... loading ...
پاکستانی نمبر سے موصول ہونے والے ایک ٹیکسٹ میسج اور فون کال سے سابق مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب، سابق صدر اشرف غنی کے ساتھ اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔امریکی میگزین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان جنگجوئوں کے کابل پر قبضے والے روز، 15 اگست کو تقریبا ایک بجے ایک پیغام آیا کہ طالبان کے حقانی گروپ کے سربراہ خلیل حقانی حمداللہ محب سے بات کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے خلیل حقانی کی کال اٹھالی، کال پر انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔رپورٹ کے مطابق خلیل حقانی نے کہا کہ اگر حمداللہ محب ایک مناسب بیان دے دیتے ہیں تو وہ ملاقات کرسکتے ہیں لیکن جب سابق مشیر قومی سلامتی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے مذاکرات کا کہا تو خلیل حقانی نے اپنی بات دہرا کر کال کاٹ دی۔اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیل حقانی نے زلمے خلیل زاد کے نائب ٹام ویسٹ کو دوحہ میں کال کی اور انہیں خلیل حقانی کی کال سے آگاہ کیا جس پر ٹام ویسٹ نے انہیں ملاقات کے لیے نہ جانے کا مشور دیا کیوں کہ یہ ایک جال ہوسکتا تھا۔اس سے قبل اسی روز حمد اللہ محب نے صدر اشرف غنی اور یو اے ای کے ایک سفارتکار کے ساتھ صدارتی محل کے عقب میں ایک لان میں ممکنہ انخلا کے منصوبے پر بات چیت کی تھی۔جس وقت وہ بات کررہے تھے انہیں محل کے باہر سے گولیوں کی آواز سنائی دی جس پر اشرف غنی کے باڈی گارڈز انہیں فوری طور پر اندر لے گئے۔دوپہر میں حمد اللہ محب نے اشرف غنی سے لائبریری میں ملاقات کی اور اتفاق کیا کہ صدر کی اہلیہ رولا غنی اور غیر ضروری عملے کو جتنی جلد ممکن ہو یو اے ای کے لیے روانہ ہوجانا چاہیے۔حمد اللہ محب کے یو اے ای میں واقف کاروں نے کابل سے متحدہ عرب امارات کے لیے سہ پہر 4 بجے روانہ ہونے والی امارات ایئرلائن کی پرواز میں نشستوں کی پیشکش کی۔رپورٹ کے مطابق اشرف غنی نے حمداللہ محب سے کہا کہ وہ رولا غنی کے ہمراہ دبئی جائیں اور اس کے بعد دوحہ جا کر مذاکراتی ٹیم سے ملیں تا کہ کابل کا قبضہ دینے کے سلسلے میں زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنما ملا برادر کے درمیان ہونے والی بات چیت کو حتمی شکل دی جاسکے۔جس کے بعد تقریبا 2 بجے حمد اللہ محب سابق صدر کی اہلیہ کو دل کشا محل کے عقب میں واقع ہیلی پیڈ پر لے گئے تا کہ امارات ایئر لائن کی پرواز میں سوار ہونے کے لیے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا جاسکے۔اس وقت تک صدر کے 3 ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر صدارتی محل ارگ میں تھے اور چوتھا ایئرپورٹ پر موجود تھا۔وہاں جا کر حمد اللہ محب کو معلوم ہوا کہ پائلٹوں نے ہیلی کاپٹر میں پورا ایندھن بھروا رکھا ہے کیوں کہ وہ جتنی جلد ممکن ہو براہِ راست تاجکستان یا ازبکستان پرواز کرنا چاہتے تھے، پناہ کی تلاش میں افغان فوج کے دیگر پائلٹس بھی فرار ہونے کے لیے یہ راستہ استعمال کرچکے تھے۔نیویارکر کی رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے رولا غنی کے ساتھ ایئرپورٹ جانے سے انکار کردیا کیوں کہ انہوں نے سنا تھا کہ کچھ افغان فوجی وہاں ہیلی کاپٹرکو قبضے میں لے رہے ہیں یا گرانڈ کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جب وہ لوگ یہ بات کررہے تھے صدارتی گارڈز کے سربراہ قہر کوچے نے حمداللہ محب سے کہا کہ اگر آپ چلے گئے تو آپ صدر کی زندگی خطرے میں ڈال دیں گے۔جس پر حمداللہ محب نے ان سے جوابا پوچھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں میں رک جاں؟ اس کے جواب میں قہر کوچے نے کہا کہ نہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ صدر کو اپنے ساتھ لے کر جائیں۔میگزین کی رپورٹ کے مطابق حمد اللہ محب کو شک تھا کہ اگر طالبان صدارتی محل میں داخل ہوگئے تو شاید اشرف غنی کے تمام باڈی گارڈ وفادار نہ رہیں جبکہ قہر کوچے نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ ان کے پاس صدر کے تحفظ کے لیے وسائل نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حمد اللہ محب نے رولا غنی کو صدارتی ہیلی کاپٹر میں سوار کر کے انتظار کرنے کا کہا اور خود قہر کوچے کے ساتھ رہائش گاہ پر واپس آئے جہاں اشرف غنی کو کھڑے پایا تو کہا کہ صدر یہی وقت ہے، ہمیں جانا ہوگا۔اشرف غنی کچھ سامان اکٹھا کرنے کے لیے اوپر جانا چاہتے تھے لیکن حمد اللہ محب کو اس بات کی فکر تھی کہ ہر منٹ کی تاخیر کے ساتھ مسلح محافظوں کی جانب سے افراتفری اور بغاوت کا خطرہ بڑھتا رہے گا جس پر اشرف غنی اپنے پاسپورٹ تک کے بغیر ہی کار میں بیٹھ گئے۔رپورٹ کے مطابق جب عملے اور ذاتی محافظین نے صدر کو جاتے دیکھا تو وہ بھی پرواز کے لیے لڑنے اور شور مچانے لگے، جس پر پائلٹس نے کہا کہ ایک ہیلی کاپٹر میں صرف 6 مسافر سوار ہوسکتے ہیں۔اشرف غنی، رولا غنی اور حمداللہ محب کے ساتھ 9 عہدیدار سوار ہوئے اور اشرف غنی کی سیکیورٹی کے اراکین نے بھی ایسا ہی کیا اور ازبکستان پرواز کر گئے۔اس روز امریکی مندوب زلمے خلیل زاد صبح دوحہ میں ملا برادر کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے منصوبے پر بات کررہے تھے اور ملا برادر نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے اور دارالحکومت میں داخل ہونے والے چند سو طالبان جنگجووں کو واپس بلا لیں گے۔جس کے بعد امریکی مندوب نے واٹس ایپ پر صدارتی معاون عبدالسلام رحیمی سے رابطہ کیا اور انہیں اس منصوبے سے آگاہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عبدالسلام رحیمی نے اشرف غنی کو بتایا کہ طالبان نے کابل میں داخل نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے، حالانکہ یہ زلمے خلیل زاد اور طالبان کی یقین دہانی پر تھا لیکن اشرف غنی نے دونوں کو ناقابل اعتماد ذرائع کے طور پر دیکھا۔جب اشرف غنی ازبکستان پرواز کر گئے تو عبدالسلام رحیمی اور ارگ محل کے عملے کے درجنوں ارکان پیچھے رہ گئے، جنہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اشرف غنی اور حمد اللہ محب کہاں گئے جبکہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے لیے بات چیت اس وقت بھی جاری تھی۔
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...
یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...
فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...
عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...