وجود

... loading ...

وجود

پنجاب ،خیبر پختوانخواہ اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق

پیر 28 نومبر 2022 پنجاب ،خیبر پختوانخواہ اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے سینئر رہنماؤں کے مشاورتی اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختوانخواہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی توثیق کر دی گئی جبکہ سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں میں موجود تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی استعفے جمع کرائیں گے۔ عمران خان کی زیر صدارت زمان پارک میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد فواد چودھری نے عمران اسماعیل اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی ۔ فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں اسمبلیوں کی تحلیل، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں سے استعفوں کے حوالے سے غوروخوض اور اس کی توثیق کی گئی۔ پنجاب اور خیبر پختوانخواہ اسمبلیوں کے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں کے بعد انہیں تحلیل کر دیا جائے گا ۔جمعہ کو پنجاب اورہفتہ کو خیبرپختونخوا ہ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے، اجلاس کے بعد اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی۔ اس کے بعد سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں موجود پی ٹی آئی کے تمام اراکین اپنے استعفے جمع کرا دیں گے، ہم اسپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کر رہے ہیں کہ ہمارے جن اراکین کے استعفے منظور نہیں ہوئے انہیں منطور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور اراکین کے استعفوں سے ملک میں 567 نشستوں خالی ہو جائیں گی اور ان پر انتخابات ہوں گے۔ نگراں حکومتیں بنائی جائیں گی اور اس کے لیے اپوزیشن سے کہا جائے گا وہ اپنے نام بھجوائیں تاکہ عبوری سیٹ اپ اور اس کے بعد انتخابی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے اکابرین غور کریں اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیں، ہم چاہتے ہیں پورے ملک میں بیک وقت قومی انتخابات کی طرف بڑھا جائے، قومی اسمبلی کے انتخابات اگر کچھ ماہ بعد بھی ہو جائیں گے تو اس سے تحریک انصاف کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ جیتنا ہم نے ہی ہے۔ اس وقت معیشت کے حالات انتہائی دگر گوں ہیں، سات آٹھ ماہ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معیشت نہیں چل سکتی ۔ آپ قومی اسمبلی کو تحلیل نہ کریں لیکن جہاں جہاں ہماری حکومتیں ہیں ہم انہیں تحلیل کر رہے ہیں۔ یہ عمران خان کے اعتماد کا مظہر ہے کہ ہم اپنی حکومتیں تحلیل کر رہے ہیں اور عوام ہمیں اس سے بھاری مینڈیٹ سے نوازے گی، عوام عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں، آپ انتخابات سے کتنی دیر بھاگ لیں گے، ہمیں اس سے فرق نہیں پڑنا لیکن اس سے پاکستان کو نقصان ہو گا۔ پارلیمانی بورڈز تشکیل دیے جا چکے ہیں اور جلد ٹکٹ دینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے موقف کے حوالے سے کہا کہ ان کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ وہ رات کو مسلح ڈالے بھیجیں اور اغوا کریں، اگر یہ عدم اعتماد لائیں گے تو انہیں تین دنوں میں 186بندے پورے کرنے ہیں اس کا بھی شوق پورا کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ (ن) لیگ کے ترجمان نہیں ہے بلکہ آپ پاکستان کا الیکشن کمیشن ہے اس لیے آپ کا جو کام ہے وہ کریں، اسمبلیاں تحلیل ہوں گی اور نوے روز میں آپ نے انتخاب کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف نے جس طرح کوئی چیز نہیں پڑھی اسی طرح آئین بھی نہیں پڑھا، انہیں معلوم ہی نہیں کہ گورنر راج کن حالات میں لگ سکتا ہے، وزیر اعلیٰ کا استحقاق ہے وہ کب اسمبلی توڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچیس مئی سے ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے لیکن عدلیہ اور کسی انتظامی ادارے نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ گیارہ ، گیارہ سال کے بچوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا گیا لیکن کارروائی نہیں ہوئی، اعظم سواتی سے پہلے شہباز گل کو گرفتار کر کے برہنہ کیا گیا اس کی عزت کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن کسی نے نوٹس نہیں لیا، انصاف کے اداروں کی آنکھوں پرپٹی باندھ دی گئی، شہباز گل نے جس عدالت کے سامنے تشدد کا بتایا اس نے دوبارہ ریمانڈ دے دیا جس پر عمران خان نے احتجاج کیا تو توہین عدالت کا نوٹس دے دیا گیا۔ 75سال کے اعظم سواتی کو ایک ٹوئٹ کرنے پر اوریہ پوچھنے پر کہ پاکستان میں طاقتور حلقے کیا کر رہے ہیں، رات تین بجے اغواء کیا گیا انہیں برہنہ کیا گیا ان کی ویڈیوز بنائی گئیں اور ان پر تشدد کیا گیا، کسی عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا، اس کے بعد ان کی پردہ دار بیوی کی ویڈیو بنائی گئی اور وہ ویڈیو بچوں کو بھجوائی گئی لیکن اس کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، انسانی حقوق سوتے رہ گئے، انتظامی ادارے سوتے رہ گئے، سینیٹرز دس روز سے سڑکوں پر ہیں، ہر ممکن طور پر احتجاج کر لیا لیکن اس کا نوٹس نہیں لیا گیا اور ظلم اور بربریت آج تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ پوچھنا یہ چاہتا ہوں اورعمران خان نے بھی یہی پوچھا ہے کیا عزت صرف طاقت ور لوگوں کی ہے، جو پاکستان کے شہری ہیں ان کی کوئی عزت نہیں، سینیٹرز بے عزت پیدا ہوئے ہیں، اراکیبن اسمبلی کی کوئی عزت نہیں، سابق وزیر اعظم پر دن دیہاڑ ے حملہ ہوتا ہے اس کا مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی آڈیو ویڈیو ٹیپس نکالی جاتی ہیں جیسے گھنٹہ گھر کاچوک ہے، وزیراعظم آفس کی کوئی عزت ہے۔ یہ وہ سوال ہے جوتحریک انصاف عوام کے سامنے اور اداروں کے سامنے رکھنا چاہتی ہے، ہم یہ چاہتے ہیں انصاف ہونا چاہیے، قانون کی حکمرانی تب ہوگی جب طاقتور قانون کو جوابدہ ہوں گے لیکن آج وہ نہیں ہے، اعظم سواتی کو انصاف نہیں ملا جس پر اس نے سخت بات کر دی تواس کو بھی گرفتار کر لیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ اعظم سواتی کے بیٹے کا روتے ہوئے فون آیا ہے کہ ان کے والد کو پولیس مقابلے میں قتل کرا دیا جائے گا، انہیں عدالت میں پیش نہ کریں انہیں گولی مروا دی جائے گی، یہ کیسا نظام ہے، عمران خان سوال اٹھائے گولی مروا دیں، اعظم سواتی اٹھائے اس کو گولی مروا دیں، ارشد شہید سوال اٹھائے اس کو شہید کر دیں، ہم نے بڑے ظلم اور زیادتی سہی ہیں مقابلہ کیا ہے، ان زیادتیوں کا بھرپور مقابلہ کرنا ہے، آپ اپنے ظلم میں اضافہ کرتے جائیں ہم مزاحمت میں اضافہ کرتے جائیں گے، ہم ظلم کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اس بات پر غور کریں جوسات ماہ سے سے پالیسیاں ہیں ان کا بوجھ ان کی کمر کو دُہرا کر رہا ہے، اداروں کی کمر دُہری ہو گئی ہے، نواز شریف اور زرداری کے سیاسی لاشے اٹھا کر جو ہماری اسٹیبلشمنٹ پھر رہی ہے یہ وزن اٹھا نہیں پا رہے ، عوام آپ سے توقع رکھتے ہیں اس پالیسی کو بدلا جائے گا اور ہم آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جمعرات کو خواتین اوربچے لاہور رجسٹری کے باہر پر امن احتجاج کریں گے۔ جمعہ کو وکلا سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑا کنونشن کریں گے، تحریک انصاف کی لیڈرشپ اعظم سواتی کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ہم انشااللہ حکومت میں آ کر خود ہی کریں گے، ہم حکومت گرانے نہیں پاکستان بچانے پنڈی گئے تھے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر