وجود

... loading ...

وجود

بھٹو پھانسی ریفرنس، سپریم کورٹ، پراسیکیوشن، مارشل لاء قصور وار کون؟ چیف جسٹس

پیر 08 جنوری 2024 بھٹو پھانسی ریفرنس، سپریم کورٹ، پراسیکیوشن، مارشل لاء قصور وار کون؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا ہے کہ کیا اس فیصلے میں سپریم کورٹ قصوروار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اْس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر قصور وار ہے؟۔پیر کو چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے بھٹو ریفرنس کی سماعت کی ۔لارجر بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اپنی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے ۔بلاول بھٹو زر داری کا سپریم کورٹ کے داخلی دروازے پر پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے آمنا سامنا ہوا ۔ بلاول بھٹو زرداری پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے گرمجوشی سے بغل گیرہوئے۔لطیف کھوسہ کو دیکھ کر بلاول نے قہقہہ لگا کر کہا کہ دیکھو دیکھو مجھے کون نظر آیا؟،پی ٹی آئی رہنما اور وکیل لطیف کھوسہ بھی بلاول بھٹو کو دیکھ کر مسکراتے رہے۔سماعت شروع ہوئی تو پیپلز پارٹی کے رہنما، سینیٹر و وکیل رضا ربانی روسٹرم پر آ ئے ۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے رضا ربانی سے سوال کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟رضا ربانی نے جواب دیا کہ میں عدالتی معاون نہیں، صنم بھٹو، بختاور اور آصفہ کا وکیل ہوں، کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ٹھیک ہو گیا، اس درخواست کو دیکھتے ہیں، عدالتی معاونین کو پہلے سننا چاہیے کیونکہ پچھلے حکم نامے میں سوالات کیے تھے۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ صدارتی ریفرنس ہے تو بہتر ہوتا اگر اٹارنی جنرل کو پہلے سن لیتے کہ اس کیس میں حکومت کہاں کھڑی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو ریفرنس واپس لینے کی ہدایات نہیں تو ان کا موقف آ چکا۔عدالت کی جانب سے مقرر معاون زاہد ابراہیم نے عدالتی معاونت سے معذرت کر لی اور بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار بھٹو جونیئر اور فاطمہ بھٹو نے مجھے وکیل کیا ہے۔اس موقع پر عدالتی معاون صلاح الدین احمد روسٹرم پر آئے جنہوں نے کہا کہ میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کے ورثاء کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں۔عدالتی معاون خواجہ حارث نے کہا کہ بھٹو کیس میں میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعود محمود کے وکیل تھے، اگر مجھ پر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں، آپ فیئر ہیں اس کا یقین سب کو ہے۔عدالتی معاون مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس میں 4 سوالات پوچھے گئے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں ہدایت کی کہ سب سے پہلے آئین کا آرٹیکل 186 پڑھیں جس کے تحت یہ ریفرنس بھیجا گیا، کیا ہمارے پاس اس صدارتی ریفرنس کو نہ سننے کا آپشن ہے؟عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر تو عدالت کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، مگر ریفرنس میں پوچھا گیا سوال مبہم ہو تو عدالت کے پاس دوسرا آپشن ہو گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت کی رائے ہو کہ سوال مبہم ہے تو بھی عدالت کے پاس آپشن رائے دینا ہی ہو گا۔عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایک منفرد کیس ہے، چیف جسٹس نے اسی کیس میں ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر رکھا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی طور پر اس ریفرنس کی بنیاد سابق جج نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے۔دورانِ سماعت احمد رضا قصوری روسٹرم پر آئے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے احمد رضا قصوری کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپ کو ان کی کسی بات پر اعتراض ہے تو لکھ لیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے کر رائے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بینچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ یہ بھی بتا دیں کہ بھٹو ریفرنس میں کیا قانونی سوال پوچھا گیا ہے؟مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بہن نے صدرِ مملکت کے سامنے رحم کی اپیل دائر کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے بذاتِ خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی، عدالت کے سامنے سوال ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر عمل درآمد کا نہیں ہے، بد قسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی واپس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ ایک دھبے کا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دبائو میں فیصلہ دیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ اس کیس میں عدالت نے کوئی فیصلہ کیا تو کیا اپنے ہر فیصلے پر یہی کرنا ہو گا؟سپریم کورٹ نے جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ کا نجی ٹی وی ”جیو نیوز”کو دیا گیا انٹرویو کمرہ عدالت میں چلا دیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک قانونی سوال جو میں سمجھا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس کا فیصلہ غلط تھا، اس کیس میں صرف ایک جج کا انٹرویو آیا دیگر ججز بھی خاموش رہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر فوجداری کیس میں جہاں سیاست ہو اور انصاف نہ ہو تو عدالت کو دوبارہ سننا چاہیے۔چیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے کہا کہ آپ نے کہا کہ یہ منفرد کیس ہے، باقی کیسز سے الگ عدالت اسے دیکھے، آپ نے کہا کہ اس وقت مارشل لاء تھا تو ایک سابق وزیرِاعظم کو پھانسی لگا دی گئی، آپ محنت کریں اور بتائیں کہ یہ عدالت باقی کیسز کو دوبارہ کیوں نہیں کھول سکتی؟ صدرِ مملکت بھی باقی کیسز کے ریفرنس بھیجیں، اس کیس میں ایک جج کا انٹرویو ہے، باقی کیسز میں کچھ اور موجود ہو گا۔مخدوم علی خان نے کہا کہ فوجداری کیسز میں جہاں سیاست شامل ہو انصاف نہ ہو، انہیں درست ہونا چاہیے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں نظرِ ثانی کا دائرہ اختیار استعمال ہو چکا، اب کیا طریقہ کار بچا ہے کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار ہو؟چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واحد نکتہ یہی ہے کہ اْس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بینچ آزاد نہیں تھا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کا تاثر نہیں دیا جا سکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنہوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتے، بھٹو کیس میں بینچ کا تناسب ایسا تھا کہ ایک جج کی رائے بھی اہم ہے، ایک جج کے اکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی۔چیف جسٹس پاکستان نے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کی کاپیاں بنانے اور کاپی پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو دینے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا پورا انٹرویو نہیں سن سکتے متعلقہ پارٹ لگا دیں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے جو سی ڈی دی اس میں صرف وہی حصہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ہے۔عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائی گئی سی ڈی لگانے کی ہدایت کی۔احمد رضا قصوری نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب میں سارا واقعہ لکھا ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے احمد رضا قصوری سے کہا کہ آپ متعلقہ حصہ ڈھونڈ لیں، عدالتی وقت ضائع نہ کریں۔احمد رضا قصوری نے کہا کہ کتاب میں جو لکھا گیا اگر ان پر دبائو تھا تو استعفیٰ دے دیتے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں نہ سمجھائیں جو پڑھنا ہے پڑھ لیں، جج صاحب سے یہ انٹرویو کب لیا گیا؟ نوٹ کر لیں کہ 3 دسمبر 2003ء کو یہ انٹرویو چلایا گیا۔احمد رضا قصوری نے استدعا کی کہ مجھے بلاول بھٹو کی اضافی دستاویزات کی کاپی دی جائے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ آپ کو عدالتی عملہ کاپی دیدے گا، ہم ریفرنس سن رہے ہیں، آپ کا کیس نہیں، آپ مہربانی فرما کر بیٹھ جائیں۔اس موقع پر جسٹس نسیم حسن شاہ کا نجی ٹی وی کو کو دیا گیا انٹرویو عدالت میں دوبارہ چلایا گیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس انٹرویو میں تو مکمل بات ہی نہیں ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یو ٹیوب سے اصل پروگرام ہٹا دیا گیا ہے، آپ ایسا کریں کہ ”جیو نیوز” والا ڈیٹا کاپی کرا لیں۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو ہدایت کی کہ آپ سارے انٹرویو کو دیکھ کر متعلقہ حصہ ہمیں دے دیں، ہم ابھی عدالتی معاون مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ قصوروار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اْس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر قصور وار ہے؟مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سمیع اللّٰہ بلوچ کیس میں تاحیات نااہلی کا فیصلہ لکھا گیا، سمیع اللّٰہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹتے گئے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ سمیع اللّٰہ بلوچ کیس کے فیصلے کا اس ریفرنس سے کیا تعلق ہے؟مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ تعلق یہ ہے کہ فیصلہ غلط ہو تو ججز اپنے طے کردہ اصول سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اگر عدالت سمجھتی ہے کہ بھٹو کیس میں انصاف کا قتل ہوا ہے تو اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، اس سے عدالت کی ساکھ بہتر ہو گی۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت ایسا کرتی ہے تو پھر فیصلوں کی حتمی شکل کیا ہو گی؟ اگر آج صدراتی ریفرنس پر از سرِ نو جائزہ لیا تو کل کو کوئی صدر بھی ریفرنس بھیج دیگا، یہ اصول طے ہو گیا تو فیصلوں کی آئینی حیثیت کیا رہ جائے گی؟مخدوم علی خان نے کہا کہ بھٹو کیس میں مخصوص بینچ نے مخصوص طریقے سے جلد بازی میں فیصلہ کیا، اْس مخصوص بینچ کی جلد بازی سے انصاف کا قتل ہوا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مخدوم علی خان صاحب! آئین کا آرٹیکل 189 پڑھیں، کل کوئی سیشن جج ذوالفقار علی بھٹو کیس کے فیصلے کے تحت ٹرائل کر دے پھر کیا ہو گا؟ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت ماتحت عدلیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ہمیں تاریخ درست کرنے کی ضرورت ہے، یہ سیاہ داغ صرف ایک خاندان پر نہیں کچھ اداروں پر بھی ہے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے مخدوم علی خان کو ہدایت کی کہ آپ تحریری معروضات بھی جمع کرا دیں، اس کیس کو انتخابات کے بعد نہ رکھ لیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مجھے ہدایات ہیں کہ کیس کو جلد سنا جائے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ 2 الیکشن تو پہلے ہی گزر چکے ہیں۔وکیل فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی کہ عدالت پہلے معاونین کو سن لے، اٹارنی جنرل، مجھے اور رضا ربانی صاحب کو بعد میں سنا جائے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے حکم نامے میں کہا کہ عدالتی معاونین سمیت تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے، رضا ربانی، صنم بھٹو، بختاور اور آصفہ بھٹو زرداری کی نمائندگی کریں گے، خواجہ حارث کے والد وعدہ معاف گواہ مسعود محمود کے وکیل تھے۔رضا ربانی نے خواجہ حارث کے عدالتی معاون ہونے پر اعتراض اٹھا دیا جس پر خواجہ حارث نے خود کو بطور عدالتی معاون مقدمے سے الگ کر لیا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فاطمہ بھٹو اور ذوالفقار بھٹو جونیئر کی نمائندگی زاہد ابراہیم کر رہے ہیں، آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی، انتخابات قریب ہیں، اہم مقدمات آنے کی وجہ سے یہ کیس جلد نہیں سن سکتے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت انتخابات کے بعد فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر