر ہوں واپس آکر جواب دوں گا۔عدالت نے ملزم سے استفسار کیا کہ آپ کو معلوم نہیں تھا کہ بچی کے والدین حیات ہیں؟ جب آپ کو پتا تھا کہ بچی کے والد موجود ہیں تو جھوٹ کیوں بولا؟ ملزم نے کہا کہ مجھے نہیں پتا تھا۔ وکیل صفائی عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ ٹرسٹ کو یہ بچی کسی اور نے لاکر دی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے کہا آپ کو ملزم کا بیان ریکارڈ کرنا ہے جس پر افسر نے کہا کہ جی بالکل بیان ریکارڈ کرنا ہے ۔ عدالت نے چیمبر میں ہی ایف آئی اے کو ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی میرے چیمبر میں ملزم کا بیان اس کے وکلا کے سامنے ریکارڈ کریں۔ عدالت نے ملزم صارم برنی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی ایف آئی اے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے ملزم صارم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت پیر 10جون کو ہوگی۔ ملزم صارم برنی نے سماعت کے بعد گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی بدنامی وہ کررہا ہے جو میرے اوپر الزام لگا رہا ہے ۔ ایف آئی اے نے جو بھی الزامات لگائے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے بچوں کے مستقبل بہتر کرنے کے لیے کیا ہے ، میرا جرم یہ تھا کہ میں ادارے کا سربراہ ہوں، اس میں ادارے کے کسی ملازم کی بھی غلطی نہیں ہے ۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر