وجود

... loading ...

وجود
وجود

عمران خان کی گرفتاری: حکومت،اپوزیشن دونوں کو تحمل سے کام لینا چاہئے

جمعرات 11 مئی 2023 عمران خان کی گرفتاری: حکومت،اپوزیشن دونوں کو تحمل سے کام لینا چاہئے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ایک روحانی اور صوفی ازم پر یونیورسٹی قائم کرنے کے الزام میں گرفتاری کے بعدپورے ملک میں شدید ہنگامہ آرائی جاری ہے،صورت حال کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق شہر میں کسی بھی مقام پر تحریک انصاف کے کسی سطح کے قائدین نظر نہیں آئے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی قیادت کے اس الزام میں بظاہر یہ صداقت نظر آرہی ہے کہ حکمران تحریک انصاف کوشرپسند اور دہشت گردجماعت قرار دے کر تحریک انصاف کو کالعدم قرار دلواکر انتخابات سے باہر کرکے من پسند نتائج حاصل کرسکیں۔ عمران خاں کی گرفتاری ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ملک پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے۔معاشی عد م استحکام نے غریب آدمی سے دو وقت کی روٹی چھین لی ہے،ان حالات میں سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کوٹھیک کرنے کی کوئی سبیل نکالنی چاہیے تھی تاکہ ملک میں سیاسی استحکام سے معاشی حالات بہتر ہو سکیں،مگر انھوں نے اس کے بجائے مخالفین کو دیوار میں چننا شروع کر دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کئی باراس بات کا خدشہ ظاہر کر چکے تھے کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر انھیں کسی وقت بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔اسی بنا پر ان کے کارکنوں میں اشتعال پایا جاتا تھا،عمران خان جب بھی عدالت میں پیشی کے لیے جاتے تھے ان کے کارکن ان کے ساتھ جاتے تھے کیونکہ کارکنوں کو خدشہ تھا کہ ان کے لیڈر کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ عمران خان کو جس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے،وہ کیس کیا ہے؟2019 میں خان کے دور حکومت میں ملک ریاض کی طرف سے زمین عطیہ کی گئی تھی، صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے علاقے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا، جہاں دنیوی تعلیمات کو صوفی ازم اور سیرت النبیؐ کے ساتھ نہ صرف ملا کر پڑھا جائے گا بلکہ اس پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جارہی ہے بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جانے کا بھی پروگرام ہے،جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوں گے بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں گے۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا، جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جائیں گے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر القادر ٹرسٹ کو ملنے والے عطیات یا یونیورسٹی کو ملنے والی گرانٹ میں کوئی مسئلہ تھا،تواس کاباقاعدہ طور پر آئین اور قانون میں ایک طریقہ موجود ہے،اس حوالے صرف اور صرف قانون اور آئین کے مطابق ہی کارروائی ہونی چاہیے تھی نہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ کے شیشے توڑ کر اس انداز سے گرفتار کیا جاتا کہ ان کے کارکنوں میں اشتعال کا باعث بن جائے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کو بھی اس موقع پر صبرو تحمل سے کام لینا چاہیے،قانون ہاتھ میں لینے سے ملکی حالات مزید خراب ہو ں گے،جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کی سیاست ملکی مفاد میں نہیں ہے،لہذا احتجاج کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے،عدالت کو خود اس پر کارروائی کرنی چاہیے کہ رینجرز نے کیسے عدالت میں داخل ہو کر ایک سابق وزیر اعظم کو گرفتار کیا ہے؟ عمران خان سابق وزیر اعظم رہے ہیں،وہ قابل احترام ہیں،لہذا تفتیش کاروں کوآئین و قانون کے مطابق ان سے عزت واحترام کے ساتھ کیس کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی چاہیے،تاکہ سابق وزیر اعظم کااستحقاق مجروح نہ ہو،دوران تفتیش اورجیل میں بھی انھیں وہ تمام سہولتیں فراہم کی جائیں، جو بطورسابق وزیر اعظم ان کا حق ہے۔عمران خان ماضی قریب میں اپنے اوپر ہونے والے حملے میں کئی حاضر سروس آفیسر ز کے نام لے چکے ہیں، لہذا اس وقت ان تمام آفیسرز سے عمران خان کے کسی بھی کیس کی تفتیش نہ کرائی جائے۔ان کی گرفتاری پر ملک گیر کے علاوہ بیرون ملک برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں جو رد عمل بھی ہواہے، وہ عمران خان کی مقبولیت کا بین ثبوت ہے،عدالت کے ا حاطے سے گرفتاری پر وکلاء اور سیاسی حلقوں نے اعتراض کیا ہے کہ احاطہ عدالت سے گرفتاری غلط ہے۔ در اصل یہ ایک چکر ہے جو مسلسل چل رہا ہے۔پی ڈی ایم حکومت نے بھی وہی ہتھکنڈے اختیار کیے جو اس سے قبل پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ الگ الگ اپنے اپنے ادوار میں اختیار کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے لیے بہت سے حیلے کیے گئے پہلے ان کی جان کو خطرات ظاہر کیے گئے پھر یکے بعد دیگرے کئی مقدمات میں ضمانتیں دی گئیں اورجس تیزی سے ضمانتیں دی جا رہی تھیں اسی تیزی سے نئے مقدمات بنائے جاتے رہے، پھر یہ یقینی بنایا گیا کہ پیشی پر کم سے کم لوگ آئیں اور پھر گرفتار کر لیا۔
عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرنے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ غیر قانونی اور توہین عدالت ہے۔ ہو سکتا ہے عمران خان کو بد عنوانی کے الزام میں سیاست میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دے دیا جائے۔پاکستانی سیاست سے سیاستدانوں کی بے دخلی یا اسٹیبلشمنٹ کے دخل اندازی کے الزامات تو موجود ہیں ہی اور عمران خان اس حوالے سے سب سے زیادہ سخت الزامات لگا رہے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں ایک خوف کی فضا بنی ہوئی ہے،لہذا اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کو عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے۔تاکہ احتجاج میں کسی قسم کے تشدد کا عنصر نہ پایا جائے۔عوام کو بتایا جائے کہ سابق وزیر اعظم کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی بلکہ آئین و قانون کے مطابق کیس کی تفتیش کی جائے گی کیونکہ اس وقت ملک کسی قسم کے انتشار اور لڑائی جھگڑے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی بہتری کا سوچا جائے۔کیونکہ عمران خان کو ایک مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کا عدالت میں ٹرائل ہونا ہے جس سے واضح ہو جائے گا کہ انھوں واقعی خلافِ قانون کچھ کیا ہے یا نہیں۔ اسی طرح عمران خان کو بھی چاہیے کہ ان کے پاس اگر کسی افسر کے خلاف واقعی کوئی ثبوت ہیں تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں، اور اگر وہ عدالتِ عظمیٰ کے پاس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تو پھر محض الزام تراشی کر کے لوگوں کی پگڑیاں نہ اچھالیں۔ الزام تراشی کا یہ سلسلہ جتنی جلد بند ہو اتنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس سے ایک طرف اداروں کو نقصان پہنچ رہا ہے تو دوسری جانب ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کے لیے راہ ہموار ہورہی ہے۔


متعلقہ خبریں


نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود - بدھ 01 مئی 2024

بھارت میں عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی اختتام کے قریب ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف مودی کی ہرزہ سرائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جارہاہے اورمودی کی جماعت کی مسلمانوں سے نفرت نمایاں ہو کر سامنے آرہی ہے۔ انتخابی جلسوں، ریلیوں اور دیگر اجتماعات میں مسلمانوں کیخلاف وزارت عظمی کے امی...

نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود - بدھ 13 مارچ 2024

مولانا زبیر احمد صدیقی رمضان المبارک کو سا ل بھر کے مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے، جو مادی دنیا میں موسم بہار کو سال بھر کے ایام وشہور پر حاصل ہوتا ہے۔ موسم بہار میں ہلکی سی بارش یا پھو ار مردہ زمین کے احیاء، خشک لکڑیوں کی تازگی او رگرد وغبار اٹھانے والی بے آب وگیاہ سر زمین کو س...

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود - منگل 27 فروری 2024

نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلو میٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی،...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود - هفته 24 فروری 2024

سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر جسے اب ا یکس کا نام دیاگیاہے کی سروس بحال ہوگئی ہے جس سے اس پلیٹ فارم کو روٹی کمانے کیلئے استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے سکون کاسانس لیاہے، پاکستان میں ہفتہ، 17 فروری 2024 سے اس سروس کو ملک گیر پابندیوں کا سامنا تھا۔...

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود - جمعه 23 فروری 2024

ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی میں 1.8فی صد اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی 30.2 فی صد دیہی علاقوں میں 25.7 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فی صد رہی۔ابھی مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے ادارہ ش...

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعد...

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت وجود - منگل 26 دسمبر 2023

انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے ملک اور بالخصوص پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 2 درجن سے زیادہ منشیات کے عادی افراد کو منشیات کی لت سے نجات دلاکر انھیں کارآمد شہری بنانے کیلئے قائم کئے بحالی مراکز پر منتقل کئے جانے کی اط...

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت

مضامین
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر وجود هفته 15 جون 2024
عمررسیدہ افراد خصوصی توجہ کے منتظر

دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی! وجود هفته 15 جون 2024
دورۂ چین سے توقعات اور حقیقت پسندی!

رات کاآخری پہر وجود هفته 15 جون 2024
رات کاآخری پہر

''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی وجود هفته 15 جون 2024
''را'' کی بلوچستان میں دہشت گردی

بجٹ اور میراثی وجود جمعه 14 جون 2024
بجٹ اور میراثی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر