... loading ...
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان ایک خط کے مفروضے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے، سیکیورٹی ادارے سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں پھر الیکشن ہوں تاکہ دھاندلی نہ ہوسکے، اپوزیشن کی رائے نہیں لی گئی اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور پارلیمنٹ کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی، لہذا انتخابی اصلاحات کی جائیں، پھر ملک میں انتخابات ہوں تاکہ دھاندلی کا راستہ روکا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا غیر آئینی کھیل اسی بنیاد پر کھیلا گیا کہ جس طرح پہلے دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے دوبارہ اسی طرح دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایک مفروضے کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر کی غیر آئینی رولنگ پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی، ایک طرف بڑے با اصول بنتے ہیں، دوسری جانب وزیراعظم کے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملی بھگت سے ہو رہے ہیں، یہ سب ملے ہوئے ہیں، صدر، وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں، یہ کھیل ناقابل برداشت ہے اور ہم اس کو چلنے نہیں دیں گے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے اس نا اہل وزیراعظم کو اوندھے منہ زمین پر گرادیا ہے کہ طویل عرصے تک چہرے سے گرد کو جھاڑتا رہے گا، ہم نے اس کو اس طرح گھائل کردیا ہے کہ طویل عرصے تک زخموں کو چاٹتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کس بنیاد پر ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آؤ اپنی کارکردگی کی بات کرو، ایک ایسے خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں سیکیورٹی کمیٹی کہہ چکی کہ اس میں بیرونی سازش کا عنصر نہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ خط پر ہماری وضاحت سے سیکیورٹی کے ادارے مطمئن تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، یہ بیان دینا کہ ہم غیر جانب دار ہیں، کافی نہیں، کس نے ساڑھے تین سال تک ایک ناجائز حکومت کو سہارا دیا، اس بات کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔انہوںنے کہاکہ عدالت اسمبلی کی کارروائی پر بات نہیں کرسکتی لیکن اگر کارروائی آئین کے خلاف ہے اور اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے تو پھر اس معاملے کو عدالت سن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب 1988 میں ہماری بلوچستان کی اسمبلی توڑی گئی تو عدالت نے اس کو 24 گھنٹے میں بحال کردیا، کچھ چیزیں بہت واضح ہوتی ہیں، ان واضح چیزوں پر عدالتی کارروائی دنوں تک ملتوی ہونا یہ بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ گزشتہ روزجو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا، وہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کے بغیر ہوا، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو واضح ہونا چاہیے، ہم شکوک و شبہات کی نفی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے آج اپنے سینے پر غیر جانب داری کا بیج لگانے کے خواہش مند ہیں، اس پر ہم خوش ہیںلیکن گزشتہ ساڑھے تین سال جو اسٹیبلشمنٹ اس ناجائز حکمران کا سہارا رہی، اس جرم کا کیا کریں گے، اس کردار کو کس طرح زیر بحث لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم اپنا احتساب کریں، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک ناجائز حکمران کے لیے جانب داری کا سہارا کیوں لیا، آج اسی غیر جانب داری کو جاری رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سیکیورٹی کے اداے عوامی بحث سے باہر نکلیں، اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اگر اداے خود کو اس بحث میں اتارتے ہیں تو وہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر سوچے گیں ، ہم سے کیا گلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک صفاف شفاف نطام کی جانب جانا چاہتے ہیں، تاکہ واضح ہو کہ کسی ادارے کا پاکستان کے انتخابی نطام میں کوئی کردار نہیں ہے۔2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہم نے احتجاج کیا ، اس وقت سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا، اس وقت نوٹس لیا جاتا تو ملک اتنے مسائل کا شکار نہیں ہوتا جن کا اس وقت شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک خط کے ذریعے ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ہیرو نہیں بن سکتے، وہ زیرو ہوچکے ، انہوں نے ملک کو اور اس کی معیشت کو زیرو کردیا اور اب ان میں دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کو وزیر اعظم کہہ سکیں یا سرکاری وسائل استعمال کریں، صدر مملکت کو باور کرادینا چاہتاہوں کہ پارلیمنٹ اور عوام کا ‘موڈ’ آپ کے مواخذے کا بھی ہے۔انہوں نے صدر مملکت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ بھی اسی ناجائز اور تسلط پر مبنی ریجیم کا حصہ ہیں، ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے، صدر نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً اسمبلی تحلیل کردی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے مراسلے کو سیکیورٹی کمیٹی کے راز کو جس طرح افشاں کی، انہوں نے حلف سے غداری کی، ہمارے اداروں کو سوچنا ہوگا کہ کیا پاکستان اس طرح کے مفروضوں پر مبنی الزامات اور پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کی جانب دھکیلنے کا متحمل ہوسکتا ہے، اس کے نتائج کیا ہوں گے، ملک کس طرف جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ الیکشن کی طرف ا?ؤ، وہ الیکشن سے بھاگتے رہے ہیں، انہیں تحریک عدم اعتماد نے الیکشن کی جانب دھکیلا ہے، ہمت ہے تو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرو، سوال گندم، جواب چنا، یہ کھیل نہں چلے گا، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر بلاتے ہیں، ان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے، ہم عوام ہیں، وہ دھوکہ اور سراب ہیں، ان کی حیثیت ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سامنے آچکی ہے۔انہوںنے کہاکہ خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہیں کرو، بتاؤ آپ کی کارکردگی کیا ہے، تم نے ملک میں ایسے حالات پیدا کردیے کہ عوام آج اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں رہے، کس منہ سے عوام میں جاؤگے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن چاہتے ہیں ، مگر اس وقت آئین کو مجروح کردیا گیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین کی عزت بحال ہو، پھر اصلاحات کے بعد انتخابات ہوں، اس طرح الیکشن میں جانا ایسے ہے جیسے ایک گدلے پانی سے نکلے دوسرے میں چلے گئے۔انہوںنے کہاکہ اس معاملے پر ہم نرم رویہ اختیار نہیں کرسکتے، سڑکوں پر عوام کی رائے سامنے آچکی ہے فوج، عدلیہ اور تمام ادارے اس کا احترام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کو دھوکہ دے کر، فراڈ کرکے جشن منانے کی بات کرتی ہے، انہوں نے کہا 10 لاکھ لوگ اسلام آباد لاؤنگا، مشکل سے 10 ہزار لوگ جمع کرسکے، انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن کارکن اسلام آباد آئیں گے، ایک کارکن نہیں آیا، اب جشن وہ نہیں ہم منائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...