وجود

... loading ...

وجود
وجود

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

جمعه 19 اپریل 2024 عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

معصوم مرادآبادی

اس وقت پورے ملک میں عام انتخابات کی زبردست گہما گہمی ہے ۔ سبھی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے ایڑی سے چوٹی تک زور لگا رہی ہیں، لیکن ان میں ایک پارٹی ایسی بھی ہے جس کی قیادت سلاخوں کے پیچھے ہے اور اسے اپنے وجود کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے ۔یہ ہے دہلی اور پنجاب میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی۔ اس پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کوعام انتخابات کا بگل بجنے کے بعدجیل بھیج دیا گیا ہے ۔کجریوال اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور وہیں سے حکومت کا کاروبار چلارہے ہیں۔وہ تہاڑ جیل نمبر دو میں زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے اور یوگ کرنے میں گزارتے ہیں۔عدالت کے حکم پر انھیں میزکرسی اور بجلی سے چلنے والی کیتلی فراہم کی گئی ہے ۔وہ اپنا زیادہ وقت مراقبہ میں گزارتے ہیں۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی سرکار سلاخوں کے پیچھے سے چل رہی ہے ۔شراب گھوٹالے میں وزیراعلیٰ اروند کجریوال کے علاوہ سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا اور سابق وزیر ستیندر جین بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں، البتہ پارٹی کے تیز طرار لیڈر سنجے سنگھ کو سپریم کورٹ نے ضمانت پررہا کردیا ہے اوروہ اپنی گھن گرج کے ساتھ انتخابی میدان میں کود پڑے ہیں۔ انھوں نے شراب گھوٹالے کے لیے الٹے بی جے پی کو ہی مورد الزام قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کجریوال کوسازش کے تحت جیل بھیجا گیا ہے تاکہ عام آدمی پارٹی کو ختم کیا جاسکے ۔ واضح رہے کہ سنجے سنگھ پچھلے چھ ماہ سے تہاڑ جیل میں قیدتھے ۔ای ڈی نے انھیں کسی سمن کے بغیر اچانک گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔جیل میں رہ کر ہی وہ دوبارہ راجیہ سبھا کے ممبر نامزد ہوئے اور اپنی رکنیت کا حلف لینے جیل ہی سے وہ راجیہ سبھا سکریٹریٹ پہنچے تھے ۔
سنجے سنگھ کی رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عام آدمی پارٹی کو چناؤ میدان میں خاصی دشواریوں کا سامنا ہے ، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان دشواریوں میں کچھ کمی آئے گی، کیونکہ سنجے سنگھ مودی سرکار کے خلاف عام آدمی پارٹی کی سب سے مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ہرچند کہ پارٹی کے قومی کنوینر وزیراعلیٰ اروند کجریوال ہیں، لیکن سنجے سنگھ جس موثر انداز میں اپنی بات کہتے ہیں،ایسا ہنر ان کی پارٹی میں کسی اور کے پاس نہیں ہے ۔ خود اروند کجریوال کے پاس بھی نہیں۔سبھی جانتے ہیں کہ عام آدمی پارٹی اس وقت سب سے بڑے سیاسی بحران سے گزررہی ہے ۔اس کے تمام سینئر لیڈر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ جو باہر ہیں، ان پر بھی گرفتاری کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔ کابینی وزیر آتشی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ چناؤ سے پہلے انھیں، سوربھ بھاردواج، درگیش پاٹھک اور راگھو چڈھا کو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔ آتشی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہاگر اپنا سیاسی کیریر بچانا ہے تو بی جے پی میں شامل ہوجاؤ۔
سپریم کورٹ نے سنجے سنگھ کو ضمانت دے کر واقعی عام آدمی پارٹی کو بہت بڑی راحت دی ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی چھوٹ دی گئی ہے ۔لہٰذا اب وہ پارلیمنٹ کے چناؤ میں کھل کر اپنی بات کہیں گے ۔عام آدمی پارٹی اس وقت اپوزیشن اتحاد’انڈیا’ کے ساتھ مل کر چناؤ لڑرہی ہے ۔ دہلی میں اس نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کیا ہے اور یہاں کی سات لوک سبھا سیٹوں میں تین سیٹیں کانگریس کے لیے چھوڑی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب اور گجرات میں بھی یہ دونوں پارٹیاں مل کر چناؤ لڑرہی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس اس وقت پوری طرح عام آدمی پارٹی کی پشت پر ہے ۔ اس کا ایک نظارہ گزشتہ اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں اس وقت دیکھنے کوملا جب اپوزیشن کی ریلی کے اسٹیج پر اروند کجریوال کی بیوی کو سونیا گاندھی نے اپنے پہلو میں بٹھایا۔یہ وہی کانگریس پارٹی ہے ، جس کی 2013میں اینٹ سے اینٹ بجانے میں کجریوال نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت کانگریس کو اقتدار سے محروم کرنے میں سب سے بڑا کردارکجریوال اور اناہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم کا تھاتو بے جا نہیں ہوگا۔لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، وہ بات آج اس صورتحال پر پوری طرح صادق آتی ہے ۔کانگریس کو بھی اس وقت دہلی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی سے سمجھوتہ کرکے نئی زندگی ملی ہے ۔ ورنہ کبھی بلاشرکت غیرے ان دونوں ریاستوں میں سرکار چلانے والی کانگریس حاشئے پر چلی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے سنجے سنگھ کو ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمانت کو نظیر کے طورپر نہیں لیا جائے گا۔ یعنی اس حکم سے جیل میں قید عام آدمی پارٹی کے دیگر لیڈروں کو راحت نہیں ملے گی اور وہ ابھی جیل میں ہی رہیں گے ۔دہلی آب کاری کیس میں عام آدمی پارٹی کے جن لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سب سے زیادہ تعجب خیز گرفتاری وزیراعلیٰ اروند کجریوال کی ہے ۔۔ ای ڈی عدالت نے کجریوال کو پندرہ دنوں کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا ہے ۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں وہ پہلے وزیراعلیٰ ہیں جو سلاخوں کے پیچھے رہ کر حکومت چلارہے ہیں، ورنہ اس سے پہلے جن وزرائے اعلیٰ پر بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں، انھوں نے استعفیٰ دے کر گرفتاری پیش کی ہے ۔ اس کا تازہ ثبوت جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین ہیں۔
گزشتہ اتوار کو کجریوال کی گرفتاری کے خلاف دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کی جوکامیاب ریلی منعقد ہوئی تھی، اس نے حکومت پر اس حدتک اثر ڈالا کہ وزیراعظم نے اس کے جواب میں دہلی سے قریب میرٹھ میں ریلی کی اور بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے اپوزیشن لیڈروں پر نشانہ سادھا، لیکن اس کے اگلے ہی روز انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ثبوتوں کے ساتھ حکومت کی بدعنوانی مخالف مہم کی پول کھول دی۔ اخبار نے لکھا کہ کس طرح دودرجن سے زیادہ اپوزیشن لیڈروں کو گرفتاری کا خوف دکھاکر بی جے پی میں شامل کیا گیا اور انھیں عہدے بانٹے گئے ۔ یعنی جو کوئی بدعنوان لیڈر بی جے پی میں شامل ہوگیا اس کے سو گناہ معاف کردئیے گئے ۔
اپوزیشن اتحاد کی ریلی میں پورے ہندوستان سے انڈیا اتحاد کے قائدین شریک ہوئے اور اروند کجریوال کے علاوہ جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے حق میں بھی آواز بلند کی۔ اس موقع پر ان دونوں لیڈروں کی بیویوں کواسٹیج پر بٹھایا گیا۔اس ریلی میں تمام لیڈروں نے ملک میں جمہوریت اور آئین بچانے پر زور دیا۔ اس موقع پر اروندکجریوال کی بیوی نے ریلی میں اپنے شوہر کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ”ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ اروند کجریوال کو زیادہ دنوں سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جاسکتا۔
عام آدمی پارٹی نے اپنے لیڈر سنجے سنگھ کو ملی ضمانت کو سچائی کی جیت قرار دیتے ہوئے اسے بی جے پی کی شکست سے تعبیر کیا ہے ۔سنجے سنگھ
عام آدمی پارٹی کے سب سے زیادہ بے باک لیڈر ہیں اور ان کی سیاسی سوجھ بوجھ بھی پارٹی میں سب سے بڑھ کر ہے ۔ دراصل ان کی پرورش جن لوگوں کے درمیان ہوئی ہے وہ سیاست کی گہری سمجھ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سنجے سنگھ جب بولتے ہیں تو ان کی گفتگو بڑی معنی خیز ہوتی ہے اور دل پر براہ راست اثر کرتی ہے ۔ ان کے سیاسی گرو سینئر سوشلسٹ رہنما رگھوٹھاکر ہیں جو آج بھی بوریا نشینی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ میں نے برسوں پہلے سنجے سنگھ کو رگھو ٹھاکر کی کٹیا میں ہی دیکھا تھا۔ اس وقت وہ سیاسی عزائم سے لبریز ایک سرگرم نوجوان تھے ، مگر اب ان میں خاصی پختگی آگئی ہے ۔ وہ ایک بے لاگ اور بے باک لیڈر کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ان کا باہر آنا عام آدمی پارٹی کے لیے بڑی راحت کی بات ہے ۔سنجے سنگھ کی تنظیمی صلاحیتوں سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ ‘انڈیا اتحاد’ کے سبھی لیڈروں سے ان کے اچھے مراسم ہیں۔ان کی رہائی عام آدمی پارٹی کے لیے ایک اچھی خبر ہے اور لوک سبھا الیکشن میں اس کیبہتر اثرات مرتب ہوں گے ۔ ان کی رہائی سے عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران کسی حدتک کم ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے ! وجود جمعرات 30 مئی 2024
کوفیہ فلسطینی مزاحمت کی علامت ہے !

امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار وجود جمعرات 30 مئی 2024
امن دستوں کا عالمی دن۔پاک فوج کا کردار

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل وجود جمعرات 30 مئی 2024
وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

چائے پانی وجود بدھ 29 مئی 2024
چائے پانی

دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟ وجود بدھ 29 مئی 2024
دلی والے : ہاتھ میں جھاڑو دل میں کیا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر