... loading ...
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کارکنوں کو نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز کالز کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کو واپس دھمکیاں دو، یہ ڈرانے والے کون ہوتے ہیں، زرداری اور نواز شریف کبھی کسی کو میرٹ پر تعینات نہیں کرسکتے، پاکستان میں اتنا بڑا عذاب آیا ہے اور ملک کا سربراہ غیرملکی دورے کر رہا ہے، باہر نکلنے کیلئے میری کال کا انتظار کرو۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب میں نے کہا آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے، نہ زرداری اور نواز شریف کبھی کسی کو میرٹ پر تعینات نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں میرٹ کا پتا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف صحت کی خرابی کا جھوٹ بول کر باہر گیا اور مفرور ہے اور شہباز شریف نے عدالت میں اس کا حلف نامہ دیا تھا۔ لہٰذا یہ جھوٹا اور مفرور ہے تو کیا یہ آرمی چیف تعینات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال پوچھوں گا کہ آپ کم ازکم سمجھ جاتے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، ساری قوم میرے ساتھ کھڑی ہے کہ ان چوروں کو پاکستان کا آرمی چیف کبھی تعینات نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان نے کارکنوں سے کہا کہ سب تیاری کرو، میں سیاست نہیں حقیقی آزادی اور جہاد کی بات کر رہا ہوں، خوف کے بت توڑ دو۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیاں دینے کے لیے گم نام نمبر سے ٹیلی فون آتے ہیں، ان کو واپس دھمکیاں دو، جو ڈراتا ہے، اس کو واپس ڈراؤ، جو مسٹر ایکس اور وائی دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو واپس دھمکیاں دو، یہ ہوتے کون ہیں۔ کارکنوں سے انہوں نے کہا کہ آپ کو ڈرانے والے یہ ہوتے کون ہیں، آپ ملک کے عوام ہیں اور ملک کی قیادت کا فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، خفیہ نمبروں سے ڈرانا دھمکانا کہ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے، جو کرنا ہے کرلو ہم بھی کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ساری قوم سے کہہ رہا ہوں تیار ہوجاؤ، ہم نے کافی تماشا دیکھ لیا، فیصلہ کرلو جو بھی ہوجائے، ہمیں اپنے ملک کو حقیقی طور پر آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کال کے لیے تیار رہو، خواتین بھی اس جنگ میں شرکت کریں گی، جب میں آپ کو کال دوں گا تو سب نکلیں۔عمران خان نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے پیسے اکٹھے کرنے کی خاطر 3 ٹیلی تھون کیے اور ساڑھے 8 گھنٹوں میں قوم نے مجھے 14 ارب روپے دیے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں کئی ایسے شہری ہیں جو بہت مشکل کا سامنا کر رہے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ سندھ میں جہاں پانی کھڑا ہوگیا ہے وہاں لوگوں کی فصلیں تباہ ہوئیں اور گندم کی فصل بھی نہیں اگا سکیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کے اندر اتنا بڑا عذاب آیا ہوا ہے، پاکستان کے 3 کروڑ متاثر ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پانی جمع ہونے کی سب سے بڑی وجہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے جو 14 سال سے سندھ میں بیٹھی ہے اور اب تک دریائے سندھ سے ملحق نہر نہیں بنائی حالانکہ ہماری وفاقی حکومت کے دور میں واپڈا نے سیہون تک نہر پوری کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیہون سے آگے جو حکومت سندھ کو لے کر جانی تھی وہ پوری نہیں ہوئی جس کی وجہ سے پانی جمع ہوا، پیسہ اس نہر میں استعمال کرنے کے بجائے چوری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ حالات تھے تو شہباز شریف کی بے حسی دیکھیں کہ وہ ملک سے باہر دورے کر رہا ہے، اقوام متحدہ چلا گیا ہے، وہاں کون سا معرکہ مارنا ہے جب ملک کے اندر اتنا بڑا عذاب آیا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ کون سے ملک کا سربراہ ایسے وقت میں باہر جاتا ہے جب ملک کے اندر اللہ کا اتنا بڑا امتحان آیا ہو اور دوسری طرف 14 سال سے پی پی پی کا چیئرمین بلاول بھٹو بھی باہر چلا گیا ہے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...