وجود

... loading ...

وجود

نیا آرمی چیف کون؟ تنازع برقرار

منگل 22 نومبر 2022 نیا آرمی چیف کون؟ تنازع برقرار

(باسط علی) پاک فوج کا نیا سربراہ کون ہوگا؟ اس سوال پر تاحال جی ایچ کیو اور وزیراعظم ہاؤس میں کسی نام پر اتفاقِ رائے قائم نہیں کیا جاسکا۔ گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی سرگرمیوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ابھی طاقت کے مختلف مراکز کے پاس اپنے اپنے نام ہیں اور اس اہم ترین منصب کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری رسہ کشی ختم نہیں ہوئی۔انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق مسلم لیگ نون کے اہم ترین رہنماؤں نے گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے اپنی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے اس جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف اپنے دورہئ لندن میں جو تجاویز لے کر گئے تھے، وہ تمام مسلم لیگ نون کے قائد نے عملاً رد کردی تھیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زنبیل میں توسیع یا پھر موجودہ آرمی چیف کا پسندیدہ ایک نام تھا۔ مگر سب سے زیادہ آرمی چیف کی تقرری کرنے والے سابق وزیراعظم نوازشریف نے یہ دونوں تجاویز مسترد کردیں۔ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان آمد کے بعد اپنی سرگرمیاں محدود کرکے زیادہ وقت وزیراعظم ہاؤس میں گزارتے رہے۔ اگرچہ اس کی وجوہات طبی قرار دی گئیں مگر عملا ً یہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے جاری رسہ کشی کے باعث ایک محفوظ راستے کی تلاش تھی۔ یہ محفوظ راستا تاحال میسر نہیں آسکا اور اب طاقت کے مراکز اپنی اپنی حکمت عملی اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس گزشتہ کئی روز سے آرمی چیف کے حوالے سے جس سمری کا منتظر تھا، وہ مسلسل التوا کے باعث اب وزیراعظم نے وزارت دفاع کو ایک باقاعدہ خط تحریر کرکے طلب کی ہے۔ گویا وزارت ِدفاع، آرمی چیف کے حوالے سے ممکنہ امیدواروں کی سمری پیش کرنے میں تاخیر کا مرتکب ہورہی تھی۔ عام طور پر وزیراعظم کی جانب سے اس طرح کے خط لکھنے کی ضرور ت نہیں پڑتی۔ دلچسپ طور پر وزیر اعظم کی جانب سے وزارتِ دفاع سے خط کے ذریعے سمری طلب کیے جانے کے بعد نواز لیگ کے رہنماؤں کے بیانات نے اس کھیل کو پراسرار بنادیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس خط کی اطلاع پارلیمنٹ کے خطاب میں دی، یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے حکومت کا ذہن واضح کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ خط سے جی ایچ کیو کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ایک سے تین روز تک سارا مرحلہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ اس بیان سے واضح ہے کہ وزیر دفاع اس مرحلے کو 27/ نومبر کو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ سے قبل نمٹانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف سمری میں کسی قسم کی عجلت نہ دکھانے کا مطلب یہی لیا جارہا ہے کہ اس تاریخ کے گزرنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ تاکہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ ہو جائے۔ واضح رہے کہ نون لیگ کے قائد نے اپنا ذہن یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ آرمی چیف سب سے سینئر آدمی کو لگانا چاہئے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق طاقت کے سب سے اہم مرکز جی ایچ کیو سے جس نام کا اشارہ کیا جارہا ہے، وہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں۔ چنانچہ سمری میں تاخیر کا مطلب یہی لیا جارہا ہے کہ 27/ نومبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد اس مرحلے کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ وہ خدشہ ہے جو نواز لیگ کے تمام رہنماؤں کے ذہن میں موجود ہے، جسے نواز لیگ کے اہم رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان نے واضح کردیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے بیان میں دو اہم ترین باتیں کیں۔اولاً: وزیراعظم سمری نہ آئے تو بھی آرمی چیف کا تقرر کر سکتے ہیں۔ ثانیاً: سمری میں کسی اہل افسر کا نام شامل نہ ہو تو معاملہ عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے۔ عین وزیراعظم کے خط کے دن اور وزیردفاع خواجہ آصف کی جانب سے پارلیمنٹ کو آگاہ کیے جانے کے بعد شاہد خاقان عباسی کے اس بیان نے واضح کردیا کہ جی ایچ کیو سمری میں تاخیر کراسکتا ہے اور سمری پیش کیے جانے کی صورت میں کسی افسر کا نام کسی بھی وجہ سے شامل نہیں بھی کر سکتا۔ ظاہر ہے شاہد خاقان عباسی کی گفتگو میں یہ دونوں خدشات جھانک رہے تھے۔ اس صورتِ حال میں اسلام آباد میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے مطابق ایک سے تین روز میں اگر فیصلہ کیا جانا مقصود ہے تو پھر نواز لیگ کا نام واضح ہے یعنی، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اور اگر سمری میں تاخیر ہو رہی ہے تو رخصتی دروازے کی جانب گامزن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پسندیدہ نام بھی کچھ مخفی نہیں رہا، اور وہ پسندیدہ نام لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد اور دوسرا کوئی بھی ہو، مگر وہ نام لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال اگلے دوتین روز کے حالات کو ڈرامائی بھی بنا سکتی ہے، جس میں سے ایک بغیر سمری کے آرمی چیف کی تقرری کے علاوہ سیاسی حالات میں نئی کروٹوں کی راہ ہموار کرنے پر بھی محمول ہو سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر