وجود

... loading ...

وجود

خودکشی کے مترادف

منگل 28 جون 2022 خودکشی کے مترادف

 

عام مسلمان کے دل زخمی ہیں وہ بے بس بھی ہیں اور لاچاربھی وہ دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیںہیں ہونٹوںپر فریادمچل مچل جاتی ہے کیونکہ ایک صدی مسلم حکمرانوں کا کردار انتہائی بھیانک ہے جو بیکارمشاغل میں مبتلاہیںاور ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں جو ہتھیار اسلام دشمنوںکے لئے اٹھنے چاہییے تھے وہ ایک دوسرے کے خلاف اٹھے ہوئے ہیںا پنے وسائل دشمنی کی جنگ میں جھونک رہے ہیں جس سے صرف ِ نظرکرنا خودکشی کے مترادف ہے اس لئے جتنی جلدی ہوسکے امت ِ مسلمہ کو خواب ِ عفلت سے بیدارہونا چاہیے یہ آوازِ جرس بھی ہے حالات کا تقاضا بھی۔ایک دانشورلوئی پاسچر کا قول ہے کہ علم کا کوئی وطن نہیں ہوتا۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اپنے ایک شعر میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ کیا ہے کہ حکمت کو اک گم شدہ لعل سمجھو جہاں پائو اپنا اسے مال سمجھو دراصل انہوں نے ایک حدیث مبارکہ کی طرف اشارہ کیاہے جس کا مفہوم علم مومن کی گمشدہ میراث ہے آثار قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سمیریا، بابل اور مصر کی تہذیب و تمدن میں سب سے پہلے انسانی علمی کاوشوں کا آغاز ہوا۔ پھر یونانیوں کا دور آیا۔ جب ایک مدت کے بعد یونان پر زوال آیا تو یہ اندیشہ تھا کہ علم وہنر کا کارواں جو کئی ہزار سال سے منزلیں طے کرتا چلا آ رہا تھا، اب تباہ ہو جائے گا لیکن بنی نوع انسان کی خوش قسمتی سے اس کارواں کو مسلمان قافلہ سالار مل گئے۔ عرب کے ان مایہ ناز عالموں کے نام سائنس کی تاریخ میں اب تک درخشاں ہیں جن کے بغیرتاریخ نامکمل ہے ۔ کندی، زکریا، رازی، جابر بن حیان، البیرونی، بوعلی سینا، ابونصر فارابی ، بنو موسی وغیرہ، یہ ایسی کوہ پیکر شخصیات ہیں جن پر اسلامی سائنس جتنا ناز کرے کم ہے۔ ان میں ایک نام ہے ابو علی حسن ابن الحسن ابن الہیثم کا۔ سائنس کے ایک امریکی مورخ جارج سارٹن کے بقول ابن الہیثم دنیا سب سے بڑا طبیعیات دان مسلمان عالم تھا، جسے دنیا کے عظیم ترین علم دوست اشخاص میں شمار کرنا چاہیے۔ ابن الہیثم نے سائنس کے مختلف شعبوں کو بالخصوص علم مرایا و مناظر کو جو ترقی دی ہے اس کا جواب بہت کم ملے گا۔ دنیا کو ابن الہیثم کے ذاتی حالات کا علم زیادہ نہیں، البتہ اس کی علمی سرگرمیوں سے معلوم ہوتاہے کہ آپ ایک متحرک اور ہمہ جہت شخصیت تھے آپ کی زندگی ایسے زمانے میں بسر ہوئی جب ریاضیات کا علم اپنی معراج پر تھا۔ علم الاعداد، علم المثلثات، دائروں اور مخروطوں کی پیمائش یعنی علم ہندسہ وغیرہ ان دنوں مصر اور عرب کی یونیورسٹیوں میں بے حد شوق سے پڑھے جاتے تھے۔ یونانی فلسفی یعنی جالینوس، ارسطو، اقلیدس اور بطلیموس کے نظریات اس عہد کے لوگوں کے ذہن پر چھائے ہوئے تھے۔ ایسے زمانے میں ابن الہیثم نے آنکھ کھولی۔ لیکن انہوںنے اندھا دھند تقلید کے بجائے اپنا الگ راستہ بنایا صدیوں سے رائج نظریات کو دلیل سے ردکیا انہوں نے مشاہدات و تجربات کو اپنا رہبر بنایا۔ دنیا کے مایہ ناز سائنس دان ابن الہیثم بصرہ میں 965 ء ابن الہیثم میں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے فارغ ہو کرآپ قاہرہ چلے گئے جو ان دنوں عظیم دارالسلطنت ہونے کے علاوہ علم و دانش کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ قاہرہ میں وہ ایک ممتاز ریاضی دان اور انجینئر کی حیثیت سے اتنا مشہور ہوا کہ فاطمی خلیفہ الحاکم نے اسے اپنی خدمت میں لے کر سرفرازی بخشی۔ کچھ عرصے تک خلیفہ نے اسے بڑے احترام سے رکھا۔ ایک مرتبہ دریائے نیل کی سالانہ طغیانی سے آس پاس کے علاقے میں سخت جانی اور مالی نقصان ہوا۔ ابن الہیثم نے اس تباہی خیز دریا پر بندھ باندھنے کا منصوبہ تیار کیا وہ جس اندازسے اس منصوبے کو پایہ ٔ تکمیل کرنا چاہتے تھے خلیفہ کے بیشترمقربین اس کے شدید مخالف ہوگئے جس سے اس کا یہ عظیم الشان منصوبہ بعض وجوہ سے ناکام ہو گیا اور خلیفہ کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے ابن الہیثم قاہرہ سے بھاگا اور جب تک خلیفہ زندہ رہا، اس نے اپنے آپ کو دیوانہ مشہور کر دیا۔ تاہم یہ فخر کیا کچھ کم ہے اسی دیوانے ابن الہیثم کے منصوبے کو ایک ہزار سال بعد حکومت مصر نے دریائے نیل کا مشہور سوان بند بنا کر پورا کر دکھایا۔ اس نے گم نامی کے اس زمانے میں فراغت کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ اس کی سب سے عمدہ تصنیف کتاب المناظر ہے جو علم البصریات پر سب سے پہلی جامع کتاب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اقلیدس اور بطلیموس کے اس نظریے کی تردید کی ہے کہ نگاہ آنکھ سے نکل کر دوسری چیزوں پر پڑتی اور انہیں دیکھتی ہے۔ ابن الہیثم کا بیان ہے کہ نگاہ آنکھ سے نکل کر دوسری چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ خارجی چیزوں کا عکس آنکھ پر پڑتا ہے۔ اس کے اس نظریے کو اس کے معاصروں اور بعد میں آنے والوں نے بہت کم تسلیم کیا۔ اس زمانے کے ماہرین چشم نے بھی یہ نظریہ قبول نہیں کیا لیکن البیرونی اور بوعلی سینا جیسے دیدہ ور اس کے نظریوں کو تسلیم کرتے تھے۔ ابن الہیثم نے رنگ اور روشنی کے انتشار، انعکاسِ نور اور فریبِ نظر پر بھی بحث کی ہے اور انعکاسِ نور کے زاویے دریافت کیے۔ ابن الہیثم کا مسئلہ آج بھی علم المناظر میں اس کا نام روشن کر رہا ہے۔ انعطاف نور کے مسئلے کی جانچ ابن الہیثم نے شفاف چیزوں یعنی ہوا اور پانی کے ذریعے کی۔ اس نے کروی اجسام کے ذریعے یعنی گلاسوں میں پانی بھر کر چھوٹی چیزوں کو بڑا دکھانے والے عدسے یا خوردبین کا راز نظری طور پر معلوم کر لیا تھا۔ تین صدی بعد اٹلی میں ایسے عدسے تیار کیے گئے۔ مغربی مصنفوں مثلا راجر بیکن نے علم المناظر پر جو کچھ لکھا ہے ان کی بنیادی معلومات کا سہرا ابن الہیثم کے سر ہے۔ ابن الہیثم کی تصانیف سے لیونارڈ ڈاونسی، کیپلر اور آئزک نیوٹن جیسے جلیل القدر لوگ متاثر ہوئے۔ ابن الہیثم کی ایک اور کتاب میزان الحکم ہے جس میں علم ڈائنامکس کے اصول بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں فضا میں کثافت اور اس کے وزن کی نسبت کی خوب تشریح کر کے یہ واضح کیا ہے کہ لطیف اور کثیف فضاوں میں اجسام کا وزن گھٹتا بڑھتا ہے۔وہ کشش ثقل کے نکتے کو خوب جانتا تھا اور اسے ایک عظیم طاقت تسلیم کرتا تھا۔ تیزرفتاری، فضا اور اجسام کے گرنے میں جو نسبت ہے اسے وہ پوری صحت سے جانتا تھا۔ باریک نلیوں میں سیال مادے جس طرح چڑھتے ہیں اور درختوں کے پتوں میں رس جس طرح پہنچتا ہے، اس کے اصول یعنی قانون انجذاب پر اس کی بہت نظر تھی۔ ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اس عظیم مسلم سائنس دان کا انتقال 1039 ء میں ہوا۔ مسلمانوںکی ستم طریقی یہ ہوئی کہ گذشتہ100 کے دوران تخلیقی، تحقیقی اورفکری نظریاتی کام بتدریج کم ہوتاچلاگیا اور آج ہم مسلسل انحطاط پذیرہیں یہی وجہ ہے کہ یہودی و عیسائی علمی،تحقیقی و ایجادات کے میدان میں ہم سے ہزاروںکوس آگے ہیں بدقسمتی سے ہمیں اس کا پھر بھی ادراک نہیں ہورہا یہی تنزلی کا بڑا سبب بن گیاہے اس سلسلہ مسلم حکمرانوںکا کردار انتہائی بھیانک ہے جو لایعنی سرگرمیوں،بیکارمشاغل:اسلام دشمن قوتوں سے دوستی کی خاطر اپنی درخشندہ روایات سے صرف ِ نظرکرکے ایک دوسرے کے دشمن بن کر اپنے وسائل دشمنی کی جنگ میں جھونک رہے ہیں جس سے صرف ِ نظرکرنا خودکشی کے مترادف ہے اس لئے جتنی جلدی ہوسکے امت ِ مسلمہ کو خواب ِغفلت سے بیدارہونا چاہیے یہ آوازِ جرس بھی ہے حالات کا تقاضا بھی اور ہرمسلمان کی دلی تمنا بھی۔


متعلقہ خبریں


مضامین
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی وجود جمعه 19 اگست 2022
بلوچستان، مزید بارشیں، تباہ کاریاں، خراب حکمرانی

ڈیپ فیک وجود جمعه 19 اگست 2022
ڈیپ فیک

ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی ، ایک غازی کے نشانے پر

سور۔یلا۔۔ وجود بدھ 17 اگست 2022
سور۔یلا۔۔

سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے وجود بدھ 17 اگست 2022
سوشل میڈیا ایک بہت بڑا دھوکاہے

میثاقِ معیشت کی تجویز وجود بدھ 17 اگست 2022
میثاقِ معیشت کی تجویز

اشتہار

تہذیبی جنگ
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید وجود جمعرات 18 اگست 2022
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کی ایران سے تعلق کی تردید

یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام