وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

هفته 26 نومبر 2022 عمران خان کا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے بعد صوبائی اسمبلیوں سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ چند روز میں وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی فیصلہ کرنے والی قوتوں کو عام انتخابات پر مجبور کر دیں گے ۔ عمران خان نے پر امن آئینی سیاسی جدوجہد کے لیے کارکنوں سے حلف لے لیا اپنی تمام پارلیمانی جماعتو ں سے مشاورت کے بعد تمام اسمبلیوں سے نکلنے کی تاریخ کا اعلان کروں گا، مارچ کینسل نہ کرتا تو اگلے دن تباہی ہونا تھی مجھے سازش کرکے قتل کروانے کی کوشش کی گئی، مجرم ابھی بھی بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، ایک جگہ فیل ہوا ہوں، طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لاسکا،۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کی شام راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے دوٹوک طور پر واضح کر دیا کہ تمام اسمبلیوں سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سسٹم کا مزید حصہ نہیں رہیں گے خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ساری اسمبلیوں سے نکلنے لگے ہیں۔ ہم بجائے اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کریں، بجائے اپنے ملک میں تباہی ہو، اس سے بہتر ہے کہ ہم اس کرپٹ نظام سے باہر نکلیں اور اس سسٹم کا حصہ نہ بنیں، جدھر یہ چور بیٹھ کر ہر روز اپنے اربوں روپے کے کیسز معاف کروا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزرائے اعلیٰ سے بات کی ہے، پارلیمانی جماعتوں سے بھی مشاروت کررہا ہوں، آنے والے دونوں میں اعلان کریں گے کہ کس دن ہم ساری اسمبلیوں سے باہر نکل رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن کی ذمہ داری ہمارے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ہے، وہ سوئے ہوئے تھے، جب ایک خاص آدمی جسے میں ڈرٹی ہیری کہتا ہوں، اس نے جو ظلم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا، ہم نے پاکستان میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، ان کو قصور یہ تھا کہ وہ عمران خان کا موقف میڈیا پر دکھا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خوف پھیلایا گیا کہ اور کوئی نہ کچھ کرے، باقی لوگ ڈریں، سوشل میڈیا کے بچوں کو پکڑا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ وہ دوبارہ سازش کریں گے لیکن اللہ نے واضح کہا ہے زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے اگر اللہ نے موت لکھ دی ہے تو کوئی کہیں بھی چلا جائے موت سے نہیں بچ سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ اللہ نے مجھے زندگی دی کنٹینر پر 12 لوگوں کو گولیاں لگی تھیں، ایک گارڈ کو چھ گولیاں لگیں وہ بھی بچ گیا کیونکہ اللہ نے موت نہیں لکھی تھی، صحیح معنوں میں زندگی گزارنی ہے تو موت کے خوف سے خود کو آزاد کریں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ بار بار سنتے ہیں کہ سائفر ایک ڈرامہ تھا، ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا، یہ بات وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو سازش کا حصہ تھے۔ کیا قومی سلامتی کونسل میں یہ رکھا نہیں گیا اور کیا اس میں یہ نہیں لکھا تھا کہ ڈونلڈ لو ، اسد مجید کو کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو نہیں ہٹاؤ گے تو تمہارے ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا قومی سلامتی کونسل نے یہ نہیں کہا کہ امریکا کو ڈی مارش کرو، جب یہ سچ ہے، یہ کہنا کہ ڈرامہ تھا یہ ملک کی توہین ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ لوگ جو باہر بھاگے ہوئے تھے، جن کے اوپر اربوں روپے کے کرپشن کے کیسز تھے، باری باری ان سب کو این آر او دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کے پاس طاقت تھی، انہیں کرپشن بری نہیں لگتی تھی، اس لیے آپ نے دیکھ ہی لیا کہ سارے چوروں کا ٹولہ اوپر بٹھا دیا۔ بار بار جواب آتا تھا، عمران صاحب، معیشت پر توجہ دیں، احتساب کو بھول جائیں۔ نیب میرے تابع نہیں تھی، نیب والے مجھے کہتے تھے کہ سارے کیسز تیار ہیں لیکن حکم نہیں آ رہا، جن کے پاس کنٹرول تھا وہ حکم نہیں دے رہے تھے۔ ان چوروں کو جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان سے ڈیلیں کر رہے تھے، ہر اجلاس میں یہ بات کی کہ جب تک طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے، یہاں کرپشن ختم نہیں ہو گی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے بار بار جواب آتا تھا کہ عمران صاحب، آپ معیشت پر توجہ دیں، احتساب کو بھول جائیں، مجھے کئی بار یہ کہا گیا کہ ان اس وقت کی اپوزیشن کو این آر او دے دیں، نیب کے قانون بدل دیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں ساڑھے تین سال میں ایک جگہ فیل ہوا ہوں، میں طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لا سکا۔ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا تھا، جن پر کرپشن کے کیسز تھے، بڑی کوشش کی احتساب ہو۔ پاکستان تحریک انصاف پہلی جماعت ہے جس نے موسمیاتی تبدیلی پر کام کیا۔ ہم نے پچاس سال کے بعد ڈیم بنانا شروع کیے، پاکستان میں تین بڑے ڈیمز بن رہے ہیں۔ 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہر غریب ملک کے بڑے بڑے وزیر، وزیراعظم اور ان کے صدر ملک سے پیسہ چوری کرکے ہر سال 1700 ارب روپے امیر ملکوں میں لے جاتے ہیں۔ امیر ملک امیر جبکہ غریب ملک مزید غریب ہورہے ہیں، اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع سے ہی قانون کی حکمرانی نہیں کی۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 30 سال ملک پر حکمرانی کرنے والے 2 خاندانوں نے کبھی ملک کے اداروں کو مضبوط نہیں ہونے دیا۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ جب بھی آتے تھے، بجائے اداروں کو مضبوط کرنے اور قانون کی حکمرانی لانے کے، آتے کے ساتھ ہی اداروں کو کمزور کیا کیونکہ ادارے کمزور کیے بغیر کرپشن نہیں ہوسکتی تھی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ انسانی معاشرے اور جانوروں کے معاشرے میں فرق ہی ایک ہے کہ انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے جبکہ جانوروں کے معاشرے میں طاقتور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عظیم ملک نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں آئی، یہاں طاقت کی حکمرانی اور جنگل کا قانون رہا ہے۔ جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صرف آزاد انسان بڑے کام کرتے ہیں، آزاد ملک اوپر پرواز کرتے ہیں، غلام صرف اچھی غلامی کرتے ہیں، غلام کی پرواز نہیں ہوتی، صرف آزاد انسانوں کی پرواز ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے موت کی فکر نہیں تھی، میری ٹانگ کا مسئلہ ہے، اس نے چڑھنے اور اترنے میں مشکلیں ڈالیں، اس لیے آیا کہ آج فیصلہ کن وقت پر کھڑے ہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف نعمتوں اور آپ کی عظمت کا راستہ ہے، دوسری طرف تباہی، غلامی اور ذلت کا راستہ ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ کی شان دیکھیں کہ کنٹینر کے اوپر 12 لوگوں کو گولیاں لگیں لیکن 12 میں سے ایک بھی اللہ کو پیارا نہیں ہوا۔راولپنڈی میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک گارڈ کو 6 گولیاں لگیں لیکن سب ایسی گولیاں لگیں کہ وہ بچ گئے، عمران اسمعیل کے کپڑوں میں سے چار گولیاں نکلیں لیکن وہ بچ گئے۔انہوں نے کہا کہ اگر صحیح معنوں میں زندگی گزارنی ہے تو موت کے خوف سے اپنے آپ کو آزاد کریں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ لاہور سے نکل رہا تھا تو مجھے دو چیزیں سب نے کہیں کہ آپ کی ٹانگ کی حالت ٹھیک نہیں ہے، اسے ٹھیک ہونے میں مزید تین مہینے لگیں گے، اس سے بھی زیادہ لوگوں نے کہا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے پوری سازش کرکے قتل کرنے کی کوشش کی، مجھے کہا گیا کہ پھر سے وہ واردات کریں گے، اس لیے آپ کو گھر سے نہیں نکلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ موت بڑے قریب سے دیکھی، جب میری ٹانگ پر گولیاں لگیں، اور جیسے ہی میں گر رہا تھا تو میرے سر کے اوپر سے گولیاں جا رہی تھیں اگر گرتا نہیں تو مجھے لگ جاتیں، اپنے نوجوانوں کو کہتا چاہتا ہوں کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں واضح لکھا ہے کہ جب تک اللہ کی مرضی نہیں ہوگی تم اس زمین سے نہیں جا گے۔اسلام آباد کی کال نہ دینے کے حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھاکہ عوام کا سمندر ہے لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، ہم نے فیصلہ کرنا ہے اسلام آباد جانا ہے تو یہ برداشت نہیں کرسکتے، میرے لیے آسان تھا سری لنکا والے حالات پیدا کر دیتے، پوری کوشش رہی ملک میں کسی قسم کا انتشار نہ پیدا کروں، آج اس لیے فیصلہ کر رہا ہوں وہاں نہیں جانا کیونکہ تباہی مچے گی اور نقصان ملک کا ہوگا۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے ساری اسمبلیوں سے نکلنے لگے ہیں، اس نظام کا مزید حصہ نہیں رہیں گے، وزرائے اعلی اور پارلیمانی کمیٹی سے بات کررہا ہوں، بجائے توڑ پھوڑ کریں اس سے بہتر ہے کہ اس نظام سے باہر نکلیں، فیصلہ کریں گے کس دن ہم ساری اسمبلیوں سے باہر نکلیں۔خیال رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی ارکان پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر