وجود

... loading ...

وجود
وجود

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

پیر 19 ستمبر 2022 دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

یہ تصویر غور سے دیکھیں! یہ عمران فاروق کی بیوہ ہے، جس کا مرحوم شوہر ایک با صلاحیت فرد تھا۔ مگر اُس کی “صالحیت” کے بغیر “صلاحیت” کیا قیامتیں لاتی رہیں، یہ سمجھنا ہو تو اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ عمران فاروق ایم کیوایم کے بانی ارکان اور رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ اُس نے ایم کیوایم کی وہ شکل نکالنے میں اپنا دماغ کھپایا تھا، جس نے بعد میں پورے کراچی پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کی۔ ایم کیوایم نے وہ طاقت حاصل کی کہ اس ملک کی اصل قوتیں بھی ایک وقت میں اس پر ہاتھ ڈالنے سے خائف رہیں۔ یہ جماعت ملکی اور بیرونی حمایت سے کراچی میں ایسی سرگرمیوں کا حصہ بنیں جس سے اہلِ کراچی کے سر شرم سے جھکنے لگے۔ خود اردو بولنے والے ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے کہ اُن کی کئی نسلیں اس کا بوجھ اُٹھاتے اُتھاتے تاریخ کا رزق بنتی رہیں گی۔ عمران فاروق کراچی میں سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد کے قتل کا منصوبہ ساز تھا۔ ہر قتل کا لہو بہتا ہوا اُس کے آنگن میں جا پہنچتا تھا۔ اب اس کا خاندان لندن میں ایک فلیٹ کے کمرے میں امداد کا منتظر رہتا ہے۔ یہ اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے کیا چھوڑ گیا؟دنیا کی بے ثباتی دیکھیں!عمران فاروق کراچی میں الطاف حسین کے بعد وہ دوسرا شخص تھا جس کے جنبش ابرو سے اس شہر کی قسمت کا فیصلہ ہوتا تھا۔ جس کے منصوبوں سے کراچی کی سانسیں چلتی اور رُکتی تھیں۔ یہ اکیلا شخص کراچی میں ایم کیوایم کے مخصوص منصوبوں کو عملی جامہ پہناتا تھا۔ مگر اس کا خاندان دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ اُس کی بیوہ متحدہ سے شکوہ کر رہی ہے کہ اُس کے خاندان کو فراموش کردیا گیا، شمائلہ فاروق ایم کیو ایم کی انتہائی سرگرم کارکن تھی اور بہت سے رازوں سے مکمل آگاہ اور منصوبوں میں شریک رہی۔ اس کی شادی بھی الطاف حسین کی مرضی سے کرائی گئی، یہ وہ عورت ہے جس نے اپنے شوہر کے قتل کے تمام حقائق جاننے کے باوجود الطاف حسین کو ترجیح دی تھی اور اُس کے سالگرہ کے ڈراموں میں اپنے شوہر کے قتل ہونے کے باوجود شریک ہوتی رہی۔ مگر اب اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔متحدہ لندن ہو یا متحدہ پاکستان،کوئی اس بیوہ اور اس کے بچوں کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر گزرتا دن عمران فاروق کی بیوہ کی تنہائی کو بڑھاتا ہے۔ اب وہ کینسر کی مریضہ ہو کر امداد پر پلنے والی ایک مجبور اور بے بس عورت بن کر رہ گئی ہے۔ متحدہ کے وہ رہنما جو پھٹے پُرانے کپڑوں میں اس جماعت کا حصہ بنے تھے، اب محلات میں رہتے اور اِتراتے پھرتے ہیں۔ ہوٹلوں کے ویٹر ز بیرون ملک جائیدادوں کے مالک بن گئے۔ نوکریوں سے ٹھکرائے گئے لوگ اربوں کی دولت میں کھیلنے لگے، یہ سب اُس ایم کیوایم کی بدولت تھا جس کو بنانے والوں میں دوسرا اہم ترین کردار ڈاکٹر عمران فاروق کا تھا۔ مگر عمران فاروق ایک موقع پر بانی متحدہ سے الگ کردیا گیا۔ پھر اس کے زوال کے دن شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ متحدہ کے رہنما اُس سے بات کرنے سے قبل بانی متحدہ سے اجازت لیتے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ وہ لندن میں قتل کردیا گیا۔ تب بانی متحدہ کو عمران فاروق کی بیوہ کی ضرورت تھی، تو شمائلہ فاروق کو قریب بٹھایا جاتا۔ جب یہ ضرورت ختم ہوگئی تو اس سے تعلق بھی ختم کردیا گیا۔یہاں تک کہ اس کی ضرورتوں کا لحاظ تک نہیں رکھا جاتا۔ کراچی میں ایم کیوایم کے وابستگان غور کریں کہ جو جماعت اپنے بانی رہنما کے خاندان کی پروا نہیں کرتی، وہ اُن کا کتنا خیال رکھے گی؟ عبرت کی اس کہانی میں اہلِ کراچی کے لیے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔


متعلقہ خبریں


شہر والوں کا ہے خدا حافظ وجود - اتوار 18 ستمبر 2022

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے اہل کراچی کا برہنہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی والے اپنے دشمن خود ہیں۔ جاوید عالم اوڈھو کے گل افشانئ گفتار کا پس منظر یہ ہے کہ شہرِ کراچی میں جرائم کی شرح ہر گزرتے روز بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایثار کیش اہلِ کراچی، سیلاب زدگان کی مدد ...

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

متحدہ نے ڈاکٹر عمران فاروق کو بھلا دیا، شمائلہ عمران کا شکوہ وجود - اتوار 18 ستمبر 2022

متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران نے پارٹی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ نے ان کے شوہر کو بھلا دیا ہے۔ متحدہ کے شریک بانی ڈاکٹر عمران فاروق کی 12ویں برسی پر شمائلہ عمران نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یا رب میرے لیے ایسا دروازہ کھول دے جس کی و...

متحدہ نے ڈاکٹر عمران فاروق کو بھلا دیا، شمائلہ عمران کا شکوہ

کامران ٹیسوری ڈپٹی کنوینئر بحال، ایم کیو ایم کے سینئر ارکان ناراض وجود - هفته 10 ستمبر 2022

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی میں کامران ٹیسوری کی ڈپٹی کنوینئر کی حیثیت سے بحالی پر کئی ارکان ناراض ہوگئے، سینئر رہنما ڈاکٹر شہاب امام نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔ ڈاکٹر شہاب امام نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو میرا تحریری استعفیٰ جلد بھیج دیا جائیگا۔ انہوں نے...

کامران ٹیسوری ڈپٹی کنوینئر بحال، ایم کیو ایم کے سینئر ارکان ناراض

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں! وجود - منگل 09 اگست 2022

یوم عاشور مسلم تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ اسی روز نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول کو کوفہ میں شہید کیا گیا۔ یہ تاریخ مذاہب کے تاریخی پس منظر میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یوم عاشورہ کا سراغ مختلف روایات اور تاریخی کتب میں نہایت اہم ترین واقعات کے حوالے سے ملتا ہے جن میں سے چند ایک...

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں!

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے! وجود - جمعرات 21 اپریل 2022

حضرت علامہ اقبالؒ کا آج یوم وفات (21 اپریل) ہے۔حضرت علامہ کی فکر مسلمانوں کو ہر قسم کی غلامی سے دائمی نجات دلانے کی تحریک رکھتی ہے۔ وہ مسلم تہذیب کی حفاظت کے تمام امکانات کو اپنی فکر سے بروئے کار لائے اور برصغیر کی سیاست میں انگریزوں کے سامراجی مقاصد اورہندوو¿ں کے بدترین سیاسی و...

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے!

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے! وجود - اتوار 03 اپریل 2022

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مبارک مہینہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کے طور پر انتہائی اہم ہے۔ یہ اہتمام خود خالق نے اپنی مخلوق کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی طور پر یہ مبارک مہینہ معنی خیز ہے، وہیں یہ اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کی سمت کا...

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

اشتعال انگیز تقاریر، میڈیا ہاوسز حملہ کیس: چشم دید گواہ کی فاروق ستار کے خلاف گواہی وجود - اتوار 13 فروری 2022

انسداد دہشت گردی عدالت میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) قیادت کی اشتعال انگیز تقاریر اور میڈیا ہاؤسز پر حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ مقدمے کے چشم دید گواہ انسپکٹر ہاشم بلو نے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار اور دیگر کے خلاف گواہی دے دی۔ رینجرز کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رانا خالد حسین ...

اشتعال انگیز تقاریر، میڈیا ہاوسز حملہ کیس: چشم دید گواہ کی فاروق ستار کے خلاف گواہی

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟ وجود - جمعه 11 فروری 2022

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ہی تتر بتر نہیں، سماجی دامن بھی تار تار ہے۔یہاں زندگی کو ٹی وی کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ جسے مغرب میں "idiot box"کہا جاتا ہے۔ سیاسی و سماجی زندگی کی اجتماعی حرکیات میں چھائے مادی تناظر نے اقدار، غیرت، حیا، وفا، ایثار، بھرم اور قربانی کی تمام روایتوں ...

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں! وجود - جمعرات 10 فروری 2022

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کو دُہری شہریت کیس میں نااہل قرار دے دیا۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے واضح کیا کہ یہ نااہلی، تاحیات نااہلی کے زُمرے میں آتی ہے۔ فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دُہر...

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں!

ایم کیو ایم کی احتجاجی ریلی پر پولیس پِل پڑی وجود - جمعرات 27 جنوری 2022

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کی کراچی میں احتجاجی ریلی کے دوران شیلنگ سے زخمی ہونے والے رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین کو پولیس نے گرفتا ر کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کے خلاف وزیر اعلی ہاس کے باہر دھرنا دیا جس کے بعد پولیس کی جانب سے ریل...

ایم کیو ایم کی احتجاجی ریلی پر پولیس پِل پڑی

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود - بدھ 05 جنوری 2022

مولانا محمد علی جوہر تاریخ کا ایک لہکتا استعارہ ہے۔اُن کے بغیر برصغیر کی آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔اُنہوں نے مسلمانانِ ہند کے اندر جوش، خروش، ہوش، حرکت ، حرارت، زندگی و تابندگی بھردی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر نے استعمار کے خلاف عوام میں حقیقی شعور پیدا کیا۔ اُنہوں نے ہی نوآبا...

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی وجود - منگل 28 دسمبر 2021

ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان نے کہا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کے استعمال کا کرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ،فرانزک آڈٹ کروایا گیا اورلاہور سمیت دیگر شہروں میں پراپرٹی پر ناجائز قابضین سے اب تک 15ارب کی پراپرٹی کو واگزار کروالیا گیا ہے ۔ پریس کانفرنس...

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی

مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی