وجود

... loading ...

وجود

قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟

جمعه 11 فروری 2022 قومی افق پر چھائے چھچھوروں سے نجات کیسے پائیں؟

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ہی تتر بتر نہیں، سماجی دامن بھی تار تار ہے۔یہاں زندگی کو ٹی وی کی آنکھ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ جسے مغرب میں “idiot box”کہا جاتا ہے۔ سیاسی و سماجی زندگی کی اجتماعی حرکیات میں چھائے مادی تناظر نے اقدار، غیرت، حیا، وفا، ایثار، بھرم اور قربانی کی تمام روایتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے بچوں کے لیے ایسی گندی، آلودہ، چھچھوری، غلیظ اور بے ہودہ مثالیں قائم کی جارہی ہیں جس کی پیروی میں بچے مذہب، تہذیب اور روایات سے مسلسل دور ہوتے جارہے ہیں۔ اجتماعی زندگی کی تمام کاوشیں ایک مصنوعی زندگی جینے میں صرف ہورہی ہیں۔ جس کے آخر میں بندگلی، تیرہ شبی اور آپادھاپی کے سوا کچھ نہیں۔ حالیہ دنوں میں عامر لیاقت نامی ایک شخص کی زندگی سوشل میڈیا اور مرکزی ذرائع ابلاغ میں زیر بحث ہے۔ توازن سے محروم، مواقع کا متلاشی، موقع پرستی کا شکار یہ شخص بدقسمتی سے ہماری قومی سیاسی و صحافتی زندگی پر مسلسل اثرانداز ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ کیسے حیات بخش روایات کا پاسدار ہوسکتا ہے جہاں ایسے بے ہودہ شخص کو اُگال دان میں تھوک نہیں دیا جاتا۔ پچھلے چند دنوں سے اس کی تیسری شادی کا چرچا ہے۔ اس سے خلع لینی والی طوبی نامی ایک لڑکی اس کی غیر شرعی زندگی کے لیل ونہار کو جواز کے طور پر پیش کررہی ہے۔ خود کو بے خود رکھنے والے، راتوں میں بہکی بہکی زندگی گزارنے والے یہ لوگ ٹی وی اسکرینوں پر جگمگاتے ہیں۔ تہذیب، مذہب اور روایتوں کے نام پر کمزور ذہنوں اور ضعیف عقیدوں کو اپنی ”غذا“ بناتے ہیں۔ مگر اپنی عملی زندگی میں اباحیت پسندانہ زندگی شعار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نئی نسل کے لیے ایک خطرہ ہے۔ عامر لیاقت کی زندگی سے جڑے تما م معاملات مجہول ہیں۔ اس کا فکری نسب، تعلیمی کسب، سیاسی حسب اور پیشہ ورانہ ڈھب سب کچھ مجہول، معیوب اور مشکوک ہے۔ ایسا شخص ٹی وی اسکرین پر جگمگاتا ہے۔ مذہبی پروگراموں کی میزبانی کرتا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں کے بھوکے علمائے کرام اس کی شرم ناک سرگرمیوں پر سرجھکائے رہتے ہیں۔ مگر اس کے پروگراموں میں جانے سے گریز نہیں کرتے۔ عامر لیاقت پر ”ڈاکٹریٹ“ کی جعلی سند کے علاوہ بھی بہت سی جعل سازیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ وہ مختلف معاملات میں بھی انتہائی مشکوک قرار دیا جاتا ہے۔ اب اُس کی زندگی کے اباحیت پسندانہ ماحول کے حوالے سے خود اس کے گھر سے گواہیاں سامنے آرہی ہیں۔یہ شخص نکاح کے مقدس رشتے کو انتہائی چھچھوری سطح پر لاکر اپنی زندگی کو رنگین و سنگین سانچوں میں اس طرح ڈھال رہا ہے کہ اس کی عمومی زندگی کی بدچلنی آشکار ہوتی جاتی ہے۔ یہ شخص سیاسی زندگی میں بھی ایسی ہی اچھل کود اور الٹی سیدھی قلابازیوں کی شہرت رکھتا ہے۔ کیا ایسا شخص ہمارے سیاسی، صحافتی افق پر اس طرح ناچتا، گاتا،لہراتا، اِٹھلاتا ہوا بے مواخذہ رہنا چاہئے؟ اس کی ذاتی زندگی کی تاریکیوں سے اجتماعی زندگی پر چھانے والے مشکوک سائے سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ ایسے شخص کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھ کر اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی زندگی کو شرعی احوال میں دیکھنے کے خواہش مندوں کو اس سے فاصلہ پید اکرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایسے بے ہودہ لوگ ہماری اجتماعی زندگی کے آئیڈئیلز کے طور پر کبھی اُبھرنے کے قابل نہ رہے۔ ہماری نئی نسل کو معلوم ہو کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اُن کے حقیقی آئیڈئیلز ٹی وی جیسے “idiot box” سے نہیں اُبھرتے اور حقیقی زندگی، مصنوعی ماحول میں صرف نہیں کرنی چاہئے. (محمد طاہر)


متعلقہ خبریں


موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

نوے کی دہائی میں فلم کی جگماتی اسکرین پر اپنی پاٹ دار آواز سے گونجنے والے افضال احمد گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ اپنے شاندار اظہار اور جاندار کردار کے باعث فلمی دنیا میں ایک نام اور مقام بنانے والے افضال احمد کی موت نے اس رنگین دنیا کے بظاہر پرشور مگر درحقیقت پرسکوت سمندر میں ذرا سی...

موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا وجود - اتوار 20 نومبر 2022

18/نومبر کی تاریخ دل میں برچھی بن کر اُتر گئی۔ اس تاریخ نے ماضی میں قدیم وجدید علوم کے شَناور علامہ شبلی نعمانی کو ہم سے جدا کردیا تھا، اب یہی تاریخ جلیل القدر عالم ِ دین صدر دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی صاحب کی زندگی کی برکتوں سے ہمیں محروم کر گئی۔ مفتی رفیع عثمانی نے تحریک ...

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی وجود - اتوار 30 اکتوبر 2022

پاکستان میں آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت بہت تیزی سے روبہ زوال ہے۔ نئے نئے ابلاغی اداروں نے اس مقدس پیشے کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندے طاقت وروں اور سیاسی جماعتوں کے نوکروں کی طرح کارگزار ہیں۔ اینکرز اور تجزیہ کار واضح تعصبات کے شکار ہیں۔ سیاسی کارکنان کی طرح صح...

صحافت اپنا قبلہ درست کرے، ورنہ آزادی تو دور غلامی بھی ڈھنگ کی نہ ملے گی

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو وجود - پیر 19 ستمبر 2022

یہ تصویر غور سے دیکھیں! یہ عمران فاروق کی بیوہ ہے، جس کا مرحوم شوہر ایک با صلاحیت فرد تھا۔ مگر اُس کی "صالحیت" کے بغیر "صلاحیت" کیا قیامتیں لاتی رہیں، یہ سمجھنا ہو تو اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ عمران فاروق ایم کیوایم کے بانی ارکان اور رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ اُس نے ایم کیوای...

دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

شہر والوں کا ہے خدا حافظ وجود - اتوار 18 ستمبر 2022

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے اہل کراچی کا برہنہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی والے اپنے دشمن خود ہیں۔ جاوید عالم اوڈھو کے گل افشانئ گفتار کا پس منظر یہ ہے کہ شہرِ کراچی میں جرائم کی شرح ہر گزرتے روز بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف ایثار کیش اہلِ کراچی، سیلاب زدگان کی مدد ...

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں! وجود - منگل 09 اگست 2022

یوم عاشور مسلم تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ اسی روز نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول کو کوفہ میں شہید کیا گیا۔ یہ تاریخ مذاہب کے تاریخی پس منظر میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یوم عاشورہ کا سراغ مختلف روایات اور تاریخی کتب میں نہایت اہم ترین واقعات کے حوالے سے ملتا ہے جن میں سے چند ایک...

یوم عاشور کی تاریخ ، کب کیا ہوا؟ اہم ترین واقعات ایک نظر میں!

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود - جمعه 10 جون 2022

رکن قومی اسمبلی ،معروف ٹی وی میزبان، مقررعامر لیاقت حسین کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں کردی گئی، نماز جنازہ ان کے صاحبزادے احمد عامر نے پڑھائی۔عامر لیاقت حسین کی نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات سمیت شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، نماز جنازہ عبداللہ شاہ غازی ...

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

عامر لیاقت کی میت کا پوسٹ مارٹم فیملی نے رکوا دیا، میت سرد خانے منتقل وجود - جمعه 10 جون 2022

پولیس نے معروف ٹی وی میزبان اور رکن قومی اسمبلی مرحوم عامر لیاقت کے گھر کو سیل کردیا۔ عامر لیاقت کی وجہ موت جاننے کے لیے پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، عامر لیاقت کے بیڈ روم سے پولیس نے شواہد اکٹھے کر لیے، اہلِ خانہ کی طرف سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کروانے سے منع کرنے کے بعد ان کی میت کو ...

عامر لیاقت کی میت کا پوسٹ مارٹم فیملی نے رکوا دیا، میت سرد خانے منتقل

عامر لیاقت نشہ کرکے تشدد کرتے ہیں، تیسری بیوی دانیہ نے بھی خلع کی درخواست دائر کردی وجود - اتوار 08 مئی 2022

رکن قومی اسمبلی، ٹی وی میزبان عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ سیدہ دانیہ شاہ نے بھی خلع کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی جس پر عدالت نے عامرلیاقت حسین کو سات جون کیلئے نوٹسز جاری کر دیے۔ ٹوئٹر پر متعدد صحافیوں اور صارفین نے سیدہ دانیہ شاہ کی جانب سے صوبہ پنجاب کے شہر بہاول پور کی عدا...

عامر لیاقت نشہ کرکے تشدد کرتے ہیں، تیسری بیوی دانیہ نے بھی خلع کی درخواست دائر کردی

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے! وجود - جمعرات 21 اپریل 2022

حضرت علامہ اقبالؒ کا آج یوم وفات (21 اپریل) ہے۔حضرت علامہ کی فکر مسلمانوں کو ہر قسم کی غلامی سے دائمی نجات دلانے کی تحریک رکھتی ہے۔ وہ مسلم تہذیب کی حفاظت کے تمام امکانات کو اپنی فکر سے بروئے کار لائے اور برصغیر کی سیاست میں انگریزوں کے سامراجی مقاصد اورہندوو¿ں کے بدترین سیاسی و...

علامہ اقبالؒ کے یوم وفات پر اُن کے پیغام آزادی اور استعمار سے نجات کا سبق یاد کیجیے!

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے! وجود - اتوار 03 اپریل 2022

رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ مبارک مہینہ جسمانی، ذہنی اور روحانی تربیت کے طور پر انتہائی اہم ہے۔ یہ اہتمام خود خالق نے اپنی مخلوق کے لیے کیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جہاں انفرادی طور پر یہ مبارک مہینہ معنی خیز ہے، وہیں یہ اجتماعی طور پر بھی مسلمانوں کی سمت کا...

رمضان المبارک جسم کے ساتھ ذہن کو بھی خالص کرنے کا موقع ہے!

عامر لیاقت سے علیحدگی، طوبیٰ نے تصدیق کردی وجود - جمعرات 10 فروری 2022

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت سے علیحدگی سے متعلق سیدہ طوبیٰ انور کا مؤقف سامنے آگیا۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں طوبیٰ انور نے لکھا کہ میں بوجھل دل کے ساتھ اپنی زندگی میں آنے والی ایک تبدیلی کے حوالے سے تمام لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہو...

عامر لیاقت سے علیحدگی، طوبیٰ نے تصدیق کردی

مضامین
چائلڈپورنوگرافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
چائلڈپورنوگرافی

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک وجود پیر 05 دسمبر 2022
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے وجود پیر 05 دسمبر 2022
عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے

عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

اشتہار

تہذیبی جنگ
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی

امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان وجود منگل 06 دسمبر 2022
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی

بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت وجود پیر 05 دسمبر 2022
بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار