... loading ...
سمیع اللہ ملک
میں اس خوفناک لمحات سے بھی واقف ہوں جب ایٹمی بریف کیس کابٹن دبانے کی مکمل طاقت رکھنے والے امریکی صدرٹرمپ کے بارے میں ایک مشہورزمانہ امریکی ماہرنفسیات بھرپوردلائل کے ساتھ عالمی میڈیاپرببانگ دہل ٹرمپ کی دماغی صحت پر اپنے شک وشبہ کا اظہارکرتے ہوئے اپنے خدشات کااظہار کررہی تھی جس سے تمام دفاعی اورسیاسی تجزیہ نگاروں میں ایک خوف کی لہردوڑگئی تھی۔ ماہر نفسیات ڈاکٹرکاکہناتھاکہ ٹرمپ نے جب سے امریکی صدر کا منصب سنبھالا ہے تب سے وہ ایسا بہت کچھ کررہے ہیں جوامریکاکوایک عظیم طاقت بنانے والے عوامل کے خلاف اوردنیاکومکمل تباہی کی طرف دھکیل سکتاہے۔انہوں نے قدم قدم پرایسی باتیں اورحرکتیں کی ہیں جوان کے منصب کے تقاضوں سے کسی بھی طورمیل نہیں کھاتیں۔ان کی کوشش رہی ہے کہ جو کھلنڈراپن ان کے مزاج میں پایاجاتاہے وہ امریکی صدر کے منصب میں بھی دکھائی دے۔امریکاکو ایک عظیم طاقت میں تبدیل کرنے والے اصولوں،طریقوں اورخواص کوانہوں نے نشانے پر لینے کی بارہاکوشش کی ہے اوریہ بات اب بیشتر امریکی زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
عالمی سیاست کے حوالے سے کوئی بھی پیش گوئی انتہائی دشوار کام ہے۔حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ہرپیش گوئی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ٹرمپ کامعاملہ تواب اوربھی پیچیدہ ہوگیاہے۔ اس نے اپنے دورِ صدارت کے پہلیایک سال کے دوران ایسابہت کچھ کیاجس کی بنیادپران کے بارے میں پورے یقین سے کچھ کہناانتہائی دشوارتھا۔پیش گوئی کرنے والوں کوبھی اندازہ تھاکہ وہ اگر کچھ کہیں گے تو ٹرمپ اس کے خلاف کچھ نہ کچھ کرکے انہیں ناکامی وذلت سے دوچارکرنے میں لمحہ بھرکی تاکیرنہیں کرے گا۔ تاہم یہ بات البتہ پورے یقین سے کہتے رہے کہ مورخین جب ٹرمپ کے ادوارکے بارے میں لکھیں گے تواس نکتے پرضرورزور دیں گے کہ اس نے اپنے کھلنڈرے مزاج سے وہ نظم وضبط تباہ کردیاجوامریکی صدر کیلئے لازم قراردیاجاتاتھا۔یقینااپنے دورِ صدارت میں اس نے بہت کچھ اپنی خواہش کے اصول کی بنیادپرکیا،افغانستان میں روائتی بموں کی ”ماں” جیسا خطرناک بم گرانے میں شرم محسوس نہ کی اورپھربرملاعالمی میڈیاکے سامنے افغانستان پرایٹم بم گرنے کی دہمکیاں بھی دیں،کبھی نئے سال کی آمدپرخطے میں اپنے سب سے اہم اتحادی پاکستان کے خلاف ٹوئیٹرمیں نازیبا الفاظ پرمشتمل ہرزہ سرائی سے بھی بازنہ آیاجس کے نتیجے میں امریکاکوکئی معاملات میں بہت سبکی کابھی سامناکرناپڑا۔تاہم دنیابھرکے سنجیدہ افرادکویہ تشویش ضرورلاحق ہوگئی ہے کہ ٹرمپ امریکاکاپہلاصدرہے جس کے پاس اپناکوئی وژن نہیں۔اسی لئے وہ اپنے پورے دورِ اقتدار میں کوئی ایسی گرینڈ اسٹریٹجی تیار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکاجس کی بنیاد پرکہاجاسکے کہ وہ امریکی معاشرے اورقیادت کے ڈھانچے کو کوئی باضابطہ نئی شکل دیکراسے عالمی بحرانوں سے نکالناچاہتاتھا۔اس حوالے سے ٹرمپ کی سنجیدگی کاگراف خاصا نیچارہا۔
کسی بھی ملک کیلئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کی کوئی واضح اوربڑی حکمت عملی نہ ہو۔اس مرحلے سے گزرے بغیرکوئی بھی ریاست ترقی تو کیا کرے گی،اپناوجودبھی برقرارنہ رکھ پائے گی۔امریکاکوئی عام ملک نہیں،اسے واحدعالمی طاقت ہونے کا گھمنڈہے۔اس کیلئے تو قیادت کے ڈھانچے کامضبوط ہونااوربیشتربین الاقوامی معاملات میں واضح حکمت عملی کاہونالازم ہے۔ امریکامیں ایک زمانے سے عظیم، ہمہ گیرحکمت عملی اپنانے کارجحان رہاہے اوریہ رجحان محض اپنی پسندکانہیں بلکہ مجبوری اورلازم ہے،امریکاسپرپاورہے۔اسے کئی ممالک سے خصوصی تعلقات استواررکھناپڑتے ہیں۔ہرخطے پرنظررکھناپڑتی ہے۔کسی بھی صدرکیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ملک کی گرینڈاسٹریٹجی سے ہٹ کرکچھ کرے۔وہ اگر نمایاں حدتک بصیرت سے محروم ہواورمستقبلِ بعیدکے بارے میں سوچنے اوراس حوالے سے کوئی واضح منصوبہ تیار کرنے کااہل نہ ہوتب بھی اسے حکمت عملی کے حوالے سے بہت سے معاملات میں غیرمعمولی دلچسپی لیناہی پڑتی ہے۔ٹرمپ بظاہربصیرت کا حامل نہیں تھامگراس کیلئے بھی گرینڈاسٹریٹجی کونظراندازکرناممکن نہیں تھایااس سے مطابقت رکھنے والے اقدامات سے گریزکرتا۔لیون ٹراٹسکی نے خوب کہا ہے کہ اگرکوئی صدرگرینڈاسٹریٹجی میں زیادہ دلچسپی نہ بھی لے،تب بھی گرینڈاسٹریٹجی تواس میں دلچسپی لیتی ہی ہے یعنی پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں،صرف بڑھنے کاآپشن ہے۔
اگر امریکی تاریخ کاجائزہ لیں تویہ نکتہ کسی بھی طورنظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ ٹرمپ نے ایک ایسے اہم موقع پرامریکا کی صدارت سنبھالی جب اس کے انتخاب سے پہلے کے70 برسوں میں امریکانے دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعدسے ایک ایسی طاقت کاکرداراداکیاتھاجوپوری دنیاکوایک نئے سانچے میں ڈھالنے کابھرپورعزم اورتوانائی رکھتی تھی۔امریکی جبرنے کئی خطوں کواپنی مرضی کے مطابق تبدیل کیا۔متعدد ممالک کوتعمیروترقی کی نئی جہتوں سے آشناکیااوردوسری طرف کئی ممالک امریکا کے ہاتھوں بربادی کاشکارہوئے ۔ 1990 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعدامریکاچونکہ واحدسپرپاورتھا،اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔تقریباتین عشروں پرمحیط اس مدت کے دوران امریکانے اچھاکم اوربرابہت زیادہ کیاہے۔بعض مواقع پرصاف محسوس کیاگیا کہ امریکا کیلئے معاملات الجھے ہوئے ہیں اوروہ جوکچھ بھی کر رہا ہے،اس کی پشت پریاتوبدحواسی ہے یاپھرکچھ اداروں کا دباؤ اور خوف۔
امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حقیقت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ ایک ایسے وقت امریکاکاصدرمنتخب ہواجب چین اپنی پوری قوت کے ساتھ ابھرکرسامنے آچکا تھا ۔چین ایک ایسابڑاچیلنج بن گیاجس سے نمٹنے کیلئے امریکاکواپنی گرینڈ اسٹریٹجی تبدیل کرنا پڑ گئی۔ایک طرف جہاں چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالا دستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کرلی وہاں خطے میں پاکستان جیسااہم اتحادی جس نے امریکاکو دنیاکی واحدسپرپاوربننے میں اہم کرداراداکیاتھا،اب چین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑانظرآیاجس کے جواب میں امریکی آشیربادپرآئے دن پاکستانی سرحدوں پربھارتی جارحیت جیسا ماحول،سرحدپارسے پاکستان میں دہشتگردی جیسے واقعات،کشمیرمیں جاری ظلم وستم کی بنا پر بھارت کے ساتھ انتہائی کشیدہ تعلقات اس پر مستزادٹرائیکاکامختلف اندازمیں بلاوجہ دباؤڈالنے کی غلط پالیسی اختیارکرنے کی بنا پرامریکاکواس خطے میں سخت دھچکالگاہے اوررد ِعمل میں خطے میں چین، پاکستان،روس اورایران کاایک مضبوط بلاک بھی تشکیل پارہاہے۔
ایک طرف چین نے امریکاکی عسکری ومعاشی بالادستی کیلئے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیارکی ہے اوردوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بھی صورتِ حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جوامریکا کیلئے مشکلات پیداکررہی ہے۔یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ دنیابھرمیں جمہوریت کوبہترطرزِحکمرانی کی حیثیت سے قبول نہ کرنے کارجحان پروان چڑھ رہاہے۔عام آدمی یہ سوچنے پر مجبورہے کہ اگرآمریت اس کے مسائل حل کردے تو جمہوریت کی کیاضرورت ہے؟
کئی عشروں سے امریکاعالمی سیاست ومعیشت پربلاشرکتِ غیرے متصرف رہاہے۔اس نے یورپ کوساتھ ملاکراپنی مرضی کے فیصلے کیے ہیں اوران فیصلوں کاپھل بھی کھایاہے مگر اب بہت کچھ بدل گیاہے۔کئی ممالک تیزی سے مضبوط ہوکرابھرے ہیں۔ یورپ نے اپنی راہ بہت حد تک الگ کرلی ہے۔چین،روس،برازیل،جنوبی افریقااوردوسرے بہت سے ممالک تیزی سے مستحکم ہوئے ہیں۔ان کااستحکام امریکی بالا دستی کیلئے واضح خطرے کی شکل میں ابھراہے۔یہ سوال امریکامیں بھی جڑپکڑچکاہے کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اب امریکاکیلئے کیارہ گیاہے۔گزشتہ صدارتی انتخاب میں جہاں دیدہ سیاست دان جوبائیڈن منتخب ہوکر جب وائٹ ہاس میں براجمان ہوئے توان کیلئے بھی سب سے اہم سوال یہی تھاکہ کہ عالمی سطح پرامریکاکوبرترحیثیت برقرار رکھنے کے قابل کس طوربنایاجائے۔وہ ان چیلنجزکامقابلہ کرتے ہوئے اب اگلی انتخابی مہم میں داخل ہوچکے ہیں جہاں انہیں یقینا اپنے سیاسی فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہے۔ حقیقتاًان کیلئے چیلنجزبڑھ چکے ہیں۔حکمت عملی میں غیر معمولی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔
جوبائیڈن نے اب تک ایساکچھ نہیں کیاجس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ وہ امریکاکونئی بلندیوں پر لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ بھی ٹرمپ کی طرح بظاہر اس سیاسی بصیرت سے محروم دکھائی دیئے جو کسی امریکی صدر کیلئے لازم سمجھی جاتی تھی مگراس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ وہ اپنی شخصیت کاکوئی تاثرچھوڑنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔چند ایک معاملات میں انہوں نے”ٹرمپ بڑھک”سے ہٹ کر عمل کے میدان میں اعتدال پسندی کاثبوت دیاہے مگرمجموعی طورپر وہ اپنے اقوال واعمال سے امریکی فکرکومتاثرکرنے میں تھوڑے بہت کامیاب ضرورہوئے ہیں۔یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ امریکانے جن اصولوں اورطریق کارکواپناکراب تک عالمی سیاست ومعیشت میں اپنی بالادستی کسی نہ کسی طور برقراررکھی ہے انہیں جوبائیڈن نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اورکسی حد تک کامیاب رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کا دعویٰ تھاکہ جوکچھ وہ سوچتااورکرتاتھا،اس سے امریکا کی طاقت اوردولت میں غیر معمولی اضافہ ہوااورعالمی سیاست ومعیشت میں امریکی بالا دستی برقراررہی مگردرحقیقت ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکاکومجموعی طورپرخاصانقصان پہنچا۔پالیسی سازاب یہ بات شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ دراصل ٹرمپ کے آنے کے بعدسے امریکا کی سب سے بڑی طاقت والی حیثیت متاثر ہوئی ہے اورجوکچھ وہ کہتارہا،اس کے وہ اثرات رونما نہیں ہوئے جو ہونے چاہیے تھے۔امریکیوں کواچھی طرح اندازہ ہوگیاکہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی سطح پرامریکا کی پوزیشن قابل ذکرحد تک متاثرہوئی اوراب ایسے شخص کودوبارہ ایسی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
امریکی پالیسی سازیہ دعوی بھی کرتے ہیں جس سے بڑی حدتک واضح اختلاف کیاجاسکتاہے کہ امریکانے چارنسلوں تک دنیاکو ایک ایسا نظام دیاہے جس نے امن،خوش حالی، استحکام اورجمہوریت کی راہ ہموارکی ہے۔یہ بات دیگرنظام ہائے سیاست سے موازنے کی صورت میں کہی جارہی ہے۔امریکانے عالمی سیاست ومعیشت پرجوبالادستی پائی وہ اس کی سخت قوت کانتیجہ تھی۔امریکاکے پاس بے مثال قوت تھی اوراس قوت کوبھرپوراندازسے بروئے لانے پربھی خاطرخواہ توجہ تودی گئی لیکن اپنی ظاالمانہ پالیسیوں کے سبب اپنے ارد گردنفرتوں کے پہاڑ بھی کھڑے کرلیے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدامریکانے باضابطہ عالمی طاقت کی حیثیت اختیارکی۔ایسانہیں کہ سردجنگ کے زمانے میں سابق سوویت یونین کے ہوتے ہوئے امریکا کی عالمی حیثیت اتنی مضبوط تھی جسے چیلنج نہ کیاجاسکتا تھاتاہم دنیا دوواضح عالمی قوتوں کے درمیان تقسیم تھی۔ بظاہرامریکانے غیرمعمولی عسکری قوت کے ذریعے پوری دنیاکواپنی مٹھی میں رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن سردجنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی عسکری قوت مزیدبڑھ گئی۔عالمی معیشت میں بھی اس کا حصہ اس قدر بڑھ گیاکہ ایک مرحلے پر امریکی خام قومی پیداوارعالمی خام قومی پیداوارکاپچیس فیصدتھی۔دنیانے کسی ایک ملک کوباقی دنیا کے مقابلے میں اس قدرطاقتورکبھی نہیں دیکھالیکن امریکاکویہ مقام کبھی نہ ملتا اگر سوویت یونین افغانستان میں جارحیت کی غلطی نہ کرتااورپاکستان جیسااتحادی امریکاکی بھرپورمددنہ کرتالیکن امریکانے اپنی سابقہ تاریخ دہراتے ہوئے پاکستان کے ساتھ وہی سلوک کیاکہ جونہی سابقہ روس شکست وریخت سے دوچارہوا،امریکاوعدہ خلافی کرتے ہوئے پاکستان اورافغانستان کوبیچ منجدھار میں چھوڑکرفوری طورپرپاکستان کے مخالف کیمپ کوگلے لگالیاکیونکہ بھارت نے بھی پانچ دہائیوں سے ایک وفادارساتھی روس سے آنکھیں پھیرکرامریکاکے قدموں میں پناہ لیکراپنی برہمنی روایت کوقائم رکھاجس کاحال روسی وزارتِ خارجہ نے بھرپورگلہ کا اظہار بھی کیاہے۔
لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مکافاتِ عمل نے چندبرسوں کے دوران امریکی بالا دستی کیلئے بہت سے خطرات پیداکر دیئے ہیں۔اب چین، روس اوردیگرممالک ابھرکرسامنے آئے ہیں مگراس کے باوجودامریکاسمجھتاہے کہ اس کی عسکری اورمعاشی قوت اب بھی اس قدرہے کہ وہ عالمی سیاست ومعیشت پرنمایاں حد تک متصرف ہے اورامریکی قیادت اب بھی دنیابھرمیں معاملات کو الٹنے اورپلٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پرامریکاچاہتاتو ایسی حکمت عملی ترتیب دے سکتاتھاجوصرف اس کیلئے کارگر ہوتی اوراسے زیادہ سے زیادہ عسکری ومعاشی قوت سے ہمکنارکرتی مگرپالیسی سازوں نے ایک ایسابین الاقوامی نظام ترتیب دینے پرتوجہ دی جس کے ذریعے صرف امریکابھرپور استحکام سے ہمکنارنہ ہوبلکہ مجموعی طورپرتمام خطے ترقی کریں،خوشحالی پائیں اورخاص طورپرہم خیال ممالک زیادہ مستفیدہوں۔اس بین الاقوامی نظام کوچلانے کیلئے ادارے معرض وجودمیں لائے گئے،پروگرامزترتیب دیے گئے۔یوں اب تک بین الاقوامی نظام کے معاملے میں امریکاعالمی راہنماکی حیثیت اختیارکیے ہوئے ہے۔امریکانے عسکری اتحاد تشکیل دیے۔کوشش کی گئی کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کوزیادہ سے زیادہ محفوظ بنایاجائے۔یہ سب کچھ عالمی سطح پرامن برقراررکھنے کی خاطرکیاگیا،مگردرحقیقت امریکا یہ چاہتاتھا کہ ایک ایسی دنیاتشکیل دی جائے جس میں وہ خودزیادہ آسانی سے ترقی واستحکام سے ہمکناررہ سکے۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پرامریکاچاہتاتوایسی حکمت عملی ترتیب دے سکتاتھاجوصرف اس کیلئے نہیں بلکہ اس کے قریبی اتحادیوں کیلئے بھی کارگرہوتی اورامریکازیادہ سے زیادہ عسکری ومعاشی قوت سے ہمکنارہوتامگرپالیسی سازوں نے ایک ایسا بین الاقوامی نظام ترتیب دینے پرتوجہ دی جس کے ذریعے صرف امریکانہ صرف بھرپوراستحکام سے ہمکنارہو اوراس کے اتحادی مجموعی طورپرخطے میں ترقی اورخوشحالی کیلئے اس کی بالادستی قبول کریں اورخاص طورپرہم خیال ممالک اس کی ہرپالیسی میں اس کے ہمنواہوں جس طرح مشرقِ وسطی میں مسلم ممالک اورافغانستان کی تباہی میں اس کے تمام اتحادیوں نے اس کابھرپورساتھ دیا۔اس بین الاقوامی نظامورلڈآرڈرکوچلانے کیلئے ادارے معرض وجودمیں لائے گئے،پروگرامزترتیب دیے گئے، یوں اب تک بین الاقوامی نظام کے معاملے میں امریکاعالمی رہنما کی حیثیت اختیارکرنے کے راستے پرگامزن ہے۔امریکا نے عسکری اتحاد تشکیل دیے اورکوشش کی گئی کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کواپنے مفادات کیلئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے۔یہ سب کچھ عالمی سطح پرامن برقراررکھنے کے نام پرکیاگیالیکن اب اقوام عالم یہ سمجھ چکے ہیں کہ درحقیقت امریکا یہ چاہتاتھاکہ ایک ایسی دنیاتشکیل دی جائے جس میں وہ خودزیادہ آسانی سے ترقی واستحکام سے ہمکناررہ سکے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیاکواپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی امریکی مساعی درحقیقت صرف اس مقصدکے تحت تھیں کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اس کی بالادستی قائم ہو اورمسقل بغیرکسی چیلنج کے برقراررہے۔اسی لئے کویت عراق جنگ کے بعدجارج بش اول نے یہودی نژاد ہنری کسنجرکے تشکیل کردہ نیو ورلڈآرڈرپروگرام کومتعارف کرانے کے بعدامریکانے جوعالمی نظام پراس قدرزوردیاتواس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ معیشت،عسکری قوت اورسفارت کاری کے میدان میں اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم رکھنا چاہتاہے۔اس کیلئے وہ جودنیاتشکیل دینے میں مصروف ہے،اس کاواحدمقصد اکیلے ہی اس سے بھرپوراستفادہ مقصودہے تاکہ عالمی معیشت کواپنی مرضی کے مطابق چلاکرامریکا اپنی طاقت میں بے پناہ اضافہ کرکے عالمی بالادستی کویقینی بنائے۔
یہ نکتہ نظراندازنہیں کیا جاناچاہیے کہ امریکا نے عالمی سیاست ومعیشت میں اب تک جو بھی مرضی کے فیصلے کیے ہیں ان کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کیلئے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی۔وہ اگرچاہتاتواپنی طاقت کے ذریعے غیر معمولی حدتک اپنی مرضی کے فیصلے کرسکتاتھامگراس کے بجائے کم استحصالی اندازاختیارکرکے امریکانے ان تمام ممالک کومجوزہ مفادات میں کچھ حصہ ضروردیاجوعالمی نظام کے حوالے سے اس کے تصورات کوقبول کرنے کیلئے تیارتھے۔دیگرسپرپاورز کے مقابلے میں امریکانے طاقت کے ذریعے بات منوانے پرکم توجہ دی۔امریکاکے بہت سے شراکت داراس امرکابرملااعتراف کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی معاملے میں امریکاکی بالادستی سے اتنانہیں ڈرتے جتنااس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں امریکامعاملات سے الگ تھلگ نہ ہوجائے اورپھران ممالک کودیگرقوتوں کے ساتھ بھی سردجنگ کاسامناکرنا پڑے!
ہرحال میں سب سے پہلے امریکاکانعرہ امریکی سیاست ومعیشت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتاہے۔امریکا نے کبھی اپنے مفادات کو کسی بھی صورتِ حال کے تابع نہیں کیا۔وہ صورتِ حال کواپنے مفادات کے تابع کرنے پر یقین رکھتاآیاہے۔ایک یورپی سفارت کار کاکہناہے کہ یورپ نے سترسال تک امریکا کی ڈفلی پررقص کیاہے۔ویتنام سے نکاراگواتک لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اپنے ملک کے مفادات کوہرحال میں تقویت بہم پہنچانے کیلئے امریکی حکام نے غیرمعمولی تشدد اورظلم وجبرکی راہ پرچلنے سے کبھی گریزنہیں کیا۔معیشت اورسیاست سے ہٹ کربھی کئی معاملات میں امریکی اندازِقیادت بہت اہم رہاہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعدسے امریکانے عالمی سطح پرامن اوراستحکام کے حوالے سے غیرمعمولی کرداراداکرنے کی یہ وجہ بھی تھی کہ اس وقت دنیا سرمایہ داری اورکیمونزم نظام میں واضح طورپرتقسیم تھی اورامریکاکے اتحادی یہ سمجھتے تھے کہ امریکاعسکری امورمیں کمٹ منٹ کے مطابق کام کرنے اورڈلیورکرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتاہے اور یہ کہ ایک انتہائی خطرناک دنیامیں حقیقی استحکام پیداکرنے اوربرقراررکھنے کی صلاحیت اگرکسی میں پائی جاتی ہے تو وہ امریکاہے۔
امریکی صدوراس امرکیلئے کوشاں رہے ہیں کہ دنیابھرمیں ایسی جمہوریت اوربنیادی حقوق کی پاسداری کویقینی بنایاجائے جو امریکی قیادت کے تابع رہے اوراس کی واضح مثال ہمیں پہلے الجزائراوربعدازاں مصرکی مرسی حکومت کاتختہ الٹنے سے ملتی ہے۔امریکی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ عالمی سطح پربالادستی برقراررکھنے میں یہ بات بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے کہ اخلاقی سطح پرامریکا کیسی دنیا دیکھنا چاہتا ہے۔ امریکانے اپنی اخلاقی بالادستی بھی یقینی بنانے کیلئے دنیابھرمیں کھلے معاشرے معرض وجودمیں لانے اورلبرل ازم کوبھرپورتقویت بہم پہنچانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔
سابق امریکی وزیرخارجہ جارج شلزنے ایک بارکہاتھاکہ امریکانے زیادہ مستحکم تعلقات ان ممالک سے استوار رکھے ہیں جہاں ایسی جمہوریت کی جڑیں گہری اورمضبوط ہیں جو امریکی اوراس کے اتحادیوں کی پالیسیوں سے مکمل آہنگی اوریکجہتی کا اظہارکریں۔یہ محض اتفاق نہیں۔امریکاجن ممالک میں حقیقی جمہوریت اورسیکولر لبرل روایات دیکھناچاہتاہے ان کی طرف زیادہ جھکتاہے۔امریکی قیادت انہی ممالک سے بہترسیاسی اوربلندہوکر ورلڈآرڈرکے حقیقی نظریہ اور ثقافتی ہم آہنگی مفادات تک تابع ہوں۔ایسانہیں ہے کہ امریکانے صرف سخت قوت(معاشی وعسکری)پرمداررکھا ہے۔وہ اپنی بات منوانے کیلئے اوراپنی نمبرون پوزیشن برقراررکھنے کیلئے دنیابھرمیں سوفٹ امیج بھی پھیلاتا ہے۔امریکیوں نے ہردورمیں چاہاہے کہ دنیاان کے ملک کودیکھ کرصرف خوفزدہ نہ ہوبلکہ متاثرہوکرمتوجہ بھی ہو۔آج دنیابھرمیں امریکاکوسخت ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھاجاتاہے مگراس کے باوجوددنیاکے ہرملک کے باشندے چاہتے ہیں کہ انہیں کسی نہ کسی طور امریکا میں داخل ہونے کاموقع مل جائے۔جن ممالک سے امریکاکے تعلقات اچھے نہیں اور جہاں کے لوگ امریکاسے شدید نفرت کرتے ہیں وہاں بھی لوگ اس بات کے منتظررہتے ہیں کہ امریکی ویزا لگ جائے یعنی مجموعی طورپرکہاجاسکتاہے کہ امریکا کی سخت قوت کو تقویت بہم پہنچانے میںنرم قوت نے بھی کلیدی کرداراداکیاہے۔ ناپسندیدہ ہوتے ہوئے بھی امریکا میں دنیابھرکے لوگوں کیلئے غیرمعمولی کشش پائی جاتی ہے لیکن صدافسوس کہ پہلی مرتبہ ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی نے امریکاکے برسوں سے قائم اس تاثرکوبری طرح نہ صرف مجروح کیابلکہ خودامریکی اعلی عدالت نے مداخلت کرکے ٹرمپ کی اس پالیسی کومستردکردیاتھا۔
ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدارمیں جوکچھ کہاوہ اس امرکاغمازتھاکہ وہ بنانے پرکم اوربگاڑنے پرزیادہ توجہ دیتارہا۔(ڈین ایچیسن کیلئے یہ بات بہت اہم تھی کہ وہ امریکاکی تخلیق کے وقت تھے)۔خودامریکی اورمغربی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کی بڑھکیں دیکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاے گی کہ انہیں شاید کل کویہ بات قابل فخرمحسوس ہوکہ وہ امریکاکی تباہی کے وقت موجودتھے۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسا بہت کچھ کہاجس سے پتہ چلاکہ اسے بنیادی امریکی اقدارکی پاسداری کاذرابھی خیال نہیں تھا۔اس نے آزاد تجارت کے بجائے اپنے مفادات کوہرحال میں مقدم رکھنے کی تجارت پرزوردیا۔ٹرمپ نے جمہوریت کیلئے اب تک ویسی پسندیدگی کااظہارنہیں کیاجیسی ان کے پیش رو بیان کرتے آئے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے جمہوریت کے مقابل پیوٹن کیلئے پسندیدگی کااظہارکیاجومطلق العنانیت کوبنیادی سیاسی قدرقراردے کرتمام اختیارات اپنی ذات میں سمیٹناچاہتاہے۔امریکانے پانچ چھ عشروں میں جوکچھ بھی پایا، اسے ٹرمپ نے ٹھکانے لگانے میں تاخیرنہیں کی۔اس کاخیال تھا کہ امریکانے جنگ کے بعدکے زمانے میں جوخارجہ پالیسی اپنائی وہ بہت سے معاملات میں مخالفین کواس قدررعایتیں دیتی رہی ہیں کہ اب وہ منہ دینے کاسوچ رہے ہیں۔امریکانے دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیا میں عالمی معیشت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش ضرورکی ہے مگراس کوشش میں اس نے اپنی مصنوعات اورٹیکنالوجی دنیابھر کودی ہے۔اس بات کو ٹرمپ جیسے لوگ پسندنہیں کرتے۔ان کاخیال یہ ہے کہ امریکاکواپنی ٹیکنالوجیزاورجدید ترین مصنوعات ساری دنیا میں پھیلانے سے گریزکرناچاہیے۔
ٹرمپ نے امریکی فوج کو قیدیوں پرتشددڈھانے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی کہاتھاکہ دہشتگردی ختم کرنے کی خاطراگرجنگی جرائم کاارتکاب بھی کرناپڑے توایساکرنے میں کچھ ہرج نہیں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امریکا نے کسی نہ کسی طوراپنی بالادستی کو برقرار رکھا ہے مگرٹرمپ اسے ٹھکانے لگانے کے لئے بے تاب رہے۔ایسانہیں ہے کہ جوکچھ ٹرمپ نے صدرکی حیثیت سے کہاتھاوہ جذباتیت کی طرح پرہے۔وہ ایک زمانے سے کئی امریکی شراکت داروں پرشدید نکتہ چینی کرتے آئے ہیں۔انہوں نے 1980کے عشرے میں جاپان اور کویت کوشدید نکتہ چینی کانشانہ بناتے ہوئے کہاتھاکہ ان دونوں ممالک سے امریکاکوملاکم ہے اورامریکا نے دیازیادہ ہے۔اسی طورانہوں نے2015ء اور 2016 میں جرمنی اورمیکسیکوپرشدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ ان دونوں ممالک نے امریکا کیلئے طفیلی کا کردار ادا کیا ہے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے امریکا کے بعض شراکت داروں کے بارے میں جن خیالات کااظہار کیا وہ ان کے دوڈھائی عشروں کے خیالات ہی کاعکاس تھے۔اس کامطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے صدر کی حیثیت سے امریکا معاشی روابط کوفروغ دینے پرآمادگی ظاہر کرتی ہے جہاں کی سیاسی روایات امریکی اوراس کے اتحادیوں کی سیاسی روایات سے ہم آہنگ ہوں۔معاملات محض لین دین کی سطح سے کہیں کے بعض اتحادیوں کے بارے میں جو کچھ کہاتھا،وہ محض بڑھک نہیں،جذباتیت کی سطح پرنہیں بلکہ وہ واقعی کچھ کرناچاہتاتھایعنی وہ امریکاکے بعض اتحادیوں کوایک طرف ہٹانے اور نئے تعلقات استوارکرنے کی راہ پرگامزن ہونے کیلئے بے تاب رہتاتھاچاہے اس کیلئے امریکاکوکتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔لیکن خودامریکاکے خیر خواہ اوران کے اتحادی ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے اجرا کی کبھی بھی کھل کرحمایت نہ کرسکے کیونکہ اس سے امریکاتیزی کے ساتھ تنہائی کاشکارہوجاتالیکن افسوس تواس بات کا ہے کہ ٹرمپ ایک مرتبہ پھراس سے کہیں زیادہ شدت پسندنعروں کی گونج میں وائٹ ہاؤس پہنچنے کی تیاریوں میں بڑاپرامیدہے اورایساہی حال ہمارے ملک کی سیاست کابھی ہوچکاہے کہ ہرروزکسی نہ کسی کابیان آجاتاہے کہ عمران کے ساتھ بیک ڈورچینل پربات چیت جاری ہے اورناکامی کامنہ دیکھتے ہی اس کی تردیدکردی جاتی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ یہ دونوں کردارایسے ہم مزاج ہیں کہ ایک دوسرے کی تعریفوں کے پل باندھنے میں کبھی بخیلی سے کام نہیں لیتے۔
اپنابھی کچھ خیال کر،اے دل بجزلحاظ
موقع ملے توجھاڑکبھی آستین کے سانپ
سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...
اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...
9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...
افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...
3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...