وجود

... loading ...

وجود

حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘شاہ محمود قریشی

جمعه 05 اگست 2022 حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے‘شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور کسی پالیسی میں کوئی تسلسل نہیں ہے،ہماری حکومت میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل تھی ، ہم نے لوگوں پر کم از کم بوجھ ڈالنے کے لیے سبسڈی دی ، ہماری حکومت میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی، ڈیزل کی قیمت 145 روپے فی لیٹر تھی،اگلے پانچ ماہ تک پیٹرول کی لیوی میں اضافہ کیا جاتا رہے گا جس کا اثر ہمارے زرعی شعبے پر پڑے گا ۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ایک خاتون کو زیادہ احساس ہو سکتا ہے کہ گھر کا چولہا کیسے چلتا ہے اور وہ بجھتا کیوں ہے اور ایک ماں کو اس بات کا زیادہ احساس ہو سکتا ہے کہ میرے بچوں کے مستقبل کا کیا بنے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاں دین اسلام نے خواتین کے حقوق کا واضح تحفظ کیا ہے، انہیں جائیداد کا حق دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں کردار ادا کرنے کا حق دیا ہے وہاں ہمارے آئین میں بھی خواتین کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ قانون میں ہر سیاسی جماعت پر یہ پابندی ہے کہ انہیں کم از کم 5 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ سے لے کر 2005 کے زلزلے میں پاکستان کی خواتین اور بچیوں نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور میری یہ رائے ہے کہ تحریک انصاف کہتی ہے کہ ہمیں ایک نئے طرز کی سیاست متعارف کروانی ہے اور اس جمود کو توڑنا ہے جس کے لیے جو گھر کی ماں یا بیٹی کردار ادا کر سکتی ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکتا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری حکومت میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل تھی اور ہم نے لوگوں پر کم از کم بوجھ ڈالنے کے لیے سبسڈی دی اور اسی طرح ہماری حکومت میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 145 روپے فی لیٹر تھی اور آج پی ڈی ایم کی مشترکہ حکومت میں تیل کی عالمی قیمت 105 ڈالر فی ڈالر سے گر کر 95 ڈالر فی ڈالر تک ہوچکی ہے تو پیٹرول کی قیمت 227 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 244 روپے فی لیٹر ہے۔انہوں نے کہا کہ جو اس حکومت نے عوام پر ظلم کیا ہے اور اس کا ذکر نہیں کیا وہ یہ ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو لکھ کر دیا ہے کہ ہم ہر ماہ پیٹرول کی لیوی میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ کریں گے اور اب انہوں نے تیل کی قیمت میں مزید 50 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگلے پانچ ماہ تک پیٹرول کی لیوی میں اضافہ کیا جاتا رہے گا جس کا اثر ہمارے زرعی شعبے پر پڑے گا اور اس وقت ڈیزل کی قیمت کا جس طرح سے زرعی شعبے پر اثر ہو رہا ہے وہ ایک کسان ہی جانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس تیزی سے مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اس کا احساس بھی ہر پاکستانی کو ہے، مجھے یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ مفتاح اسماعیل پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ میں مہنگائی کم کرنے کے لیے نہیں آیا مگر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا میری ترجیح ہے، تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کو دیوالیہ کی طرف کون دھکیل رہا ہے، اس کی ذمہ داری کس پر ہے کیونکہ جب یہ حکومت میں نہیں تھے تو یہ کہتے تھے کہ ساری مہنگائی کی وجہ تحریک انصاف کی ناتجربہ کار حکومت ہے۔انہوںنے کہاکہ اب تو تمام تجربہ کار ایک ساتھ حکومت میں ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا افراط زر چند ماہ میں بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کہ ہماری حکومت میں ساڑھے 16 فیصد تک تھا۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کہنا ناکافی ہے کہ دیوالیہ کے ذمہ دار پچھلی حکومت ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور کسی پالیسی میں کوئی تسلسل نہیں ہے، موجودہ حکومت کی ساکھ بہت متاثر ہو چکی ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب ملک کے لیے رعایت لینے کے لیے باہر کسی سے بات کرنی ہوتی ہے تو وہ بات بھی آرمی چیف کرتے ہیں جو کہ وزیر خارجہ کو کرنی چاہیے، مگر ان کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ کوئی ان کو توجہ نہیں دیتا اور نہ ہی ان کی بات میں اہمیت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک کے یہ حالات ہیں کہ سب سے زیادہ 4 کمزور ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام لیا جارہا ہے تو یہ جو این اے 157 میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے اس پر باشعور لوگوں کو نگاہ رکھنی ہوگی کیونکہ جب سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ حکومت آئی ہے، روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی ہوگئی ہے۔


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر