وجود

... loading ...

وجود

مسجد اقصیٰ کی فضیلت

جمعه 20 اکتوبر 2023 مسجد اقصیٰ کی فضیلت

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور یہ مسجد حرام، مسجد نبوی کے بعد مسلمانوں کیلئے تیسرا سب سے مقدس ترین مقام ہے، یہ مسجد فلسطین کے شہر یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں کثیر تعداد میں نمازیوں کی گنجائش ہے اور مسجد کے خارجی صحن میں بھی ہزاروں فرزندان توحید نماز ادا کر سکتے ہیں، مسجد اقصیٰ کو باقی مساجد پر فوقیت بھی حاصل ہے اور تاریخی اہمیت بھی حاصل ہے، لہٰذا مساجد میں سب سے افضل مسجد حرام پھر مسجد نبوی اور تیسرا مقام مسجد اقصیٰ کا ہے۔ اسلام کا قبلہ اول ہونے سے لے کر اس منزل تک جہاں نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے رات کے سفر (معراج) کے دوران تمام انبیاء کی نماز باجماعت پڑھائی، مسجد اقصیٰ اسلام کی سب سے خاص تاریخی یادگاروں
میں سے ایک ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو اپنی زندگی میں تین اہم مساجد کی زیارت کرنے کا حکم دیا، مکہ مکرمہ میں
مسجد الحرام،مدینہ منورہ میں مسجد نبوی، اور مسجد اقصیٰ یروشلم میں۔ اس لیے کہ ان تینوں مساجد میں سے کسی ایک میں بھی نماز پڑھنے کا ثواب کسی اور جگہ کی نماز سے پانچ سو گنا زیادہ ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے،وہ ذات پاک ہے جو لے گئی ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ (سورہئ بنی اسرائیل)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 16 یا 17 مہینے تک القدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ دیکھو اپنا منہ کعبہ کی طرف پھیر لو (مکہ میں) (بخاری)۔احادیث نبوی میں بھی مسجد اقصیٰ کا ذکر اور فضیلت تواتر سے ملتی ہے۔ ام المومنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے حج یا عمرہ کی نیت سے مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک کا احرام باندھا تو اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔(سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1737)ہارون بن سعید، ابن وہب، عبدالحمید بن جعفر، عمران بن ابی انس، سلیمان، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ سفر کیا جائے تین مسجدوں کی طرف کعبہ کی مسجد اور میری مسجد، مسجد نبوی اورمسجد اقصیٰ(صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 893)۔
حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! دنیا میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا (مکہ کی) مسجد حرام،میں نے عرض کیا،پھر کون سی؟ آپ ﷺنے فرمایا (بیت المقدس کی) مسجداقصیٰ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 601)حضرت سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی مجلس میں آپس میں اس بات پر گفتگو کی کہ بیت المقدس کی مسجد(اقصیٰ) زیادہ افضل ہے یارسول اللہ ﷺ کی مسجد(نبوی)؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میر ی اس مسجد(نبوی) میں ایک نماز (اجروثواب کے اعتبار سے)اس (بیت المقدس،مسجداقصیٰ) میں چار نمازوں سے زیادہ افضل ہے اور وہ(مسجداقصیٰ) نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے،عنقریب ایسا وقت بھی آنیوالا ہے کہ ایک آدمی کے پاس گھوڑے کی رسی کے بقدرزمین کاایک ٹکڑا ہو جہاں سے وہ بیت المقدس کی زیارت کرسکے (اس کے لئے بیت المقدس کو ایک نظر دیکھ لینا)پوری دنیا یا فرمایا دنیاومافیھا سے زیادہ افضل ہوگا(مستدرک حاکم:8553،طبرانی اوسط:6983،8930،شعب الایمان:3849،صحیح الترغیب:1179)نیز مسجد نبوی میں ایک نماز کاثواب ایک ہزار نمازوں کے برابرہے۔(بخاری:1190،مسلم:1394)یاد رہے کہ مسجد الحرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔(ابن ماجہ:1406)مستدرک حاکم کی حدیث سے بھی یہ معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت بھری ہوئی ہے، اسے کوئی نہیں نکال سکتا، لیکن اس کی زیارت کے سلسلے میں مزیدمصائب وآلام کا شکار ہونا ممکن ہے،حضرت سیدناعبداللہ بن عمروؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب سلیمان بن داؤدبیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں (۱)یا اللہ! میرے فیصلے تیرے فیصلے کے مطابق (درست)ہوں (۲)یا اللہ!مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو ایسی حکومت نہ ملے(۳)یااللہ! جو آدمی اس مسجد (بیت المقدس)میں صرف نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سلیمانؑ کی پہلی دودعائیں تو قبول فرمالی ہیں (کہ ان کا ذکر توقرآن مجید میں موجود ہے)مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کرلی گئی ہوگی(سنن ابن ماجہ:1408،سنن نسائی:693)۔
آج اگر دیکھا جائے یہود و ہنود مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں،مصائب،مظالم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں،مظلوم
مسلمانوں کی پکار سننے والا کوئی نہیں،قبلہ اول بیت المقدس کی بے توقیری اور بے حرمتی کی جا رہی ہے،نہتے فلسطینیوں کو ہر سہولت سے محروم
کر کے ان کی زندگی اجیرن بنائی جا رہی ہے،آج اسرائیلی بربریت جاری ہے اور امریکہ اس بربریت میں اسرائیل کا ناصرف حمایتی ہے
بلکہ وہ مسلمانوں کی اس نسل کشی کا سب سے بڑا مجرم بھی ہے۔ ان دنوں بھی فلسطین میں جو ہو رہا ہے امریکہ کی سرپرستی میں ہی ہو رہا ہے۔
امریکہ ناصرف اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے بلکہ ہر طرح سے مدد بھی کر رہا ہے،اسلحہ و دیگر سازو سامان اسرائیل بھیجا جا رہا ہے جو کسی المیہ
سے کم نہیں،ادھر مسلم ممالک کے حکمران صرف اور صرف بیانات کی حد تک محدود ہیں،عملی طور پر فلسطینیوں کی حمایت یا ان کی مدد کیلئے کچھ نہیں کیا جا رہا اور وقت کا فرعون اسرائیل فلسطینی شہر غزہ کو کھنڈر بنا چکا ہے، انسانی حقوق کے علمبردار ہو نے کا دعویٰ کر نے والا نام نہاد یہ وہی امریکہ ہے جسے نہ تو مظلوم فلسطینیوں کا دہائیوں سے بہتا خون نظر آتا ہے نہ اسے کشمیر میں دہائیوں سے بہتا ہوا خون نظر آتا ہے۔ نہ تو کبھی امریکہ کو خیال آیا کہ فلسطین و کشمیر میں بھی انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ایک عالمی طاقت کے نشے میں دھت امریکہ نے انصاف کا ساتھ دینے کے بجائے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی قوتوں اسرائیل اور بھارت کی پشت پناہی کی ہے، امریکہ کی یہ پالیسیاں ثابت کرتی ہیں کہ وہ اس معاملے میں انسانوں کو دیکھ کر نہیں بلکہ ان کے مذاہب کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، فلسطین کی موجودہ صورتحال بھی دنیا کے تمام اہم ممالک اور عالمی اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک تو اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ اسرائیل کو جنگی سامان اور افرادی قوت بھی فراہم کر رہا ہے۔ یعنی امریکہ دنیا میں ظلم کی حمایت کر رہا ہے۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ اسرائیل کی مدد کر رہا ہے غزہ میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ گھروں کو نقصانات پہنچنے اور خوف کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں اور اس وقت تک کی آمدہ اطلاعات اور خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ہزار سے زائد معصوم بچے اور چار ہزار سے زائد مرد و خواتین شہید ہو چکے ہیں،اقوام متحدہ کی طرف سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ غزہ میں تقریباً تہتر ہزار سے زائد افراد نے مختلف اسکولوں میں پناہ لی ہوئی ہے، ان اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، غزہ پر اسرائیلی حملے سے قبل یہاں دو سے تین لاکھ کے قریب افراد رہائش پزیر تھے، اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن کی سپلائی رو ک رکھی ہے بلکہ ان کو وہ تمام ضروری سہولیات جو میسر ہو تی ہیں وہ منقطع کر دی گئی ہیں،پانی، خوراک، ایندھن، انٹرنیٹ، بجلی کی سہولت سے فلسطینی عوام کو محروم کر دیا گیا ہے،امن کے نام نہاد علمبرداروں کا یہ وہ چہرہ ہے جسے دنیا متعدد بار دیکھ تو چکی ہے لیکن بوجوہ اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کوئی بولتا ہے تو موت کے سوداگر اکٹھے ہو کر اس کے خلاف ہو جاتے ہیں،تب بھی ان مجاہدین جوان، مرد،خواتین اور بچوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ ان کے عزائم و حوصلے مزید بلند ہیں،میں بطور مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں، ماؤں، بہنوں کی جرأت کو سلام پیش کرتا ہوں،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو آزادی نصیب فرمائے۔آمین


متعلقہ خبریں


پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعد...

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت وجود - منگل 26 دسمبر 2023

انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے ملک اور بالخصوص پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 2 درجن سے زیادہ منشیات کے عادی افراد کو منشیات کی لت سے نجات دلاکر انھیں کارآمد شہری بنانے کیلئے قائم کئے بحالی مراکز پر منتقل کئے جانے کی اط...

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے وجود - بدھ 13 دسمبر 2023

لاہور میں نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ نیا مطالبہ کیا ہے کہ صرف حکومت نہیں جعلی مقدمات پر احتساب بھی چاہتے ہیں، ان کے7 سال کس نے ضائع کیے، کس نے جھوٹے مقدمات بنا کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ سب کے نام سامنے آ چکے ہیں مگر ان کا احتساب کون کرے گا؟ بات اس...

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے

یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود - اتوار 19 نومبر 2023

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کی جانب سے یہودی مخالف پوسٹ کی حمایت کی وائٹ ہاؤس نے شدید مذمت کی ہے اور والٹ ڈزنی سمیت اہم کمپنیوں نے ایکس کو اشتہارات دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) ...

یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

اسرائیلی جارحیت کا تیسرا ہفتہ وجود - جمعه 27 اکتوبر 2023

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو اب تیسرا ہفتہ شروع ہوچکاہے اور امریکہ اور برطانیہ کی لامحدود امداد اور غیر مشروط حمایت سے اسرائیلی فوج تاریخ کی بدترین بربریت میں مشغول ہے اور وہ ہر قیمت پر غزہ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے تاہم بہادر حماس کی فدائی ابھی تک اس کی ہر کوشش کو ناکام بنائے ہ...

اسرائیلی جارحیت کا تیسرا ہفتہ

غزہ موت وزیست کی کشمکش میں وجود - بدھ 25 اکتوبر 2023

غزہ بدستور محاصرے میں ہے اور اسرائیل نے اپنی سرحد پر پانی، بجلی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی روک دی ہے۔ طبی خیراتی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں زخمیوں کی ’اگلے چند گھنٹوں‘ میں ہلاکتوں کا خطرہ ہے۔پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ غزہ میں 10 لاکھ س...

غزہ موت وزیست کی کشمکش میں

ایس ایم ظفر بھی اس فانی دنیا میں نہیں رہے وجود - پیر 23 اکتوبر 2023

معروف قانون دان،پارلیمنٹرین اور حقوق انسانی کے علمبردار سابق وفاقی وزیر ایس ایم ظفر بھی اب اس فانی دنیا میں نہیں رہے(اناللہ وانا الیہ راجعون)۔ مرحوم طویل عرصے سے علیل تھے۔ ان کاشمار انتہائی قابل قانون دان اور علم و دلیل اور شائستگی سے گفتگو کرنے والے انسانوں میں ہوتا تھا،ایسے لوگ...

ایس ایم ظفر بھی اس فانی دنیا میں نہیں رہے

مضامین
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات وجود بدھ 21 فروری 2024
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات

تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ وجود بدھ 21 فروری 2024
تشکیل سے پہلے نئی حکومت کا خاتمہ

سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی وجود بدھ 21 فروری 2024
سمجھوتہ ایکسپریس : متاثرین 17 سال سے انصاف کے متلاشی

یہ کمپنی نہیں چلے گی!! وجود منگل 20 فروری 2024
یہ کمپنی نہیں چلے گی!!

امریکی جنگی مافیااورعالمی امن وجود منگل 20 فروری 2024
امریکی جنگی مافیااورعالمی امن

اشتہار

تجزیے
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود پیر 19 فروری 2024
پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود جمعرات 11 جنوری 2024
گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود جمعرات 11 جنوری 2024
سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

اشتہار

دین و تاریخ
دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود منگل 06 فروری 2024
حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر