وجود

... loading ...

وجود

پانی کا بحران' جماعت اسلامی نے 20مئی کو واٹر بورڈ ہیڈ آفس کے گھیراؤ کا اعلان کردیا

منگل 10 مئی 2022 پانی کا بحران' جماعت اسلامی نے 20مئی کو واٹر بورڈ ہیڈ آفس کے گھیراؤ کا اعلان کردیا

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ واٹر بورڈ کرپشن کا اڈہ بن چکا ہے ، پانی لائنوں میں فراہم کرنے کے بجائے ٹینکروں کے ذریعے فروخت کیا جا رہا ہے ،شہریوں کے ساتھ واٹر بورڈ کے اس ظالمانہ سلوک ، شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی اور بحران کے خلاف 20مئی جمعہ کے دن واٹر بورڈ کے ہیڈ آفس کا گھیراؤ کریں گے۔ جماعت اسلامی کراچی کے مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتی” حقوق کراچی تحریک” کو مزید تیز کر کے بھر پور رابطہ عوام مہم چلائیں گے جس میں چوکوں اور چوراہوں پر پروگرامات اور گھر گھر رابطے کیے جائیں گے اور 29مئی اتوار کو ایک عظیم الشان ”کراچی کارواں” نکالا جائے گا جس میں کراچی میں درست مردم شماری ، کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری اداروں میںملازمتوں ،پانی کے منصوبے K-4 سمیت دیگر اہم مسائل کو بھر پور طریقے سے نمایاں کریں گے اور وفاقی اور صوبائی حکومت ست اہل کراچی کا حق لیں گے ۔حافظ نعیم الرحمن پیر کو ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، پریس کانفرنس میں نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجہ عارف سلطان، مسلم پرویز ، انجینئر سلیم اظہر ، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان ، رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبد الرشید اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر 29دن کے تاریخی دھرنے کے بعدمیڈیا کے سامنے حکومت سندھ نے ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ معاہدے کا اعلان کیا تھا، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اسمبلی کااجلاس بلا یا جائے اور معاہدے میں موجود تمام شقوں پر عملدرآمدکرتے ہوئے بلدیاتی اختیارات شہری حکومت کو منتقل کیے جائیں ہم واضح کردینا چاہتے ہیں اگر معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ہم دوبارہ اسمبلی پر دھرنا اور وزیر اعلی ہائوس کا بھی گھیرائو بھی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ2017کی مردم شماری میں سندھ کی آبادی مکمل شمار نہیں کی گئی تھی اور ایم کیو ایم جو ہر حکومت کا حصہ رہی ہے اس نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر کراچی کی آبادی کو غیرقانونی طور پر آدھا کردیا ،ہمارا وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ انتخابات سے قبل فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے شفاف طریقے سے مردم شماری کروائی جائے ۔ صوبائی حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر کراچی کی آبادی پوری شمار ہوجائے گی تو یہ سندھ حکومت کے لیے یہ نقصان دہ ہوگی لہٰذا پی ٹی آئی ،پیپلز پارٹی ، ن لیگ ہو یا ایم کیو ایم یہ سب کراچی کی آبادی کو پور ا نہیں گنتے کراچی جو پورے ملک کو چلاتا ہے اور 95فیصد ریونیو مہیا کرتا ہے اس کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔اندورن سندھ سے تعلق رکھنے والے وڈیرے اور جاگیردار اپنی طاقت کی بنیاد پر مقامی لوگوں کو استحصال کے ذریعے اکثریت حاصل کر کے اسمبلیوں میںپہنچتے ہیں ، یہ اکثریت میں اس لیے آتے ہیں کہ سندھ کی شہری آبادی درست شمار نہیں کی جاتی ۔حکومت ایک جانب کہتی ہے کہ ہمیں مردم شماری پر تحفظات ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ محض رسمی تحفظات سے کچھ نہیں ہو گا اب آپ کو شہر کا مقدمہ لڑنا ہو گا ، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شہر میں پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے k-4میں 650ملین گیلن پانی کی منظوری دی گئی تھی لیکن حکمرانوں نے کراچی دشمن فیصلہ کیا اور کٹوتی کر کے 260ملین گیلن کر دیا ،اس وقت شہر میں شدید گرمی کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔ حالانکہ اسے بغیر کسی معاہدے کے گیس فراہم کی جارہی ہے ،دوسری جانب حکومتیں خواہ ماضی کی ہوں یا موجودہ کے الیکٹرک کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہیں ، ہمارا مطالبہ ہے کہ مختلف اداروں کی رقم جو کے الیکٹرک کے ذمہ واجب الادا ہے کے الیکٹرک اسے ادا کرے ، ادارے کا لائسنس منسوخ کر کے فرانزک آڈٹ کروایا جائے تاکہ عوام کو پتا چل سکے کہ کس طرح کے الیکٹرک کراچی کی عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کر رہی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بدترین صورتحال سے دوچار ہے ، حکومت سندھ کو اورنج لائن منصوبہ شروع کرنے میں 6سال لگ گئے اور شرم کی بات یہ ہے کہ وفاق سے کہتے ہیں کہ ہمیں 20بسیں دی جائیں، ہم حکومت سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائے کون سا بڑا منصوبہ ہے جو اس نے مکمل کیا ہے ۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ وجود - هفته 20 جون 2026

وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر