وجود

... loading ...

وجود

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

اتوار 03 اپریل 2022 رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مبارک مہینہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کے طور پر انتہائی اہم ہے۔ یہ اہتمام خود خالق نے اپنی مخلوق کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی طور پر یہ مبارک مہینہ معنی خیز ہے، وہیں یہ اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کی سمت کا تعین اور منزل کی تلاش کا مبارک موقع ہوتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی تمام ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں۔ ایک مادہ پرست زندگی کے ساتھ بدترین سیاست نے ان کے شب وروز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی مذہبی روح بھی اب خالص نہیں رہی۔ مسلم تہذیب جن سوتوں سے نمو پاتی ہے، جہاں سے زندگی کی حرارت لیتی ہے، وہ اب اللہ کے احکامات اور خاتم النبی حضرت محمدﷺ کی مبارک زندگی نہیں رہی۔ کہنے کو ہم مسلمان ہیں، مگر ہماری پوری زندگی کے فیصلے احکاماتِ الہٰی اور اسوہ حسنہ سے بے نیاز ہوچکے۔چنانچہ مسلمانوں کی زندگی میں اب نئے معبود پیدا ہوگئے ہیں، جن کو وہ زبان سے مانتے تو نہیں مگر عملاً وہ اس کی پیروی میں دن کو رات کرتے ہیں۔ عیش میں آسائش اور عشرت میں آرائش کے تصور نے مسلمانوں کی زندگی کو مادیت کی غلامی میں دے دیا ہے۔ اب ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام احوال سیاست و معیشت کے گرد گھومتے ہیں۔ اور ایک حقیقی اخلاقی و روحانی زندگی ہمارا مرکز ومحور نہیں رہی۔ قومی ریاستوں کی حرکیات ہی کچھ ایسی ہے کہ دنیا تمام میں جہاں جہاں مسلمان ممالک ہیں وہاں مسلمانوں کی مذہبی وتہذیبی زندگی ، سیاسی و معاشی تحویل میںرہتی ہے۔ اس حوالے سے مسلم تحریکیں کوئی متبادل نظام دینے اور نیا عالمی تناظر پیدا کرنے میں مکمل ناکام رہی ہیں۔ اب سیاست، جمہوریت، معیشت ، کارپوریشنز ، ذرائع ابلاغ ہی ہمارا روز مرہ ہے اور اس پر کنٹرول رکھنے والی قوتیں ہی معاشرے کے بالادست طبقات ہیں۔ یہی ہماری معاشرتی و مذہبی زندگیوں پر اثراندازہوتے ہیں، اور ایسا کرنے کے لیے ان قوتوں نے خود مذہبی حلقوں سے ایسے تنگ نظر، لالچی مذہبی رہنما پیدا کرلیے ہیں جو دینی تصورات کی غلط سلط تعبیرات کرکے ان کی بالادستی کو قائم رکھنے میں معاون بنتے ہیں۔ یہ سب طاغوت کے سپاہی ہیں۔ اگر چہ ان کی وضع قطع مذہبی ہوتی ہے۔ ماہ رمضان ہمارے ان تمام باطل تصورات کو تبدیل کرنے کی تحریک پیدا کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ رب العزت اپنے لطف ِ خاص سے مسلمانوں کے اذہان و قلوب کو مائل بہ خیر کردیتا ہے۔ اس ماہ کی مبارک ساعتیں جسم ہی نہیں ذہن کو بھی بدل دیتی ہیں۔ یاد رکھیں! ماہِ رمضان دینی لحاظ سے عبادتی روح کو غذا فراہم کرنے کا چمن زار ہے۔ یہ معبود سے عبدکے رشتے کو خالص کرنے کے ایاّم ہیں۔ یہ صرف انسانی جسم کو قبلہ رو کرنے کے ہی لمحات نہیں بلکہ ذہن کے سانچے کو بھی الہامی رخ دینے کی مبارک ساعتیں ہیں۔ رمضا ن المبارک میں اللہ رب العزت کے احکامات کی روشنی میں جسم کو کھانے پینے سے جہاں جہاں وقفے وقفے سے بچایا جاتا ہے ، وہیں انسانی رویوں کی تہذیب بھی مطلوب ہوتی ہے۔ چنانچہ مرغوبات سے احتراز کے ساتھ جھوٹ، غیبت ، بدکلامی، بداخلاقی اور بدعملی سے پرہیز کی تلقین بھی زیادہ شدت سے کی جاتی ہے۔ یہ عمل روح کی بالیدگی کا ذریعہ بنتا ہے۔مسلمان اس دنیا میں ایک عرصہ امتحان کے طور پر جیتے ہیں۔ جہاں اُنہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی اعمال کو اللہ کے احکامات کے ماتحت رکھنا ہوتا ہے۔ یہ تصور انسان کو ہر قسم کی ذہنی غلامی سے بچاتا ہے۔ رمضان المبارک میں اللہ کی عبادت کے ساتھ جسم کو خالص کرتے ہوئے ذہن کو بھی ہر قسم کی غلامی سے نجات دلادی جائے تو حاکمیت کے مروجہ تصورات اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔


متعلقہ خبریں


موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

نوے کی دہائی میں فلم کی جگماتی اسکرین پر اپنی پاٹ دار آواز سے گونجنے والے افضال احمد گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ اپنے شاندار اظہار اور جاندار کردار کے باعث فلمی دنیا میں ایک نام اور مقام بنانے والے افضال احمد کی موت نے اس رنگین دنیا کے بظاہر پرشور مگر درحقیقت پرسکوت سمندر میں ذرا سی...

موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا وجود - اتوار 20 نومبر 2022

18/نومبر کی تاریخ دل میں برچھی بن کر اُتر گئی۔ اس تاریخ نے ماضی میں قدیم وجدید علوم کے شَناور علامہ شبلی نعمانی کو ہم سے جدا کردیا تھا، اب یہی تاریخ جلیل القدر عالم ِ دین صدر دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی صاحب کی زندگی کی برکتوں سے ہمیں محروم کر گئی۔ مفتی رفیع عثمانی نے تحریک ...

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی وجود - اتوار 30 اکتوبر 2022

پاکستان میں آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت بہت تیزی سے روبہ زوال ہے۔ نئے نئے ابلاغی اداروں نے اس مقدس پیشے کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے طاقت وروں اور سیاسی جماعتوں کے نوکروں کی طرح کارگزار ہیں۔ اینکرز اور تجزیہ کار واضح تعصبات کے شکار ہیں۔ سیاسی کارکنان کی طرح صح...

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو وجود - پیر 19 ستمبر 2022

یہ تصویر غور سے دیکھیں! یہ عمران فاروق کی بیوہ ہے، جس کا مرحوم شوہر ایک با صلاحیت فرد تھا۔ مگر اُس کی "صالحیت" کے بغیر "صلاحیت" کیا قیامتیں لاتی رہیں، یہ سمجھنا ہو تو اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ عمران فاروق ایم کیوایم کے بانی ارکان اور رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ اُس نے ایم کیوای...

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

شہر والوں کا ہے خدا حافظ وجود - اتوار 18 ستمبر 2022

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے اہل کراچی کا برہنہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی والے اپنے دشمن خود ہیں۔ جاوید عالم اوڈھو کے گل افشانئ گفتار کا پس منظر یہ ہے کہ شہرِ کراچی میں جرائم کی شرح ہر گزرتے روز بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایثار کیش اہلِ کراچی، سیلاب زدگان کی مدد ...

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں! وجود - منگل 09 اگست 2022

یوم عاشور مسلم تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ اسی روز نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول کو کوفہ میں شہید کیا گیا۔ یہ تاریخ مذاہب کے تاریخی پس منظر میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یوم عاشورہ کا سراغ مختلف روایات اور تاریخی کتب میں نہایت اہم ترین واقعات کے حوالے سے ملتا ہے جن میں سے چند ایک...

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں!

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے! وجود - جمعرات 21 اپریل 2022

حضرت علامہ اقبالؒ کا آج یوم وفات (21 اپریل) ہے۔حضرت علامہ کی فکر مسلمانوں کو ہر قسم کی غلامی سے دائمی نجات دلانے کی تحریک رکھتی ہے۔ وہ مسلم تہذیب کی حفاظت کے تمام امکانات کو اپنی فکر سے بروئے کار لائے اور برصغیر کی سیاست میں انگریزوں کے سامراجی مقاصد اورہندوو¿ں کے بدترین سیاسی و...

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے!

امریکی تاریخ میں پہلی بار نیویارک ٹائمز اسکوائر پر نماز تراویح کی ادائیگی وجود - پیر 04 اپریل 2022

اس سال رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز پر امریکا کی تاریخ میں پہلی بار سینکڑوں مسلمانوں نے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا کی۔ گلف ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، رمضان المبارک کے آغاز پر تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں نے امریکا کے اس مشہور مقام ٹائمز اسکوائر پر باجماعت نماز تراویح...

امریکی تاریخ میں پہلی بار نیویارک ٹائمز اسکوائر پر نماز تراویح کی ادائیگی

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟ وجود - جمعه 11 فروری 2022

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ہی تتر بتر نہیں، سماجی دامن بھی تار تار ہے۔یہاں زندگی کو ٹی وی کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ جسے مغرب میں "idiot box"کہا جاتا ہے۔ سیاسی و سماجی زندگی کی اجتماعی حرکیات میں چھائے مادی تناظر نے اقدار، غیرت، حیا، وفا، ایثار، بھرم اور قربانی کی تمام روایتوں ...

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں! وجود - جمعرات 10 فروری 2022

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کو دُہری شہریت کیس میں نااہل قرار دے دیا۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے واضح کیا کہ یہ نااہلی، تاحیات نااہلی کے زُمرے میں آتی ہے۔ فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دُہر...

فیصل واوڈا ہی نہیں، نااہل نظام کو بھی اکھاڑ پھینکیں!

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود - بدھ 05 جنوری 2022

مولانا محمد علی جوہر تاریخ کا ایک لہکتا استعارہ ہے۔اُن کے بغیر برصغیر کی آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔اُنہوں نے مسلمانانِ ہند کے اندر جوش، خروش، ہوش، حرکت ، حرارت، زندگی و تابندگی بھردی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر نے استعمار کے خلاف عوام میں حقیقی شعور پیدا کیا۔ اُنہوں نے ہی نوآبا...

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی وجود - منگل 28 دسمبر 2021

ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان نے کہا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کے استعمال کا کرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی ،فرانزک آڈٹ کروایا گیا اورلاہور سمیت دیگر شہروں میں پراپرٹی پر ناجائز قابضین سے اب تک 15ارب کی پراپرٹی کو واگزار کروالیا گیا ہے ۔ پریس کانفرنس...

متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیدادوں کاکرایہ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی

مضامین
چائلڈپورنوگرافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
چائلڈپورنوگرافی

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک وجود پیر 05 دسمبر 2022
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے وجود پیر 05 دسمبر 2022
عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے

عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

اشتہار

تہذیبی جنگ
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی

امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان وجود منگل 06 دسمبر 2022
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی

بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت وجود پیر 05 دسمبر 2022
بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار