وجود

... loading ...

وجود

سلامتی کمیٹی اجلاس، خط کے مفروضے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، مولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

منگل 05 اپریل 2022 سلامتی کمیٹی اجلاس، خط کے مفروضے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، مولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان ایک خط کے مفروضے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے، سیکیورٹی ادارے سلامتی کمیٹی کے اجلاس پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں پھر الیکشن ہوں تاکہ دھاندلی نہ ہوسکے، اپوزیشن کی رائے نہیں لی گئی اور اسمبلی تحلیل کردی گئی اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور پارلیمنٹ کی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی، لہذا انتخابی اصلاحات کی جائیں، پھر ملک میں انتخابات ہوں تاکہ دھاندلی کا راستہ روکا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا غیر آئینی کھیل اسی بنیاد پر کھیلا گیا کہ جس طرح پہلے دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے دوبارہ اسی طرح دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایک مفروضے کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر کی غیر آئینی رولنگ پر قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی، ایک طرف بڑے با اصول بنتے ہیں، دوسری جانب وزیراعظم کے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ملی بھگت سے ہو رہے ہیں، یہ سب ملے ہوئے ہیں، صدر، وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں، یہ کھیل ناقابل برداشت ہے اور ہم اس کو چلنے نہیں دیں گے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے اس نا اہل وزیراعظم کو اوندھے منہ زمین پر گرادیا ہے کہ طویل عرصے تک چہرے سے گرد کو جھاڑتا رہے گا، ہم نے اس کو اس طرح گھائل کردیا ہے کہ طویل عرصے تک زخموں کو چاٹتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کس بنیاد پر ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، آؤ اپنی کارکردگی کی بات کرو، ایک ایسے خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بارے میں سیکیورٹی کمیٹی کہہ چکی کہ اس میں بیرونی سازش کا عنصر نہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ خط پر ہماری وضاحت سے سیکیورٹی کے ادارے مطمئن تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے پر ادارے اپنی پوزیشن واضح کریں، یہ بیان دینا کہ ہم غیر جانب دار ہیں، کافی نہیں، کس نے ساڑھے تین سال تک ایک ناجائز حکومت کو سہارا دیا، اس بات کو نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔انہوںنے کہاکہ عدالت اسمبلی کی کارروائی پر بات نہیں کرسکتی لیکن اگر کارروائی آئین کے خلاف ہے اور اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے تو پھر اس معاملے کو عدالت سن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب 1988 میں ہماری بلوچستان کی اسمبلی توڑی گئی تو عدالت نے اس کو 24 گھنٹے میں بحال کردیا، کچھ چیزیں بہت واضح ہوتی ہیں، ان واضح چیزوں پر عدالتی کارروائی دنوں تک ملتوی ہونا یہ بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ گزشتہ روزجو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا، وہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے کے بغیر ہوا، ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو واضح ہونا چاہیے، ہم شکوک و شبہات کی نفی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے آج اپنے سینے پر غیر جانب داری کا بیج لگانے کے خواہش مند ہیں، اس پر ہم خوش ہیںلیکن گزشتہ ساڑھے تین سال جو اسٹیبلشمنٹ اس ناجائز حکمران کا سہارا رہی، اس جرم کا کیا کریں گے، اس کردار کو کس طرح زیر بحث لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم اپنا احتساب کریں، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک ناجائز حکمران کے لیے جانب داری کا سہارا کیوں لیا، آج اسی غیر جانب داری کو جاری رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سیکیورٹی کے اداے عوامی بحث سے باہر نکلیں، اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اگر اداے خود کو اس بحث میں اتارتے ہیں تو وہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر سوچے گیں ، ہم سے کیا گلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک صفاف شفاف نطام کی جانب جانا چاہتے ہیں، تاکہ واضح ہو کہ کسی ادارے کا پاکستان کے انتخابی نطام میں کوئی کردار نہیں ہے۔2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہم نے احتجاج کیا ، اس وقت سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا، اس وقت نوٹس لیا جاتا تو ملک اتنے مسائل کا شکار نہیں ہوتا جن کا اس وقت شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک خط کے ذریعے ہیرو بننے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ہیرو نہیں بن سکتے، وہ زیرو ہوچکے ، انہوں نے ملک کو اور اس کی معیشت کو زیرو کردیا اور اب ان میں دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ خود کو وزیر اعظم کہہ سکیں یا سرکاری وسائل استعمال کریں، صدر مملکت کو باور کرادینا چاہتاہوں کہ پارلیمنٹ اور عوام کا ‘موڈ’ آپ کے مواخذے کا بھی ہے۔انہوں نے صدر مملکت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ بھی اسی ناجائز اور تسلط پر مبنی ریجیم کا حصہ ہیں، ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے، صدر نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً اسمبلی تحلیل کردی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے مراسلے کو سیکیورٹی کمیٹی کے راز کو جس طرح افشاں کی، انہوں نے حلف سے غداری کی، ہمارے اداروں کو سوچنا ہوگا کہ کیا پاکستان اس طرح کے مفروضوں پر مبنی الزامات اور پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کی جانب دھکیلنے کا متحمل ہوسکتا ہے، اس کے نتائج کیا ہوں گے، ملک کس طرف جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ الیکشن کی طرف ا?ؤ، وہ الیکشن سے بھاگتے رہے ہیں، انہیں تحریک عدم اعتماد نے الیکشن کی جانب دھکیلا ہے، ہمت ہے تو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرو، سوال گندم، جواب چنا، یہ کھیل نہں چلے گا، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر بلاتے ہیں، ان کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے، ہم عوام ہیں، وہ دھوکہ اور سراب ہیں، ان کی حیثیت ان کی کارکردگی کی بنیاد پر سامنے آچکی ہے۔انہوںنے کہاکہ خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہیں کرو، بتاؤ آپ کی کارکردگی کیا ہے، تم نے ملک میں ایسے حالات پیدا کردیے کہ عوام آج اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں رہے، کس منہ سے عوام میں جاؤگے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن چاہتے ہیں ، مگر اس وقت آئین کو مجروح کردیا گیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین کی عزت بحال ہو، پھر اصلاحات کے بعد انتخابات ہوں، اس طرح الیکشن میں جانا ایسے ہے جیسے ایک گدلے پانی سے نکلے دوسرے میں چلے گئے۔انہوںنے کہاکہ اس معاملے پر ہم نرم رویہ اختیار نہیں کرسکتے، سڑکوں پر عوام کی رائے سامنے آچکی ہے فوج، عدلیہ اور تمام ادارے اس کا احترام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کو دھوکہ دے کر، فراڈ کرکے جشن منانے کی بات کرتی ہے، انہوں نے کہا 10 لاکھ لوگ اسلام آباد لاؤنگا، مشکل سے 10 ہزار لوگ جمع کرسکے، انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن کارکن اسلام آباد آئیں گے، ایک کارکن نہیں آیا، اب جشن وہ نہیں ہم منائیں گے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر