... loading ...
وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاہے کہ قوانین میں ترامیم لیگل سسٹم کو بدل کر رکھ دیں گی،انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے،کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں،فورنزک کیلئے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی،ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکائونٹس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن ہوگا۔ جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ آج پاکستان کیلئے ایک غیر معمعولی دن ہے، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے لیے بھی آج کا دن انتہائی اہم ہے۔انہوں ںے کہا کہ ہمارا پینل کوڈ 1860 کا ہے، کرمنل پراسیجر کوڈ بھی 1898 کا ہے، انگلینڈ میں کرمنل ریفارمز کے لیے 15 سال لگے تھے، آپ نے پچھلے سال مارچ میں مجھے یہ ذمہ داری دی، جون میں اس کا ڈرافٹ میں نے تیار کرکے آپ کو دیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مدد سے اس میں صرف 7 مہینے لگے جوکہ وزیراعظم کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اس تمام عمل میں شاہ محمود قریشی، اعجاز شاہ، اعظم سواتی، شبلی فراز ، فرخ حبیب، زرتاج گل اور علی محمد خان نے بھی اپنی تجاوز اور ترامیم سے بڑا تعاون کیا۔وزیر قانون نے کہا کہ آج ان کرمنل ریفارمز سے ہم سول پراسیجر کورٹ، پاکستان پینل کوڈ، قانون شہادت اور ایک انڈیپینڈینٹ پروسکیوشن سروس متعارف کروارہے ہیں، فورنزیک لیبارٹری بھی بنارہے ہیں، جیل قوانین بھی اس میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میں مجموعی طور پر 7 سو کے قریب ترامیم شامل ہیں، جو لیگل سسٹم کو بالکل بدل کر رکھ دیں گی، ہماری 50 فیصد آبادی خواتین کی ہے، ان خواتین کیلئے انفورسمنٹ آف پراپرٹی رائٹس کا اصول بھی متعارف کروا چکے ہیں جس کے تحت مقدمات اور سنوائی بھی شروع ہوچکی ہیں جنہیں تین تین مہینوں میں نمٹایا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ پولیس کے لیے مختص بجٹ پولیس اسٹیشن نہیں پہنچتا تھا بلکہ اوپر والے کھا جاتے تھے، ہم نے ریفارمز کے ذریعے یہ لازمی کردیا ہے کہ بجٹ ٹرکل ڈاؤن ہوکر پولیس اسٹیشن جائے گا اور اگر ان کو نہیں پہنچے گا تو پھر اس کا آڈٹ کیا جائے گا، اور قانونی چارہ جوئی کے بعد ذمہ داران کو سزا ملے گی، اس سے پولیس کے پاس پیسے نہ ہونے کا بہانہ ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان ریفارمز کے مطابق آئندہ ایس ایچ او کے لیے بی اے کی ڈگری کے حامل افسران کو ترجیح دی جائے گی، جن پولیس اسٹیشنز پر دبائو زیادہ ہے وہاں اے ایس پی کو تعینات کیا جائے گا۔فروغ نسیم نے کہا کہ سیکشن 220 اے کا ایک بڑا مسئلہ تھا جس میں ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر ڈسٹرکٹ جج کے پاس جانے کا اختیار تھا تاہم اس کے نیتجے میں سیشن ججز کے پاس مقدمات کے ڈھیر لگ گئے۔انہوں نے بتایا کہ عدالتوں پر سے دبائو کم کرنے کیلئے ہم یہ ترمیم لائے ہیں کہ اگر ایس ایچ او ایف آئی آر درج نہیں کرتا تو عوام ایس پی کے پاس جا سکتے ہیں، اگر ایس پی بھی انکار کرے تو پھر عوام 220 اے کا سہارا لے سکتے ہیں کیونکہ ہم نے وکلا کی خواہش کے مطابق 220 اے معطل نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ فورنزک کے لیے لیبارٹریز اور بجٹ کی بھی منظوری دے دی ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی آئے گی جو انصاف کے نظام کو اوپر لے جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک انڈیپینڈنٹ پروسکیوشن سروس بھی متعارف کروا رہے ہیں جس سے نظام پر دبائو کم ہوگا، جاپان میں انڈپینڈٹ پروسکیوشن سروس موجود ہے جو کنوکشن کی تصدیق کے بعد ہی کیس کو آگے بھیجتی ہے اسی لیے وہاں کنوکشن ریٹ 99 فیصد ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ ان ریفارمز میں ہم نے کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے 9 مہینے کی حد طے کردی ہے، 9 مہینے سے تجاوز ہونے پر ٹرائل جج کو وضاحت دینی پڑے گی، اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی تو ہائی کورٹ اس کے خلاف ایکشن لے گی، اس پر تنقید کرنے والے اپوزیشن لیڈران کو کو سمجھنا چاہیے کہ اس شق پر تنقید کا مطلب یہی ہوگا کہ آپ نہیں چاہتے کے جلد فیصلے ہوں۔انہوں نے کہا کہ لوگ مجھے دنیا بھر سے کالیں کرتے ہیں، اور ان ریفارمز کے لیے میرا اور آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ریفارمز کو متعارف کروانے کے بعد اب اگلا مرحلہ اس پر عملدرامد کرنا ہے جو ایک دن میں ممکن نہیں، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل میں پاکستان کا 140 واں نمبر رول آف لا کی وجہ سے آیا، قانون پر عملدرامد وزیراعظم اور وزیرقانون نے نہیں بلکہ جوڈیشری اور وکلا نیکرنا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس پر عمدرامد کی ذمہ داری پولیس، انویسٹیگیٹرز اور عوام کی بھی ہے، انہوں بھی اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتا ہونا چاہیے،وزیر قانون نے کہا کہ ہمارے سول ریفارمز کی پزیرائی کرنے پر میں جسٹس اطہرمن اللہ کی بھی تعریف کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری، پروویشنل جوڈیشری اور ہائی کورٹ سمیت سب سے میری استدعا ہے کہ سول ریفارمز پر عملدرامد یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ان ریفارمز کے تحت عدالت کے ذریعے مفرور ملزمان کے بینک اکاونٹز، شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر چیزیں فریز کرنا ممکن ہوگا، پاکستان کرمنل لا کے مطابق ایسے جرم کی سزا بھی دی جاسکتی ہے جو پاکستان سے باہر ہوا ہو، اس لیے اگر کوئی مفرور ملزم پاکستان سے لندن یا سعودی عرب بھاگا ہوا ہو تو اس کے بینک اکاونٹ بھی فریز کیے جاسکیں گے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...