وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کا لانگ مارچ روکے جانے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

هفته 28 مئی 2022 عمران خان کا لانگ مارچ روکے جانے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لانگ مارچ روکے جانے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے و نیب اور انتخابات ترمیمی بلز چیلنج کرنے کا اعلان کردیا اور ملک کے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے اور ملک کو بچانے کا ٹھیکا صرف ہم نے نہیں لیا ہوا ہے۔جس طرح کا تشدد کیا گیا ، اس کو ہر فورم پر اٹھائیں گے، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اٹھائیں گے ،پشاور میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جس طرح کا تشدد کیا گیا اس کی رپورٹس آرہی ہیں کہ اصل میں کس طرح کے حربے استعمال کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو ہر فورم پر اٹھائیں گے، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج جو ایک جماعت کا 26 سال کا ریکارڈ ہے، ہم نے کبھی انتشار کی سیاست نہیں کی، ہمارے اوپر بعض اوقات بڑا دباؤ تھا، جب پارٹی شروع کی تو ان دنوں کراچی میں ایم کیو ایم کا دور تھا اور دہشت گردی بہت تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں نے کہا اگر پارٹی کے اندر عسکری ونگ نہیں بنائی تو کراچی میں نہیں بن سکتی اور اس وقت کراچی میں جتنی جماعتیں تھیں، ان کے عسکری ونگز تھے،انہوں نے کہا کہ ہماری واحد پارٹی تھی جس نے فیصلہ کیا ہم کسی قسم کا عسکری ونگ اس لیے نہیں بنائیں گے کیونکہ جب پارٹی کے اندر ایک دفعہ یہ ونگ بناتے ہیں تو پھر وہ پارٹی پر قبضہ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے خود ہمیشہ ایک جمہوری پارٹی سمجھا ہے۔عمران خان نے کہا کہ باہر کی سازش کابینہ، قومی سلامتی کونسل سمیت ہمارے تمام فورمز میں ثابت ہوگئی اور صدر نے وہ مراسلہ انکوائری کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا۔انہوں نے کہا کہ جب ثابت ہوگیا کہ پاکستان کے اندر 22 کروڑ عوام کے موجودہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے باہر سے مداخلت کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ 6 ہفتے نہیں گزرے کہ ہمارے اوپر مسلط کی گئی امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے بڑھا دی ہیں جبکہ بھارت امریکا کا اسٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود آزادانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے روس سے 30 فیصد کم پر تیل درآمد کرکے پیٹرول سستا کردیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے روس سے مذاکرات کیے تھے، پیٹرولیم کے وزیر حماد اظہر نے خط دکھایا ہے کہ ہم نے ان سے 30 فیصد کم پر تیل خریدنے کا معاہدہ کرلیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ امریکی دباؤ پر اور انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پر دباؤ ڈالا، اسی وجہ سے یہاں قیمتیں بڑھیں، آئی ایم ایف نے تیل مہنگا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے ہمیں سستا تیل مل سکتا تھا وہ انہوں نے امریکا اور اپنے آقاؤں کے خوف سے وہ تیل نہیں لیا جو بھارت نے لیا اور اپنی قوم کو فائدہ پہنچایا، یہ ایک آزاد اور غلامانہ خارجہ پالیسی کا فرق ہے۔’سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے احتجاج کی دوسری وجہ یہ تھی کہ کسی سے ڈر کر اپنا ضمیر بیچتے ہیں تو یہ شرک ہے، ہم اس امپورٹڈ حکومت کو کبھی مانیں گے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ حکومت ہے، جس میں 60 فیصد لوگ ضمانت پر ہیں، یہ اس ملک کے کرپٹ ترین لوگ ہیں، میں نے 26 سال پہلے سیاست شروع کی تھی تو پاکستان کی سیاست کے ایجنڈے میں کرپشن میں لے کر آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا نام تھا اور اگر مجھے اقتدار کا شوق ہوتا تو پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ (ن) دونوں میں شامل ہوسکتا تھا لیکن میں نے اس وقت کہا کہ یہ دونوں کرپٹ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جب حکومت میں آئے تو ان کے اوپر کیسز سارے پرانے تھے، ہماری حکومت نے کوئی کیس نہیں بنائے سوائے مقصود چپراسی اور شہباز شریف کے خلاف ایف آئی اے اور ٹی ٹی کیسز کے۔عمران خان نے کہا کہ ہم ان کو تسلیم نہیں کریں گے، میں اپنی جان قربان کروں گا لیکن ان کو تسلیم نہیں کروں گا، ہم نے جائزہ لینے کے بعد تیاری شروع کی ہے، میں نے 6 دن کا وقت دیا تھا، اس کے بعد میں اعلان کروں گا کہ ہم پھر کب اسلام آباد آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مارچ کی تیاری کے لیے آج سے سب کو لگا دیا ہے، اپنے حلقوں میں جائیں اور پوری تیاری کریں، انہوں نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے اس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پورا منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کو سپریم کورٹ میں ہم درخواست لے کر جارہے ہیں اور پوچھیں گے کہ کیا اس ملک کے اندر ایک پرامن احتجاج ایک جمہوری پارٹی کا حق ہے یا نہیں ہے، اگر ہم پرامن احتجاج کریں گے تو کیا یہ پکڑ دھکڑ ہونی ہے واضح طور پر بتادیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر 126 دن کا دھرنا کیا، بتائیں ہم نے کوئی توڑ پھوڑ کی کسی کو کچھ کیا، پی ٹی وی کا جو کیس بنایا وہ چیلنج کرتا ہوں فراڈ تھا۔عمران خان نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس معلومات ہیں کہ انہوں نے کئی درختوں کو آگ لگائی، صاف نظر آرہا ہے، وہ ہمارے لوگ نہیں تھے، ایک جگہ پولیس والے کر رہے تھے اور ایک جگہ مسلم لیگ (ن) والے کر رہے تھے ہمارے اوپر ڈالنے کے لیے۔انہوں نے کہا کہ ہم سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز کے خلاف عدالت جانا ہے اور ایف آئی آر درج کرائیں گے، اسلام آباد کا آئی جی وہ مجرم جس کو لاہور کی سیف سٹی میں سزا ہونے والی تھی، اس کو یہاں بٹھایا تاکہ وہ غلط کام کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پولیس افسروں کے نام لکھ رہے ہیں، سب کے خلاف ایف آئی آر کاٹیں گے اور سوشل میڈیا پر ان کی شکلیں ڈالیں گے جو انہوں نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرامن احتجاج کے دروازے روکیں گے تو ہم گھر میں چپ کرکے بیٹھ جائیں گے اور ان کو تسلیم کریں گے، ہم کبھی ان کو تسلیم نہیں کریں گے، ہمارے لیے کیا راستہ رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بڑے ادب سے اپنی عدلیہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ امتحان آپ کا بھی ہے، ہم آپ کے پاس جا رہے ہیں، سارے قانونی طریقے اپنائیں گے، ہائی کورٹس میں جائیں گے۔لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم وہاں بیٹھنے کے لیے پوری تیاری کرکے آئے تھے صرف ایک وجہ سے رکا کیونکہ لوگوں میں جس طرح کا غصہ تھا، کوئی نہیں سمجھ رہا تھا، سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کے بعد ہم سمجھے تھے سب ٹھیک ہوگیا لیکن اس کے بعد جو ہوا اس کے لیے ہم تیار ہی نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جتنا غصہ تھاتو مجھے پورا یقین تھا کہ اگلے دن وہاں خون ہونا تھا، لوگ لڑنے کے لیے تیار تھے، گولی چل سکتی تھی، لوگوں کے جذبات وہاں پہنچ گئے تھے، اداروں کے خلاف نفرت، پولیس اور پنجاب پولیس کے خلاف تو ویسے نفرت بڑھ گئی تھی، فوج کے خلاف بھی بڑھ جانی تھی کیونکہ رینجرز نے بھی وہاں شیلنگ کی تھی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر پہلے ہی ان کا نوکر تھا اور اب مزید اپنے دو نئے لوگ وہاں بھرتی کروا لیے اور نیب کا اپنا آدمی رکھوانے لگے ہیں، ایف آئی اے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عدالت جارہے ہیں ہمیں اجازت دی جائے، ہم اپنی پوری منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو سبق سیکھے ہیں اور کس چیز سے بچنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن کے بارے میں بیٹھیں گے تو پھر دوسری چیزوں پر بات چیت کر سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کے اوپر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو اعتماد ہی نہیں ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اداروں کو پاکستانی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، اس ملک کو بچانے کے لیے صرف ہم نے کوئی ٹھیکا نہیں لیا ہوا، یہ ساری قوم کی ذمہ داری ہے اور اداروں کی ذمہ داری ہے جو سارا تماشا دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو وہ سب ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے اجازت دی اور اس طرح کے کرپٹ، مجرموں، سزا یافتہ، جو لوگ ضمانت پر ہیں جو 30 سال سے اس ملک کے اوپر قیادت کے لیے بیٹھا ہوا ہے وہ سب ذمہ دار ہوں گے۔انہوں نے نیب ترمیمی بل اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا ناانصافی ہے، فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے جب کہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے انہوں نے نیب کے قوانین میں ترمیم کی۔ عمران خان نے کہا کہ سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی آپریشنز کے خلاف عدالت جائیں گے اور مقدمہ درج کروائیں گے۔پریس کانفرنس میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، حماد اظہر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر