وجود

... loading ...

وجود

موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا

هفته 03 دسمبر 2022 موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

نوے کی دہائی میں فلم کی جگماتی اسکرین پر اپنی پاٹ دار آواز سے گونجنے والے افضال احمد گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ اپنے شاندار اظہار اور جاندار کردار کے باعث فلمی دنیا میں ایک نام اور مقام بنانے والے افضال احمد کی موت نے اس رنگین دنیا کے بظاہر پرشور مگر درحقیقت پرسکوت سمندر میں ذرا سی لرزش بھی پیدا نہیں کی۔ چمک کے پیچھے بھاگنے والی نئی نسل کے لیے اداکار افضال احمد کی زندگی اور موت میں کئی اخلاقی سبق پوشیدہ ہیں۔ اداکار افضال احمد نے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اُنہوں نے مرحوم اشفاق احمد کے ڈرامے ”اُچے برج لاہور دے“ میں صرف اٹھارہ برس کی عمر میں ایک پچاس سالہ بوڑھے کا کردارادا کیا تو دیکھنے والے مبہوت رہ گئے تھے۔ اداکاری سے جنون کی حد تک پیا رکرنے والے افضال احمد نے صرف 35برسوں میں اردو، پنجابی اور پشتو فلموں میں کام کرکے نوے کی دہائی میں بے پناہ شہرت کمائی۔اداکار قوی خان کے ساتھ بھی افضال احمد کی جوڑی نے پزیرائی حاصل کی۔ اپنی پاٹ دار آواز، کھنکتے لہجے اورزیروبمِ الفاظ سے وہ ایک ایسا ماحول بنا دیتے تھے کہ اُن کا ناظر سحر زدہ رہ جاتا تھا۔ مگر اکیس برس قبل وہ فالج کے شکار ہوئے اور وہیل چیئر تک محدود ہو کر رہ گئے۔ پھر اُن کا جس زبان اور اُس کے صوتی تاثر کا ایک ڈنکا بجتا تھا، اُسی پر لقوہ پڑ گیا، جس کے باعث وہ قوت گویائی سے ہی محروم ہو گئے۔ اس حالت میں وہ زندگی کی گاڑی کو ہانکتے رہے۔ کوئی تصور بھی کرسکتا ہے کہ حیات سے ان بیماریوں کے ساتھ اُن کی کشمکش اکیس برس سے زیادہ پر محیط ہے۔ موت شاید افضال احمد کے لیے ان تکلیفوں سے نجات کا وسیلہ ہو، مگر اُن کی موت ہماری زندگیوں کو جھنجھوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ چمکتی زندگی کے پیچھے لپکتے لوگوں کے لیے ایک عبرت کا موقع ہے۔ افضال احمد کی موت کے وقت اُن کے پاس کوئی نہیں تھا۔ اسکرین سے اوجھل ہوجانے والے اداکار سے زندگی روٹھ گئی تھی۔ اداکار کو برین ہیمبریج کے باعث یکم دسمبر کو جنرل اسپتال لاہور لایا گیا تھا۔ مگر جنرل اسپتال نے اس سینئر ترین اداکار کے لیے کوئی الگ سے بستر تک فراہم نہیں کیا۔ آنکھ اوجھل تو پہاڑ بھی اوجھل۔

زیر نظر تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افضال احمد کے بستر پر دوران علاج ایک دوسرا مریض بھی موجود تھا۔ کیا معلوم کہ وہی مریض اس بستر کا پہلا مریض ہو، اور افضال احمد اس بستر کے دوسرے مریض ہوں۔ یہی نہیں۔ اداکار کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی موت کی اس کشمکش کے بدترین ایام میں اُن کے ساتھ نہ تھا۔ اُن کی ایک بہن امریکا میں مقیم تھی اور تین بیٹیاں بھی بیرونِ ملک رہائش پزیر ہیں۔ اس منظر نامے میں افضال احمد کے لیے موت نظر آنے والی اور دکھائی نہ دینے والی تکلیفوں سے نجات کا ایک ذریعہ رہی ہوگی۔ وہ موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے زندگی سے ایسے بھاگ رہے ہوں گے جیسے زندہ رہنے والے موت سے بھاگتے ہیں۔ یہ واقعات انسانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے سامنے آتے ہیں مگر ہم اس کے اخلاقی سبق سے محروم رہتے ہیں۔ ہمارا پورا گردوپیش ایک مادی اور چمکتی دمکتی دنیا کا یرغمال بن گیا ہے۔ جگمگاتی اسکرینوں کی مصنوعی دنیا نے ہم سے زندگی کا سکھ چین سیکھ لیا ہے اور ہمارا ماحول حرص وہوس سے مکمل آلودہ کردیا ہے۔ بدقسمتی سے اس معاشرے میں کوئی اخلاقی معلمین بھی دکھائی نہیں دیتے جو سادگی کے ساتھ ایک حقیقی دنیا کی تعلیم دیتے ہوں۔ ہماری تعلیمی، مذہبی، عسکری، سیاسی اور عدالتی اشرافیہ مسابقت کی ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکی ہیں جس میں اندازا ہی نہیں ہورہا کہ اُنہوں نے اس عظیم الشان ملک کو کیا بنا دیا ہے۔ ہمارے ارد گرد ہر میدان میں زرداروں کا غلبہ ہے۔ کردار کی کوئی حرارت اب اس بے معنی زندگی میں باقی نہیں رہ گئی۔ مگر یہ سب نہیں جانتے کہ دولت اور شہرت موت کا راستہ نہیں روکتی۔ افضال احمد ایسے اداکار کی موت ایسی مصنوعی اور غیر حقیقی زندگی کے لیے عبرت کا تازیانہ ہے۔


متعلقہ خبریں


حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا! وجود - پیر 09 جنوری 2023

حکیم محمد سعید ملک کے اصل ہیرو تھے۔بھانڈوں، مسخروں، گویوں، کھلاڑیوں اور بازیگروں کے پیچھے دوڑتے ہجوم کو اندازا ہی نہیں کہ ملک خداداد کو سنوارنے کے لیے کن کن ہیروز نے اپنے رات دن ایک کیے۔ حکیم محمد سعید حب الوطنی اور حب اسلامی کے ایک جیتے جاگتےبے مثل نمونے تھے۔ وہ معاشرے بقا کا جو...

حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا!

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا وجود - اتوار 20 نومبر 2022

18/نومبر کی تاریخ دل میں برچھی بن کر اُتر گئی۔ اس تاریخ نے ماضی میں قدیم وجدید علوم کے شَناور علامہ شبلی نعمانی کو ہم سے جدا کردیا تھا، اب یہی تاریخ جلیل القدر عالم ِ دین صدر دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی صاحب کی زندگی کی برکتوں سے ہمیں محروم کر گئی۔ مفتی رفیع عثمانی نے تحریک ...

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی وجود - اتوار 30 اکتوبر 2022

پاکستان میں آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت بہت تیزی سے روبہ زوال ہے۔ نئے نئے ابلاغی اداروں نے اس مقدس پیشے کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے طاقت وروں اور سیاسی جماعتوں کے نوکروں کی طرح کارگزار ہیں۔ اینکرز اور تجزیہ کار واضح تعصبات کے شکار ہیں۔ سیاسی کارکنان کی طرح صح...

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو وجود - پیر 19 ستمبر 2022

یہ تصویر غور سے دیکھیں! یہ عمران فاروق کی بیوہ ہے، جس کا مرحوم شوہر ایک با صلاحیت فرد تھا۔ مگر اُس کی "صالحیت" کے بغیر "صلاحیت" کیا قیامتیں لاتی رہیں، یہ سمجھنا ہو تو اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ عمران فاروق ایم کیوایم کے بانی ارکان اور رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ اُس نے ایم کیوای...

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

شہر والوں کا ہے خدا حافظ وجود - اتوار 18 ستمبر 2022

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے اہل کراچی کا برہنہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی والے اپنے دشمن خود ہیں۔ جاوید عالم اوڈھو کے گل افشانئ گفتار کا پس منظر یہ ہے کہ شہرِ کراچی میں جرائم کی شرح ہر گزرتے روز بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایثار کیش اہلِ کراچی، سیلاب زدگان کی مدد ...

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں! وجود - منگل 09 اگست 2022

یوم عاشور مسلم تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ اسی روز نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول کو کوفہ میں شہید کیا گیا۔ یہ تاریخ مذاہب کے تاریخی پس منظر میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یوم عاشورہ کا سراغ مختلف روایات اور تاریخی کتب میں نہایت اہم ترین واقعات کے حوالے سے ملتا ہے جن میں سے چند ایک...

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں!

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے! وجود - جمعرات 21 اپریل 2022

حضرت علامہ اقبالؒ کا آج یوم وفات (21 اپریل) ہے۔حضرت علامہ کی فکر مسلمانوں کو ہر قسم کی غلامی سے دائمی نجات دلانے کی تحریک رکھتی ہے۔ وہ مسلم تہذیب کی حفاظت کے تمام امکانات کو اپنی فکر سے بروئے کار لائے اور برصغیر کی سیاست میں انگریزوں کے سامراجی مقاصد اورہندوو¿ں کے بدترین سیاسی و...

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے!

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے! وجود - اتوار 03 اپریل 2022

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مبارک مہینہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کے طور پر انتہائی اہم ہے۔ یہ اہتمام خود خالق نے اپنی مخلوق کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی طور پر یہ مبارک مہینہ معنی خیز ہے، وہیں یہ اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کی سمت کا...

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟ وجود - جمعه 11 فروری 2022

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ہی تتر بتر نہیں، سماجی دامن بھی تار تار ہے۔یہاں زندگی کو ٹی وی کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ جسے مغرب میں "idiot box"کہا جاتا ہے۔ سیاسی و سماجی زندگی کی اجتماعی حرکیات میں چھائے مادی تناظر نے اقدار، غیرت، حیا، وفا، ایثار، بھرم اور قربانی کی تمام روایتوں ...

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں! وجود - جمعرات 10 فروری 2022

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کو دُہری شہریت کیس میں نااہل قرار دے دیا۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے واضح کیا کہ یہ نااہلی، تاحیات نااہلی کے زُمرے میں آتی ہے۔ فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دُہر...

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں!

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود - بدھ 05 جنوری 2022

مولانا محمد علی جوہر تاریخ کا ایک لہکتا استعارہ ہے۔اُن کے بغیر برصغیر کی آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔اُنہوں نے مسلمانانِ ہند کے اندر جوش، خروش، ہوش، حرکت ، حرارت، زندگی و تابندگی بھردی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر نے استعمار کے خلاف عوام میں حقیقی شعور پیدا کیا۔ اُنہوں نے ہی نوآبا...

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی وجود - منگل 28 دسمبر 2021

ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان نے کہا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کے استعمال کا کرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ،فرانزک آڈٹ کروایا گیا اورلاہور سمیت دیگر شہروں میں پراپرٹی پر ناجائز قابضین سے اب تک 15ارب کی پراپرٹی کو واگزار کروالیا گیا ہے ۔ پریس کانفرنس...

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی

مضامین
تصور نو کانفرنس وجود جمعه 27 جنوری 2023
تصور نو کانفرنس

بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟ وجود جمعرات 26 جنوری 2023
بے سہارا ملکی معیشت کا سہارا کون بنے گا؟

ملک! ہائے میرا ملک!! وجود بدھ 25 جنوری 2023
ملک! ہائے میرا ملک!!

بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں وجود بدھ 25 جنوری 2023
بھارت کی دولت امیروں کے قبضے میں

جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک! وجود منگل 24 جنوری 2023
جعلی مقابلے سے جعلی انصاف تک!

کراچی پر قبضے کا کھیل ؟ وجود پیر 23 جنوری 2023
کراچی پر قبضے کا کھیل ؟

اشتہار

تہذیبی جنگ
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری وجود جمعه 27 جنوری 2023
کینیڈا میں پہلی بار مشیر برائے اینٹی اسلامو فوبیا کی تقرری

اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن وجود جمعه 27 جنوری 2023
اسلامو فوبیا میں مبتلا انتہا پسندوں کی حرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، سوئیڈن

سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید وجود پیر 16 جنوری 2023
سڑک چوڑی کرنے کا بہانہ، بھارت میں ایک اورتاریخی مسجد شہید

رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ وجود اتوار 08 جنوری 2023
رابطہ عالم اسلامی اور کلاک ٹاورز انتظامیہ میں سائنسی و ثقافتی تعاون کا معاہدہ

نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا وجود اتوار 08 جنوری 2023
نیدرلینڈز، سال 2022 میں محمد دوسرا سب سے زیادہ مقبول نام رہا

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

اشتہار

شخصیات
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں وجود پیر 16 جنوری 2023
جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیّد مودودی کی بیٹی انتقال کر گئیں

اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا! وجود پیر 09 جنوری 2023
حکیم محمد سعید کو ہمارے قومی شعور نے طاق نسیاں پر رکھ دیا!
بھارت
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا وجود جمعرات 26 جنوری 2023
مودی پر بنائی گئی دستاویزی فلم روکنے کی کوشش، امریکا کا موقف سامنے آ گیا

مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ وجود اتوار 22 جنوری 2023
مقبوضہ کشمیر میں راہول گاندھی کی آمد سے قبل دھماکا، ہلاکتوں کا خدشہ

بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک وجود منگل 17 جنوری 2023
بھارت کی 1 فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی وجود پیر 09 جنوری 2023
خلیجی اخبار نے آزادی صحافت کا گلا گھوٹنے کے مودی سرکار کے اقدامات پر آواز اٹھا دی
افغانستان
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد وجود جمعرات 05 جنوری 2023
پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کا ایک گروہ  کارروائی کے دوران مارا گیا،ذبیح اللہ مجاہد

طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طالبان کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد خواتین کی ملازمت پر بھی پابندی

طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں وجود اتوار 25 دسمبر 2022
طلبا کے احتجاج پر طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں
ادبیات
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت وجود جمعرات 12 جنوری 2023
اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا یوم ولادت

کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع