وجود

... loading ...

وجود

وزیر خارجہ کا دورہ بھارت، امریکا بھارت خوش بلاول بھی خوش!!

هفته 06 مئی 2023 وزیر خارجہ کا دورہ بھارت، امریکا بھارت خوش بلاول بھی خوش!!

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ چکے ہیں، ایس سی او کے اس اجلا میں روس، چین، بھارت اور پاکستان کے علاوہ وسطی ایشیا کے 4 ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔ گوا کے اس اہم اجلاس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارؤف اور چین کے وزیر خارجہ کین گانگ شریک ہو رہے ہیں، 12 سال بعد یہ کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ ہو گا جو ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات متعدد متنازع امور کے باعث سرد مہری کا شکار ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کی آمد سے کچھ دن قبل انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں پونچھ کے علاقے میں بھارتی سیکورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے سے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے ہی سرد فضا اور بھی خراب ہو گئی ہے۔ باہمی تعلقات کے موجودہ تناظر میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تمام تر منفی پہلوؤں کے باوجود بلاول کا بھارت کا دورہ علاقائی تعاون کے تناظر میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔بلاول زرداری کی آمد سے قبل بھارتی میڈیا میں اس بارے میں بھی بحث ہوئی کہ اس اجلاس کے دوران ان کی بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے باہمی نوعیت کی ملاقات ہو گی یا نہیں۔ ایس جے شنکر نے بلاول سے ملاقات کے بارے میں سوال پر دوٹوک جواب دیا کہ ’پڑوسی ملک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے۔جس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کیلئے قطعی تیار نہیں ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ بلاول زرداری بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی دعوت پر ایس سی او کی وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شریک ہو رہے ہیں اور اس اجلاس میں شرکت ایس سی او کے چارٹر اور عمل کے تئیں پاکستان کا عزم اور اس کی خارجہ پالیسی میں خطے کو دی جانے والی اہمیت کا ثبوت ہے۔گزشتہ ہفتے بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’ہم نے سب ہی وزرائے خارجہ کو اس میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ یہ میٹنگ کامیاب ہو۔بھارت اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے سوال پر تعلقات کئی برس سے کشیدہ ہیں۔ بھارت شدت پسندی کی کئی بڑی کارروائیوں کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد پاک بھارت تعلقات مزید خراب ہوئے۔پلوامہ حملہ اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے بالاکوٹ پر فضائی کارروائی اور اس کے جواب میں پاکستان کا فضائی حملہ اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری کا معاملہ بھی ابھی تک دونوں ممالک کے تعلقات میں زیادہ پرانا نہیں ہو ا۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے کسی طرح کی بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور تجارتی تعلقات ختم کر دیے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے ہائی کمشنر میں بھی سفارتی عملہ برائے نام رہ گیا ہے۔ایسے حالات میں بھی بھارت کے معروف دانشور سدھیندر کلکرنی بات چیت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کوئی بھی مسئلہ بالآخر مذاکرات سے ہی حل ہونا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ پڑوسیوں میں بات چیت کبھی بند نہیں ہونی چاہیے۔انھوں نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ بھارت وزیر خارجہ کو چاہیے کہ گوا کے ساحل پر بلاول کے ساتھ دوستانہ ماحول میں بات چیت کریں تاہم بھارتی وزیر خارجہ نے ان کی یہ تجویز ردی کی ٹوکری میں پھینکنے میں ذرا بھی توقف نہیں کیا،اس سے ظاہر ہے اگر بھارت کے وزیر خارجہ نے بلاول سے ہاتھ ملا کر ان سے بات کربھی لی تو یہ ایک رسمی ملاقات سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی، معروف دفاعی تجزیہ کار وں کا بھی خیال ہے کہ بلاول اور جے شنکر کے درمیان کسی باہمی بات چیت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت بھارت میں انتخابات کی فضا ہے۔ حکمراں جماعت یہ نہیں چاہے گی کہ پاکستان کے خلاف ملک میں جو سخت بیانیہ بنایا گیا ہے اس میں کسی نرمی کا اشارہ ملے،تاہم تجزیہ کاروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ تمام تر منفی پہلوؤں کے باوجود بلاول کا یہ دورہ علاقائی تعاون کے تناظر میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کانفرنس میں بلاول کی شرکت سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان بھارت سمیت ہر ایک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتاہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے پس منظر اور توازن میں یہ بات اہم ہے کہ دو بڑی طاقتیں روس اور چین اس گروپ کا محور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ رکن ممالک کے متضاد مفادات اور باہمی اختلافات کے باوجود یہ گروپ مضبوط ہو رہا ہے۔ یہ حقیقت اس فورم کی اہمیت کی عکاس ہے کہ بھارت، پاکستان اور چین جیسے ممالک اپنے باہمی ٹکراؤ اور اختلافات کو پس پشت رکھ کر اس فورم کے تحت پرعزم ہیں۔ایران کے بعد بیلاروس، ترکی، افغانستان جیسے متعدد ممالک اس کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن اس وقت بھارتی میڈیا کی ساری توجہ ایس سی او اجلاس کے دوران بلاول زرداری پر مرکوز رہے گی۔اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں بھارتی صحافیوں اور ٹی وی چینلوں نے ان سے انٹرویو کے لیے پاکستان ہائی کمیشن کے شعبہ نشرواشاعت سے درخواست کی ہے۔ جس کا ایجنڈا ’محفوظ ایس سی او‘ ہے۔ دو روزہ اجلاس میں آئندہ جولائی میں دلی میں ہونے والے ایس سی او کے سربراہی اجلاس کی تیاری کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔
پاکستان میں عوام نے ایک ایسے وقت جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور پاکستان کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت سے انکاری ہے بلاول کے اس دورے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا ہے اور عام طورپر لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے باوجود بلاول کا اس دورے کااہتمام امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اگرچہ اپنی روانگی سے قبل بلاول نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اس دورے پر ان کی تمام توجہ صرف ایس سی او اجلاس پر مرکوز ہو گی لیکن موجودہ حکومت کے وزرا کی تضاد بیانیوں کے سبب عام لوگ اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں اور اس کے پس پشت کوئی اور مقاصد کارفرما ہونے پر مصر نظر آتے ہیں۔ عام لوگوں اور خود پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا موقف یہی ہے کہ اگر اس اجلاس میں شرک اتنی ہی ضروری تھی تو وزیر خارجہ ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کر سکتے تھے لیکن مودی کی محبت میں ان حکمرانوں کے لیے کشمیریوں پر مظالم اور مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم کی کوئی اہمیت نہیں، مودی کو خوش کرنے کے لیے یہ حکمران ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔ جبکہ انھوں نے پڑوسی ملک افغانستان کے اجلاس کو نظرانداز کیا تھا۔ مگر پاکستان کے کم سن وزیر خارجہ پر کیا موقوف ، موجودہ حکومت ہر اعتبار سے امریکا اور بھارت کو خوش کرنے میں مصروف ہے، اور ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھاتی جو مودی کو ناخوش کرے۔ اس لیے بلاول کے اس اقدام سے امریکا اور بھارت تو خوش ہے اور بلاول کی بھی بلے بلے کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔


متعلقہ خبریں


امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود - پیر 08 جولائی 2024

مولانا محمد سلمان عثمانی حضرت سیدناعمربن خطاب ؓاپنی بہادری، پر کشش شخصیت اوراعلیٰ اوصاف کی بناء پر اہل عرب میں ایک نمایاں کردار تھے، آپ ؓکی فطرت میں حیا ء کا بڑا عمل دخل تھا،آپ ؓ کی ذات مبارکہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نبی مکرم ﷺ خوداللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا مانگی تھی ”...

امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود - بدھ 01 مئی 2024

بھارت میں عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی اختتام کے قریب ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف مودی کی ہرزہ سرائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جارہاہے اورمودی کی جماعت کی مسلمانوں سے نفرت نمایاں ہو کر سامنے آرہی ہے۔ انتخابی جلسوں، ریلیوں اور دیگر اجتماعات میں مسلمانوں کیخلاف وزارت عظمی کے امی...

نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود - بدھ 13 مارچ 2024

مولانا زبیر احمد صدیقی رمضان المبارک کو سا ل بھر کے مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے، جو مادی دنیا میں موسم بہار کو سال بھر کے ایام وشہور پر حاصل ہوتا ہے۔ موسم بہار میں ہلکی سی بارش یا پھو ار مردہ زمین کے احیاء، خشک لکڑیوں کی تازگی او رگرد وغبار اٹھانے والی بے آب وگیاہ سر زمین کو س...

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود - منگل 27 فروری 2024

نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلو میٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی،...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود - هفته 24 فروری 2024

سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر جسے اب ا یکس کا نام دیاگیاہے کی سروس بحال ہوگئی ہے جس سے اس پلیٹ فارم کو روٹی کمانے کیلئے استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے سکون کاسانس لیاہے، پاکستان میں ہفتہ، 17 فروری 2024 سے اس سروس کو ملک گیر پابندیوں کا سامنا تھا۔...

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود - جمعه 23 فروری 2024

ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی میں 1.8فی صد اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی 30.2 فی صد دیہی علاقوں میں 25.7 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فی صد رہی۔ابھی مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے ادارہ ش...

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعد...

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

مضامین
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے! وجود جمعه 19 جولائی 2024
بہار کو آنے سے نہیں روک سکتے!

نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر وجود جمعه 19 جولائی 2024
نیلسن منڈیلا ۔قیدی سے صدر بننے تک کا سفر

سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے ! وجود جمعه 19 جولائی 2024
سیکرٹ سروس کے منصوبے خاک میں مل گئے !

معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!! وجود بدھ 17 جولائی 2024
معرکۂ کرب و بلا جاری ہے!!!

عوام کی طاقت کے سامنے وجود بدھ 17 جولائی 2024
عوام کی طاقت کے سامنے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں وجود پیر 08 جولائی 2024
امیر المومنین، خلیفہ ثانی، پیکر عدل و انصاف، مراد نبی حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ… شخصیت و کردار کے آئینہ میں

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر