وجود

... loading ...

وجود
وجود

نگراں وزیراعظم اس کھلی لاقانونیت کا نوٹس لیں

اتوار 03 ستمبر 2023 نگراں وزیراعظم اس کھلی لاقانونیت کا نوٹس لیں

     ہائی کورٹ نے گزشتہ روز سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سختی کے ساتھ ہدایت کی تھی کہ کوئی اتھارٹی یا ادارہ انہیں دوبارہ گرفتار نہ کرے، عدالت نے پرویز الہٰی کو پولیس کی نگرانی میں گھر روانہ کیاتھا تاہم راستے میں انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پرویز الٰہی کی نیب میں گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی اور عدالت نے فوری عبوری ریلیف دیتے ہوئے پرویز الٰہی کو نیب تحویل سے رہا کرنے کا حکم دے دیاتھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ انکوائری ہوگی کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز الہٰی کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ روز نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ پرویز الہٰی کو جمعہ کی صبح 10 بجے پیش کردیا جائے گا لیکن عدالتی حکم کے باوجود ایک مرتبہ پھر پرویز الٰہی کو عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا۔سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ بتائیے پرویز الٰہی کدھر ہیں، کیوں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟ حکومت پنجاب کے وکیل غلام سرور نہنگ نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے پنجاب حکومت کو سیکورٹی کے لیے خطوط لکھے ہمیں سماعت کا تحریری حکم نہیں ملاتھا۔عدالت نے باور کرایا کہ تحریری حکم جاری ہوچکا تھا اس کا مطلب ہے آپ پرویز الٰہی کو پیش نہیں کرنا چاہتے۔ نیب پراسکیوٹر کا موقف تھا کہ ہم پرویز الٰہی کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پرویز الٰہی کی زندگی کو شدید خطرات ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کی عزت انہی عدالتوں سے ہے۔جسٹس امجد رفیق نے ایک بار پھر حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو ایک گھنٹے میں پیش کریں۔ آپ پنگ پانگ کھیل رہے ہیں۔ کئی مرتبہ پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جاچکا ہے۔ جسٹس امجد رفیق نے واضح ہدایات جاری کیں کہ حکومت کو چھوڑیں، آپ پرویز الٰہی کو پیش کریں۔ حکومت نیب کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تو نہ کرے۔عدالت نے ایک گھنٹے میں پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دیا اور باور کرایا کہ اگر پرویز الٰہی کو پیش نہ کیاگیا تو ڈی جی نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے۔عدالتی حکم پر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالتی حکم کے بعد نیب حکام پرویز الٰہی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہماری طرف سے آزاد ہیں، آپ جاسکتے ہیں۔پرویز الٰہی کے وکلا کا موقف تھا کہ عدالتی تحریری حکم ملنے کے بعد عدالت سے روانہ ہوں گے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود عدالت کے باہر یونیفارم اور بغیر یونیفارم کے بھاری نفری موجود ہے، لگ رہا ہے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرنے کا پلان ہو چکا ہے، عدالتیں بنیادی حقوق کے تحفظ کی گارنٹی دیتی ہیں، پولیس عدالت کے باہر کھڑی ہے، عدالت کو چاہیے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ پرویز الٰہی کو گھر تک سیکورٹی دی جائے۔جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ہم پنجاب پولیس کے کسی افسر کو کہتے ہیں وہ پرویز الہی کو گھر چھوڑ آئیں، جسٹس امجد رفیق نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو بلا لیا۔ ایس پی اقبال ٹاؤن کو عدالت نے روسٹرم پر طلب کرلیا جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ آپ ایک دو افسران اور لیں اور پرویز الٰہی کو گھر چھوڑ کر آئیں، اس پر ایس پی نے کہا کہ جو عدالت کا حکم ہوگا اس پر عمل کریں گے۔جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ مکمل ذمہ داری آپ کی ہو گی اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ اس دوران پولیس والے پرویز الہٰی کی دوبارہ گرفتاری کے لیے نیب سے لڑتے رہے اور پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے لیکن، نیب کی جانب سے دوبارہ گرفتاری سے صاف انکار پرویز الہٰی کی پیشی کے موقع پر نیب اہل کاروں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو دھکے دیے گئے، پولیس اہلکار پرویز الہٰی کو لانے والے نیب اہل کاروں سے الجھتے رہے اور انہیں پرویز الہٰی کو دوبارہ گرفتار کرنے کا کہتے رہے، مگر نیب نے پرویز الہی کے رہائی کے حکم کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرنے سے انکار کر دیا۔ پولیس اہلکار نیب اہل کاروں کی پرویز الہٰی کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے منت سماجت بھی کرتے رہے مگر نیب افسران نہ مانے۔ اس دوران پولیس اور نیب اہلکاروں کے مابین ہاتھا پائی ہوگئی۔ایک نیب افسر نے کہا کہ پولیس کی وجہ سے گالیاں ہم نہیں سن سکتے۔ نیب افسرکے حکم پر تمام افسران اور اہلکار لاہور ہائیکورٹ سے روانہ ہوگئے۔لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہٰی کی رہائی کا تحریری حکم جاری کردیا جس میں عدالت نے پرویز الہٰی کو نیب اور کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے گرفتار کرنے سے روک دیا۔تحریری حکم میں کہا گیا تھا کہ کوئی اتھارٹی، ایجنسی اور آفس، درخواست گزار کو گرفتار نہ کرے، پرویز الہٰی کو نظر بندی کے قانون کے تحت بھی حراست میں نہ لیا جائے۔ تحریری حکم میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے پرویز الہٰی کو کسی انکوئری، مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکا تھا، نیب نے پرویز الہٰی کو اس وقت گرفتار کیا جب سنگل بینچ کا فیصلہ معطل تھا،2رکنی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل مسترد کی تھی اور سنگل بینچ کا فیصلہ بحال کردیا تھا، 2 رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد نیب کی حراست غیر قانونی تھی۔حکم میں مزید کہا گیا تھا کہ عدالتی ہدایت پر درخواست گزار کو عدالت میں پیش کیا گیا یہ عدالت درخواست گزار کو رہا کرنے کا حکم دیتی ہے۔عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی اور سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔بعد ازاں پرویز الہٰی نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ن لیگ آئی ہے انہوں نے مہنگائی ہی کی ہے۔ ملک کا بیڑہ غرق کرکے ن لیگ کی قیادت لندن بھاگ گئی ہے۔ مجھے تو اندر رکھا ہوا  تھا، پتہ نہیں ملک کا کیا کررہے ہیں۔پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ اب تو آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا ہے کہ الیکشن کرائیں جس کے لیے میں پرعزم ہوں۔ عدالتی حکم کے باوجود کئی گھنٹے تک پرویز الہٰی عدالت کے اندر رہے اور باہر نہیں گئے تاہم عدالت کی یقین دہانی کے بعد وہ گھر کی جانب روانہ ہوئے تاہم عدالت کے سخت اور واضح حکم کے باوجود2 ڈی آئی جیز کی موجودگی میں انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔عدالت نے انہیں ایس پی کی نگرانی میں اور سخت سیکورٹی میں گھر کی جانب روانہ کیاتھا، قافلے میں ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن بھی موجود تھے جبکہ پولیس کی متعدد موبائلیں پرویز الہٰی کی گاڑی کے آگے اور پیچھے موجود تھیں تاہم کچھ گاڑیاں آئیں ایف سی کالج کے قریب پولیس کے قافلے کو روک کر پرویز الہٰی کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ پرویز الہٰی کو سفید رنگ کی گاڑی میں بٹھا کر سادہ لباس نقاب پوش اپنے ہمراہ لے گئے۔ اطلاعات ہیں کہ انہیں اسلام آباد پولیس اپنے ساتھ لے گئی ہیں جس نے انہیں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا ہے۔
      لاہور ہائیکورٹ کے واضح حکم اور عدالتی حکم پر فراہم کی گئی پولیس کی سیکورٹی کے باوجود پرویز الٰہی کو گرفتار کرکے بادی النظر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے،کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں اعلیٰ عدالتوں کے احکام کی بھی کوئی وقعت نہیں ہے اور انھیں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے،یہ سوچ ہر اعتبار سے انتہائی خطرناک اور خود ملک کی سلامتی اور قانون کی بالادستی کیلئے انتہائی خطرناک ہے،ملک کے مقتدر حلقوں کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور سرعام اعلیٰ عدالت کے احکام کی دھجیاں ں اڑا کر پرویز الٰہی کو دوبارہ زبردستی گرفتار کرنے والے اہلکاروں اور افسران کے خلاف فوری طور پر سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیاتو ملک میں مکمل لاقانونیت پھیل سکتی ہے اور ہر ادارہ اپنی من مانی پر اترآئے تو نظام حکومت ٹھپ ہوکر رہ جائے گا،ہم سمجھتے ہیں کہ نگراں وزیراعظم کو تمام مصروفیات چھوڑ کر اس واقعے کا نوٹس لینا چاہئے اور ذمہ دار عناصرکو فوری طورپر کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے،اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتی احکام کی خلاف ورزی کرنے والے ان سے زیادہ طاقتور ہیں اور وہ ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے یا کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو انھیں فوری طورپر اپنے اس عارضی عہدے سے استعفیٰ دے کر حکومت سے باہر آجانا چاہئے،ورنہ لوگ یہ سمجھنے پر بجاطورپر مجبور ہوں گے کہ موجودہ نگراں حکومت غیر جانبدار نہیں ہے اور کسی خاص ایجنڈے پر کام کررہی ہے اور نگراں حکومت کا اصل کام صاف،شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کیلئے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے بجائے ایک مخصوص جماعت کو انتخابی دنگل سے الگ رکھنے کیلئے اس کے تمام ہمدردوں اور حامیوں کو دیوار میں چنوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔نگراں وزیراعظم کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ سدا حالات ایک جیسے نہیں رہتے اور سیاست میں حالات کا رخ تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی،لیکن ان کے اس طرح کے اقدامات یا ایسے اقدامات سے چشم پوشی کا رویہ لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ رہے گا اور تاریخ بہت  ہی سفاک ہے وہ کسی کو معاف نہیں کرتی،اور چند روزہ حکمرانی کیلئے ان کی جانب سے کی جانے والی ناانصافیاں ان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے دفن کرسکتی ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ نگراں وزیراعظم سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں عدالتی احکام کی اس طرح کی تذلیل کو خاموشی سے برداشت نہیں کریں گے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے فوری طورپر انھیں قرار واقعی سزا دلوانے کی کوشش کریں گے تاکہ ان کی غیرجانبداری اور نیک نامی متاثر نہ ہو۔
                                           ٭٭٭
                                           


متعلقہ خبریں


رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود - بدھ 13 مارچ 2024

مولانا زبیر احمد صدیقی رمضان المبارک کو سا ل بھر کے مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے، جو مادی دنیا میں موسم بہار کو سال بھر کے ایام وشہور پر حاصل ہوتا ہے۔ موسم بہار میں ہلکی سی بارش یا پھو ار مردہ زمین کے احیاء، خشک لکڑیوں کی تازگی او رگرد وغبار اٹھانے والی بے آب وگیاہ سر زمین کو س...

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود - منگل 27 فروری 2024

نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلو میٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی،...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود - هفته 24 فروری 2024

سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر جسے اب ا یکس کا نام دیاگیاہے کی سروس بحال ہوگئی ہے جس سے اس پلیٹ فارم کو روٹی کمانے کیلئے استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے سکون کاسانس لیاہے، پاکستان میں ہفتہ، 17 فروری 2024 سے اس سروس کو ملک گیر پابندیوں کا سامنا تھا۔...

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود - جمعه 23 فروری 2024

ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی میں 1.8فی صد اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی 30.2 فی صد دیہی علاقوں میں 25.7 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فی صد رہی۔ابھی مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے ادارہ ش...

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعد...

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت وجود - منگل 26 دسمبر 2023

انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے ملک اور بالخصوص پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 2 درجن سے زیادہ منشیات کے عادی افراد کو منشیات کی لت سے نجات دلاکر انھیں کارآمد شہری بنانے کیلئے قائم کئے بحالی مراکز پر منتقل کئے جانے کی اط...

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے وجود - بدھ 13 دسمبر 2023

لاہور میں نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ نیا مطالبہ کیا ہے کہ صرف حکومت نہیں جعلی مقدمات پر احتساب بھی چاہتے ہیں، ان کے7 سال کس نے ضائع کیے، کس نے جھوٹے مقدمات بنا کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ سب کے نام سامنے آ چکے ہیں مگر ان کا احتساب کون کرے گا؟ بات اس...

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے

مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر