وجود

... loading ...

وجود

آصف زرداری سے سندھ کو آزاد کرانا ہے،عمران خان کا جہلم جلسے سے خطاب

بدھ 11 مئی 2022 آصف زرداری سے سندھ کو آزاد کرانا ہے،عمران خان کا جہلم جلسے سے خطاب

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جماعت چاروں صوبوں کی جماعت ہے، پاک فوج اور تحریک انصاف پاکستان کو متحد رکھ رہی ہے۔ میر جعفر، میرصادق سازش میں ملوث تھے، 22کروڑعوام کے وزیراعظم کوسازش کے تحت نکالا گیا، سندھ کو میں نے آصف زرداری سے آزاد کرانا ہے، نوازشریف فوج کے خلاف بولتا ہے، چھوٹا بھائی بوٹ پالش کرتا ہے، اربوں روپے کرپشن کیسز میں مفرور شخص نواز شریف کی طلبی پر وفاقی کابینہ کا لندن جانا پاکستان کی توہین ہے۔جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کا جذبہ دیکھ کر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جلسے میں پارٹی جھنڈے سے زیادہ پاکستان کا جھنڈا لے کر آئیں، بہت کم ایسے ہوتا ہے ساری قوم اکٹھی ہوجائے، ساری قوم نے آزادی کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، کبھی اتنے بڑے جلسے نہیں دیکھے، جہلم میں ایسا جلسہ پہلے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہم پرخاص کرم کیا ہے، ایک پلان انسان، دوسرا اللہ بناتا ہے، امریکی انڈرسیکرٹری ڈونلڈ لو ہمارے سفیر کو تکبرمیں بلا کرحکم دیتا ہے، سفیر کو تکبرانہ اندازمیں کہا گیا اگرعمران خان کو نہ ہٹایا تو بڑا مشکل وقت آئے گا، مجھے ہٹا کرچیری بلاسم کولے آئے تو سب کچھ معاف کر دیا جائے گا، میر جعفر، میر صادق سازش میں ملوث تھے، 22کروڑعوام کے وزیراعظم کوسازش کے تحت نکالا گیا۔عمران خان نے کہا کہ 30 سال سے ملک لوٹنے والے بڑے ڈاکوں کو مسلط کیا گیا، اللہ نے کرم کیا قوم کو بیدار کر دیا، پاکستان کلمے کی بنیاد پر بنا تھا اللہ نے قوم کی خودداری کو جگا دیا، اللہ کا جتنا بھی شکرادا کریں کم ہے، ہماری خودداری کو کرپٹ، غدارلیڈروں نے ختم کر دیا تھا، ان میں خود غیرت نہیں تھی انہوں نے قوم کی غیرت کو بھی نقصان پہنچایا، 26سال سے قوم کی خودداری جگانے کی کوشش کررہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا اس رزق سے موت اچھی جس رزق میں آتی ہو پرواز میں کوتاہی، چیری بلاسم بوٹ پالش کو قوم پر بٹھایا تو قوم جاگ گئی، آج پاکستان کو قوم بنتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، عمران سارے چوروں کی بندر بانٹ ہو رہی ہے، میں نے سوچا تھا فضل الرحمان کوئی ایجوکیشن کی منسٹری سنبھالیں گے، فضل الرحمان نے این ایچ اے کی منسٹری پیسہ بنانے کے لیے سنبھالی، چوروں کی کابینہ بنی ہے 60 فیصد ضمانت پر ہے، کسی نے 18 قتل کیے ہیں، شریف خاندان نے 40 ارب کی چوری کا حساب دینا ہے، زرداری نے ایان علی کے فیک اکاونٹس کا حساب دینا ہے، سزایافتہ، جھوٹ بول کر بھاگنے والے نے ساری کابینہ کو لندن بلالیا ہے، یہ سارے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لندن جارہے ہیں، لندن جا کر مفرور، سزا یافتہ، بزدل کو ملیں گے، بزدل، مفرور سے جا کر ہدایات لیں گے یہ ملک کی توہین ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے فیصلہ کرلیا ہے امپورٹڈ حکومت نامنظور، 20 مئی کے بعد اسلام آباد کی کال دوں گا، پہلے سوچا تھا کہ 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں گے، آپ لوگوں کو دیکھ کرلگ رہا ہے، اب اسلام آباد 25 لاکھ لوگ پہنچیں گے، چیری بلاسم کون ہے بچوں کو بھی پتا چل گیا ہے، نوازشریف اوران کی بیٹی فوج کو برا بھلا اور شہبازشریف بوٹ پالش کرتا ہے، لیگی قائد بزدل جب باہر جاتا ہے تو فوج کو برا بھلا کہتا ہے، شہبازشریف کہتا ہے عمران خان فوج کے خلاف بڑی باتیں کرتا ہے، کچھ تو شرم کرو، شہبازشریف تم ہو وہ میر جعفر، میرجعفر وہ تھا جس نے سراج الدولہ سے غداری کی پھر انگریزوں نے اسے اوپر بٹھایا تم ہو وہ شہباز شریف میرجعفر، آصف زرداری سندھ آرہا ہوں، سندھ کو میں نے آصف زرداری سے آزاد کرانا ہے۔ سابق صدر نے بیرون ملک پیسہ باہر بھیجا سب جانتا ہوں، کہا تھا جب اقتدارسے نکلوں گا تو زیادہ خطرناک ہو جاوں گا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ہاوس میں تو میرا وزن بھی بڑھ گیا تھا، یااللہ تیرا لاکھ، لاکھ شکر میری عوام کھڑی ہو گئی ہے، بھارت نے پاکستان کے خلاف 600 جعلی اکاونٹس بنا کرپروپیگنڈا کیا، بھارت نے پاکستان کی فوج اورمیرے خلاف پروپیگنڈا کیا، بھارت نے کیوں فوج اورمجھے نشانہ بنایا، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرارہا ہے، بھارت کو پتا ہے فوج اورعمران خان پاکستان کواکٹھا رکھ رہی ہے، بھارت اس لیے فوج اورمیرے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، بھارت کو پتا ہے فوج اور عمران کے ہوتے ہوئے وہ کچھ نہیں کر سکتا، چوروں کا پلندہ مل کر مینار پاکستان میں جلسی بھی نہیں کر سکتے، شہبازشریف شرم کرو، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، دعا کرتا ہوں میرا نام ای سی ایل ڈال دو باہرنہیں جانا چاہتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف سابق صدر پرویز مشرف سے معاہدہ کر کے گیا تھا، زرداری، نوازشریف مشرف سے این آر او لیکر واپس آئے تھے، ساڑھے تین سالوں میں ایک نجی دورہ نہیں کیا تھا، سابق وزیراعظم نے 24اور سابق صدر نے 50 نجی دورے کیے تھے، انکی ساری پراپرٹی بیرون ملک ہے، شہبازشریف تم کہتے ہومیں فوج کے خلاف ہوں، نوازشریف بھارت گیا تو حریت رہنماوں سے ملنے کے بجائے نریندرا مودی کے جوتے پالش کیے، لیگی قائد بھارتی وزیراعظم سے کہتا ہے میں تو دوستی چاہتا ہوں فوج کا سربراہ نہیں، میری حکومت میں مودی کی میرے آرمی چیف کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی نواز شریف، شہبازشریف کے منہ سے کشمیر کی آزادی کی بات سنی؟ شہبازشریف اقتدارمیں آ کر کہتا ہے بھارت سے دوستی چاہتے ہیں، شہباز شریف تم بھارت سے دوستی کی بات اس لیے کرتے ہو تمہیں یہ حکم دیا گیا، روس ہمیں 30 فیصد سستا تیل دینے پر راضی ہو گیا تھا، موجودہ وزیراعظم تمہارے پاس روس سے سستا تیل لینے کی جرات ہے، پہلے تمہیں روس سے معاہدہ کرنے کی اجازت مانگنی پڑے گی جو نہیں ملے گی، امریکی بھارت کو آزاد فارن پالیسی کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے، ہمارا مسئلہ ہمارے حکمران پیسے کے غلام کبھی عوام کے لیے کھڑے نہیں ہوئے، ایک بھٹو کھڑا ہوا تھا اس کے خلاف بھی سازش ہوئی تھی، بھٹو کے خلاف نواز شریف، فضل الرحمان کے بڑے سازش کا حصہ تھے، پاکستانیوں! خوددارقوم کھڑی ہورہی ہے۔اس سے قبل سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جہلم شہیدوں، غازیوں اور محافظوں کا شہر ہے۔ امپورٹڈ وزیر اعظم شہباز شریف کہتے تھے دھمکی آمیز مراسلہ فرضی مراسلہ ہے، جھوٹ کا پلندہ ہے، اگر ثابت ہو گیا مراسلہ سچا ہے تو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو جاں گا، شہباز شریف مراسلے کی صداقت کے اعتراف کے بعد تمہیں اپنی مستند سے اتر کر عمران خان کے قدموں میں بیٹھ جانا چاہیے تھا۔شاہ محمود نے کہا کہ اگر مراسلہ سچا نہیں تھا تو قومی سلامتی کمیٹی نے یہ کیوں فیصلہ کیا کہ امریکہ کے سفیر کو بلا کر احتجاج کیا جائے؟ وہ کہتے ہیں کہ سازش نہیں تھی مداخلت اور دھمکی بھی تھی، قوم نے بتا دیا ہے کہ وہ کسی بیرونی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہے۔ شہباز شریف کا وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کہتا ہے کہ مراسلہ دفتر خارجہ میں گھڑا گیا، اگر یہ قول درست ہے تو جس کابینہ کا تم حصہ ہو اس نے اس کی انکوائری کے لیے کمیشن بنانے کا کیوں کہا۔سابق وفاقی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ میں آج اس امپورٹڈ وزیر خارجہ سے پوچھتا ہوں کہ رمضان میں مسجد اقصی پر متعدد حملے ہوئے کیا بلاول تم نے کوئی بیان دیا، ان حملوں کی مذمت کی، پاکستان پانی کے لیے ترس رہا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو ماننے کو تیار نہیں، کیا بلول تم نے اس پر بات کی بھارت سے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت جو آج آئی ہے اور اس کے اتحادی عمران خان کی حکومت کو مہنگائی پر قابو نہ پانے کے طعنے دیتے تھے، ان کو حکومت کے آئے ایک ماہ ہوا ہے اور مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہے۔منحرف اراکین پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ان لوٹوں کا ذکر کرنا چاہوں گا، وہ 25 لوٹے جن کی وجہ سے آج حمزہ شہباز پنجاب کا وزیر اعلی بنا بیٹھا ہے عنقریب یہ 25 لوٹے فارغ ہونے والے ہیں، جب یہ 25 لوٹے گھر کو لوٹیں گے تو ان کے ساتھ ساتھ حمزہ شہباز کی حکومت بھی گھر لوٹ جائے گی،جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ اس سے پہلے عوام سوموٹولیں الیکشن کرادیں پاکستان ہمارا گھر ہے اس پر ڈاکوں نے حملہ کر دیا ہے ڈاکوں کے حملے کے بعدایک ہی حل فوری الیکشن کاہے۔فوادچوہدری نے کہا کہ رواں سال 126 جوان پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے زیادہ تر شہدا کا تعلق جہلم کی سرزمین سے تھا جہلم کے عوام پاکستان کی بنیادوں میں اپنالہودیتیہیں تاکہ ملک کھڑارہے۔انہوں نے کہا کہ جہلم کی پیاسی دھرتی کوعمران خان نے نہر کا تحفہ دیا یہاں کے عوام آپ کے ساتھ پاکستان کی خودمختاری کیلئے ساتھ کھڑ ے ہیں، پاکستان کافیصلہ واشنگٹن میں نہیں ہوسکتا ہے، پاکستان کے عوام نے کرناہے عمران خان آپ ہماری امید ہیں پاکستان کافیصلہ پاکستان کے عوام نے کرناہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں سربکف ہے پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے کسی امپورٹڈ حکومت یاچیری بلاسم کوہم نہیں مانتے آج ایک نیا ڈرامہ ہوا ہے یہاں کے کرائم منسٹر کوبھگوڑا لندن طلب کر رہا ہے لندن میں بیٹھا بھگوڑا کرائم منسٹر کو کہتا ہے کہ ہمیں نیا این آراو بنا کردو، پاکستان کا فیصلہ کوئی چیری بلاسم یا زرداری بیماری نہیں کرسکتا۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر