وجود

... loading ...

وجود

تین چار دن دیکھیں گے یہ کیا ہو رہا ہے، ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، چیف جسٹس

پیر 15 مئی 2023 تین چار دن دیکھیں گے یہ کیا ہو رہا ہے، ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، چیف جسٹس

پنجاب انتخابات کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں۔ عدالت عظمیٰ میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سیکریٹری سپریم کورٹ بار مقتدر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار اور وکلاء عدالت کے ساتھ ہیں، عدلیہ کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے پہلے یہ موقف اپنایا ہی نہیں تھا اور جو نکات پہلے نہیں اٹھائے کیا وہ اب اٹھائے جا سکتے ہیں، مناسب ہوگا یہ نکات کسی اور کو اٹھانے دیں جبکہ عدالتی دائرہ اختیار کا نکتہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں اٹھایا تھا۔ وفاقی حکومت یہ نکتہ اٹھا سکتی تھی لیکن انہوں نے نظرثانی دائر ہی نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیے۔ وکیل پی ٹی آئی علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ نظرثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور نظرثانی درخواست میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست قابل سماعت ہونے پر الیکشن کمیشن کا موقف سننا چاہتے ہیں، صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کرکے سنیں گے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کریں گے، بعض نکات غور طلب ہیں ان پر فیصلہ کریں گے۔ وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی نے موقف دیا کہ نظر ثانی کا دائرہ محدو د نہیں ہوتا اور آئینی مقدمات میں دائرہ اختیار محدود نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ نظرثانی میں نئے نکات نہیں اٹھائے جا سکتے۔ وکیل پی ٹی آئی علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی گزر چکا ہے اور آئین کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ نگراں حکومتیں اب غیر آئینی ہوچکی ہیں، عدالت اپنے فیصلے پر عمل کروائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ حتمی ہوجائے پھر عمل درآمد کرائیں گے، الیکشن کمیشن کا موقف تھا وسائل دیں انتخابات کروا دیں گے لیکن اب الیکشن کمیشن نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت بہت زیادہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل ایک اور اہم معاملہ ہے، جلدی تب کرتے جب معلوم ہوتا الیکشن کا وقت آ گیا ہے اور جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں، لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، ادارے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں ہیں، لوگوں کی نجی اور سرکاری املاک کا نقصان ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین پر عمل درآمد میرا فرض ہے جو کرتا ہوں لیکن باہر جو ماحول ہے اس میں آئین پر عمل درآمد کون کرائے گا، کسی ایک فریق کا اخلاقی معیار ہوتا تو دوسرے کو الزام دیتے اس لیے حکومت اور اپوزیشن سے کہتا ہوں اعلیٰ اخلاقی معیار کو تلاش کریں، فروری میں ایک فریق آئین کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ باہر جا کر دیکھیں کیا ہو رہا ہے، امن و امان کے ماحول کو برقرار رکھنے میں حصہ ڈالیں، مشکل وقت میں صبر کرنا ہوتا نہ کہ جھگڑا، لوگ آج دیواریں پھلانگ رہے تھے لیکن حکومت ناکام نظر آئی، تین چار دن دیکھیں گے یہ کیا ہو رہا ہے، ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں اور اداروں کا احترام کرنا ہوگا، لوگ گولیوں سے زخمی ہوئے اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا گیا، جمہوریت کی بنیاد انتخابات ہیں، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب مذاکرات بحال کیوں نہیں کرائے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم کے 2افراد گرفتار ہوچکے ہیں، پی ٹی آئی کی تمام قیادت گرفتار ہے تو ایسے ماحول میں کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں، اب مذاکرات نہیں صرف آئین پر عمل چاہیے۔ اٹارنی جنرل نے موقف دیا کہ بہت کوشش کرکے فریقین کو میز پر لایا تھا اور فریقین میں کافی حد تک اتفاق رائے ہوچکا تھا، کچھ وقت اور مل جاتا تو شاید مسئلہ حل ہو جاتا۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ گرفتاریاں جاری رہیں اور تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کو جس انداز سے گرفتار کیا گیا اس سے خوف پھیلا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو ریلیف مل چکا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ غلطی کی اصلاح عدالت کر چکی ہے۔ چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت، کے پی حکومت، پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی کو بھی نوٹسز جاری کر دیے۔ آئندہ سماعت کی تاریخ جاری کر دیں گے۔


متعلقہ خبریں


قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ وجود - پیر 16 فروری 2026

کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...

قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری وجود - پیر 16 فروری 2026

شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...

اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن وجود - پیر 16 فروری 2026

حکومت مذاکرات کیلئے تیار ،جماعت اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی منعم ظفر کون ہوتے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کریں، سینئر صوبائی وزیرکی گفتگو سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،حکومت مذاکر...

کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شرجیل میمن

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم وجود - پیر 16 فروری 2026

رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتا ہیں پرامن رہ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے دستبردار نہیں ہوں گے،امیر جماعت اسلامی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم...

پیپلز پارٹی نے وہی کیا جو اس کی تاریخ ہے،حافظ نعیم

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ وجود - پیر 16 فروری 2026

سندھ نے پاکستان بنایا، ورغلانے والے سن لیں، صوبے کے باسی کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے سندھ متحد رہے گا، کل بھی کچھ لوگوں نے صوبہ بنانے کی بات کی ہے، انہیں کہتا ہوں چپ کرکے بیٹھ جاؤ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ ...

بوری بند لاشیں دینے والوں کو کراچی سے کھلواڑ کا اختیار نہیں ملے گا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا وجود - اتوار 15 فروری 2026

پچھلے سال رقم 20 ارب مختص کی گئی تھی، اس سال 38 ارب مقرر کیے ہیں، شہباز شریف چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میںمستحقین کو فی خاندان 13 ہزار دیے جائیں گے،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ...

وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکیج 38 ارب تک بڑھا دیا

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی وجود - اتوار 15 فروری 2026

میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے احساس ہیبانی پی ٹی آئی کی صحت پر کارکنوں میں غم و غصہ ہے، وزیراعلیٰ پختونخوا کا پیغام وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔سماجی را...

عمران کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کرنے دوں گا،سہیل آفریدی

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

دو ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل،ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں میڈیکل پینل کے معائنہ کے بعد بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگا وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بیان میں رہنما مسلم لیگ (ن) ط...

حکومت کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار وجود - اتوار 15 فروری 2026

میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی، ایران کی فوج ہائی الرٹ ہے کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن ،مناسب جواب دیا جائیگا، علی شمخانی کا انٹرویو ایران نے ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کے مذاکرات کو ناقابل قبول قرار دیدیا۔...

میزائل پروگرام ریڈ لائن ، ایران کاپھر مذاکرات سے انکار

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ وجود - اتوار 15 فروری 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ ، کولمبو میں متوقع بارش نے ممکنہ طور پر میچ پر سوالیہ نشان لگا دیا پاک بھارت میچ بارش کی نذر ہوگیا تو دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے گا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکر آج ہوگا ۔ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھا...

پاک بھارت مقابلہ، بارش سے پوائنٹس کی تقسیم کا خطرہ

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج وجود - جمعه 13 فروری 2026

اپوزیشن کی سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی،ہم سینوں پر گولیاں کھائیں گے،عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد بینائی چلی گئی، معاملات نہ سدھرے تو سڑکوں پر آئیں گیگولیاں بھی کھائیں گے،راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک آنکھ کی 85 فیصد ب...

عمران خان کی صحت متاثر،سینیٹ میں احتجاج

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت وجود - جمعه 13 فروری 2026

عمران اندھا ہو گا تو بہت سے لوگ اندھے ہوں گے(جنید اکبر)ہمارے پاس آپشنز ہیں غور کیا جا رہا ہے(سہیل آفریدی)ہم توقع کرتے ہیں عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائیگا، سلمان اکرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیٔرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تش...

کارکنان نکل آئے تو بھاگنے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی قیادت

مضامین
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط وجود پیر 16 فروری 2026
جدید دور کا پاکستان اورقائداعظم کے نظریہ ٔ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط

امریکہ میں بھارتی دہشت گردی وجود پیر 16 فروری 2026
امریکہ میں بھارتی دہشت گردی

انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے! وجود پیر 16 فروری 2026
انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے!

بنگلہ دیش کا فیصلہ وجود اتوار 15 فروری 2026
بنگلہ دیش کا فیصلہ

عمران خان کا مقدمہ وجود اتوار 15 فروری 2026
عمران خان کا مقدمہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر