... loading ...
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائرتوشہ خانہ ریفرنس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ آنے والے دنوں میں سنایا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں نثار احمد درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی علی گوہر خان بلوچ اور حکمران اتحاد کے پانچ دیگر اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے توشہ خانہ کے تحائف انتخابی گوشواروں میں چھپانے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی آرٹیکل 63 کے تحت نااہلی کے لئے دائر ریفرنس پر سماعت کی۔ ریفرنس اراکین قومی اسمبلی نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے توسط سے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل بیرسٹر سینیٹر سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے آرٹیکل 63 دو کے تحت جو ریفرنس بھجوایا ہے وہ غیر قانونی ہے، انہیں ریفرنس بھجوانے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں اور کسی عدالت سے ڈیکلیئریشن اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں گیا کہ عمران خان نا اہل ہیں اور اسپیکر نے بغیر ڈیکلیئریشن کے ہی ریفرنس بنا کر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا، الیکشن کمیشن یہ کیس نہیں سن سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل62ون ایف اور63دو کے تحت نااہل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون کے مطابق اثاثہ ظاہر نہیں کیا جاتا تو پھر 120 دن کے اندر الیکشن کمیشن اس پر سماعت کرسکتا ہے لیکن اب یہ کیس بہت زیادہ پرانا ہو چکا ہے اور یہ ایک سیاسی کیس ہے۔ ہم نے تمام اثاثے اور ٹیکس ریٹرن اپنے جواب کے ساتھ لگا دیے ہیں۔ اسپیکر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان صادق اور امین نہیں ہیں۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہر مس ڈیکلیئریشن نااہلی نہیں بنتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کی جانب سے بھجوایا گیا سوال مسترد ہوتا ہے۔ عمران خان کے خلاف الزامات بے بنیاد اور ناجائز ہیں اور بدنیتی پرلگائے گئے ہیں، یہ سیاسی ریفرنس ہے اور اسپیکر نے دیکھے بغیر خود ہی ریفرنس بنا کر الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ۔ جبکہ (ن) لیگ کے وکیل بیرسٹر خالد اسحاق کا جواب الجواب میں کہنا تھا کہ عمران خان نے تحائف وصول کرنے اور فروخت کرنے کو تسلیم کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ تحائف کس تاریخ اور کتنی مالیت میں فروخت کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے لندن فلیٹ کی رسیدیں دی تھیں لیکن تحائف فروخت کرنے کی رسیدیں فراہم نہیں کیں چنانچہ انہیں نااہل قراردیا جائے۔ خالد اسحاق کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کو ایک اکاؤنٹ دکھاتے ہیں کہ اس میں پانچ کروڑ روپے پڑے ہیں لیکن کوئی رسید نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین نے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا ہے اور وہ آرٹیکل62 ون ایف اور63 دو کے تحت نااہل کرسکتا ہے۔ علی ظفر نے مزید کہا کہ تحائف کی 5 کروڑ 80 لاکھ آمدن پر جو ٹیکس دیا وہ ہم نے ڈکلیئر کیا ہے، 2021 تک کی تفصیلات جواب میں دے دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کہیں کسی تفصیل پر شک پڑتا ہے تو الیکشن کمیشن اس کی اسکروٹنی کرتا ہے، ہمارے کیس میں الیکشن کمیشن نے کوئی اعتراض نہیں لگایا، 2019- 20 میں ہمیں 17 لاکھ کے تحائف ملے۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ آپ نے جو تحائف خریدے، رقم توشہ خانہ کو ادا کی، وہ رقم کہاں سے آئی، جس پر وکیل عمران خان نے کہا کہ یہ بات ہم نے آپ کو نہیں دکھانی۔ الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...