وجود

... loading ...

وجود

آفاق احمد کا الگ صوبے کے لیے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان

پیر 27 دسمبر 2021 آفاق احمد کا الگ صوبے کے لیے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان

مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد نے کہاہے کہ الگ صوبے کی جدوجہد تیز کرنے کرنے کا اعلان کرتا ہوں ،یکم مارچ سے صوبے کے حصول کے لیے دستخطی مہم شروع کی جائے گی۔23 مارچ کوعالمی مبصرین کی موجودگی میں صوبے کے قیام کے لیے ریفرنڈم ہوگا۔خالد مقبول، عامر خان، فاروق ستار، انیس قائم خانی سمیت ہر مہاجر لیڈر سے درخواست کرتا ہوں ہوسکتا ہے میں نے کوئی غلط بات کہی ہو میں سب سے قوم کے خاطر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ مہاجر قوم کے پرچم کے لیے متحد ہوجائیں۔ ہم بانیاں پاکستان کی اولادیں ہیں ۔ہمیں کسی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ہم نے ملک بنایا ہے صوبہ بھی حاصل کرلیں گے۔صوبے کے بغیر اس مہاجر قوم کے مسائل حل نہیں ہونگے۔پوری قوم کو متحد ہونا پڑیگا ۔بنگلہ دیش میں موجود محصورین کو فوری واپس لایا جائے۔نیا بلدیاتی ایکٹ کالا قانون ہے ۔اس کو واپس لیا جائے ۔بااختیار بلدیاتی نظام بنایا جائے۔کوٹہ سٹم ختم کیا جائے۔نئی مردم شماری عالمی مبصرین کی نگرانی میں کرائی جائے۔کراچی والوں پر بجلی کی اضافی بلنگ بند کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو باغ جناح میں مہاجر قومی موومنٹ کے تحت جلسہ عام سے خطاب میں کیا۔آفاق احمد کے جلسہ گاہ پہنچنے پر شرکا نے کھڑے ہوکر اور نعرے لگاگر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔جلسہ گاہ میں مہاجر پرچم لگائے گئے۔بڑی الیکٹرانک اسکرینز نصب تھیں۔اس موقع ہر شاندار آتش بازی کی گئی۔آفاق احمد نے کہا کہ آج کامیاب جلسے پر کارکنوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔حکومت کی کراچی سے ناانصافی پر لوگ یہاں جمع ہیں۔اس قوم آج بھی منظم اور متحد آفاق احمد نے کہا کہ اس ملک کے لیے میرے بزرگوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔تاریخ میں بزرگوں سے کہانیاں سنی ہیں ۔بے پناہ قربانیوں کے بعد یہ پاکستان وجود میں آیا۔ہم نے اس سندھ میں لوگوں کی مہمان نوازی کی ۔ہم کبھی کسی کے شہر یا صوبے میں نہیں آئے ۔یہ پاکستان ہم نے بنایا تھا ہم اپنے پاکستان میں آئے ہیں۔آج اس ملک میں مہاجر ہونے کے ناطے جو ظلم و زیادتی ہوتی ہے اس پر بات کرونگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بچانے والوں کی اولاد کی اولادوں کو تنہا کردیا۔مشرقی پاکستان میں ہمارے بزرگوں نے ملک بچانے کے لیے فوج کا ساتھ دیا۔ہمیں حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ہم سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ مانگنے والوں جا جاکر دیکھو ریڈ کراس کے کیمپ پر کون لوگ ہیں محصورین مشرقی پاکستان ملک پر بوجھ نہیں بنیں گے۔حکومت محصورین مشرقی پاکستان کو پاسپورٹ جاری کرے۔ان کے لانے کے اخراجات ہم برداشت کرلیں گے۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک والے گلیوں آکر ایکسٹرا بلنگ کی تصویریں بناتے ہیں۔اس شہر میں لوگوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں۔کچی آبادیوں میں کنڈے ڈالے جاتے ہیں ۔کوئی درست کروانے جائے تو درست نہیں کیا جاتاجو بدمعاشی سے کنڈے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں انکے کنڈے کے الیکٹرک کی گاڑیاں جاکر ٹھیک کرتی ہیں۔گلیوں پر پہرے داری لگاو تاکہ کوئی ایکسٹرا بلنگ کی تصویریں بنانے نہ آسکے۔کے الیکٹرک کی بدمعاشی کراچی میں بند ہونی چاہیے۔عوام ان کا گھیراﺅ کریں۔ظلم کو روکنے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔آفاق احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مہاجروں سے زیادہ گلگت، چترال اور سندھ کے لوگ ملیں گے۔کوٹہ سسٹم کے زریعے میرے قوم کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی۔کوٹہ سسٹم نے مہاجروں کو نوکریوں سے بھی محروم کردیا ۔میرا مطالبہ ہے کوٹہ سسٹم فوری طور پر ختم کیا جائے ۔لوکل گورنمنٹ کالا قانون ہے اسکا بہت شور ہے۔ بلدیاتی قانون کا جو بل پاس ہوا ہے ۔اسے پھاڑ کر پھینک دیا جائے۔سندھ کے شہری وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے بل پاس کیا گیا۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کے ڈی اے، کراچی بلڈنگ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ایم سی کے ماتحت ہونے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی بل جو پاس کیا گیا وہ واقعی کالا قانون ہے شہری علاقوں میں کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے جہاں سویلین رہائش پزیر ہیں وہ بھی لوکل گورنمنٹ کے ماتحت ہونے چاہیں۔ بلدیاتی نظام کا بل دوبارہ پیش کیا جائے شہر میں چھ فیصد لوگ باہر سے آتے ہیں روزگار کے لئے اسکے باوجود آبادی کم ہورہی ہے بڑھ نہیں رہی سندھ کی پوری آبادی کا نصف حصہ کراچی کی آبادی ہے۔مردم شماری عالمی مبصرین کے زیر نگرانی دوبارہ کرواے جائیں ایک گریڈ سے 14 گریڈ کے لئے پولیس میں دادو اور لاڑکانہ سے بھرتی کیے گئے لوگوں کو واپس بھیجا جائے۔اس شہر کے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے ۔یونیورسٹی اور کالجز ہمیں واپس چاہیں۔آفاق احمد نے کہا کہ ہم بلدیہ ٹاون اور دیگر والوں کو بھی لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔ہمیں مہاجر سندھی، پنجابی، بلوچ اور پٹھان نے بنایا ہے ۔میں نے اپنے طور پر فیصلے نہیں کئے تھے۔مراد علی شاہ نے اسمبلی کے فلور پر جو بات کہی اسکا کیا مطلب نکلتا ہے ؟۔وزیر اعلی نے کہا اقلیت میں ہونے والے فیصلے نہیں کرسکتے۔یہ تمہارے مطالبات صرف مطالبات ہیں ۔اب ہمیں اس نظام سے آزادی چاہیے ہمیں بھی اپنا صوبہ چاہیے۔ہماری جدوجہد کا مقصد جنوبی سندھ صوبہ ہے۔آفاق احمد نے کہا ک اپنی قوم کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔وزیر اعلی سندھ نے اسمبلی کے فلور پر جو کہا کیا وہ بغاوت نہیں تھی۔اب ہم الگ صوبے کی جدوجہد تیز کرنے کرنے کا اعلان کرتا ہوں جنوبی سندھ صوبے کی تحریک کے لئے سندھ بھر کے دورے کروں گا۔میں قوم کو دو مہینے دیتا ہوں وہ سوچلے ہم نے ملک طاقت کے زور پر حاصل کیا۔صوبہ بھی حاصل ہونگے ۔یکم مارچ سے صوبے کے حصول کے لیے دستخطی مہم شروع کی جائے گی۔23 مارچ کوعالمی مبصرین کی موجودگی میں ریفرنڈم ہوگا۔آفاق احمد نے کہا کہ صوبے کے بغیر اس مہاجر قوم کے مسائل حل نہیں ہونگے۔پوری قوم کو متحد ہونا پڑیگا ۔ خالد مقبول، عامر خان، فاروق ستار، انیس قائم خانی سمیت ہر مہاجر لیڈر سے درخواست کرتا ہوں ہوسکتا ہے میں نے کوئی غلط بات کہی ہو میں سب سے قوم کے خاطر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ مہاجر قوم کے پرچم کے لیے متحد ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر غفور کے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا لیکن ہم نے انہیں بھی طعنے دئیے خدا انکی مغفرت فرمائے۔سب اس پرچم تلے جمع ہوجاﺅمیں نے سب سے معافی مانگ لی ہے۔اس قوم کے خاطر تمام مہاجر کارکنان اپنی پارٹی میں جمع ہوجاﺅ، ایک پلیٹ فارم پر آجاﺅ۔آفاق احمد نے کہا کہ خدا آپ سب کا محافظ ہوآج کا جلسہ شہدا کے نام ہے۔جلسہ سے ڈاکٹر نگہت فاطمہ۔تنویر قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر