وجود

... loading ...

وجود

وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد 33ارکان کی حمایت سے منظور

جمعرات 21 اکتوبر 2021 وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد 33ارکان کی حمایت سے منظور

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد 33ارکان کی حمایت سے منظور کرلی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 25اکتوبر کو صبح گیار بجے ہوگی ۔ بدھ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ قواعد کے مطابق تحریک عدم اعتماد بیس فیصد ارکان کی حمایت سے پیش کی جاسکتی ہے البتہ کیا اسپیکر یہ بتائیں گے کہ یہ بیس فیصد ارکان وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرار داد پر دستخط کیے تھے یا پورے ایوان سے بیس فیصد اراکین اس کی اجازت دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا قرار داد کے محرکین کی عدم موجودگی میں اسے پیش کیا جاسکتا ہے ؟ جس پر اسپیکر نے جواب دیا کہ آپ پہلی بار اسمبلی میں نہیں آئے ۔ سینئر رکن ہیں آپ کو سب پتہ ہے ۔ جب 14ارکان نے دستخط کیے ہیں تو ان میں سے ایک بھی موجود ہو تو قرار داد پیش ہوسکتی ہے اور ایک شخص بھی اسے پڑھنے کے لیے کافی ہے قرار داد کو پیش کرنے کی اجازت کے لیے صرف 13ارکان کی ضرورت ہے بعدازاں ایوان سے تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنے کی اجازت لی گئی جس پر اسمبلی کے33ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر تحریک پیش کرنے کی اجازت دی اس موقع پر ارکان نے ڈیسک بجائے جس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا گزشتہ تین سال کے دوران جام کمال خان وزیراعلیٰ بلوچستان کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شددی مایوسی ، بدامنی ، بے روزگاری اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے وزیراعلیٰ جام کمال نے اقتدار پر براجمان ہو کر خود کو عقل کل سمجھ کر صوبے کے تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طو رپر چلارہے ہیں جس سے صوبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاگیا ہے ۔ جبکہ ا س بارے میں انہیں اراکین وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتے رہے لیکن انہوں نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی ۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی اور بنیادی حقوق کے مسائل پر انتہائی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے ۔ جس سے صوبہ میں بجلی ، گیس ، پانی ، اور شدید معاشی بحران پیدا ہوا ۔ نیز اس وقت صوبہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں بیورو کریٹس ، ڈاکٹرز ، طلباء اور زمیندار حکومت کی بیڈ گورننس کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جام کمال خان وزیراعلیٰ بلوچستان کی خراب کارکردگی کو مد نظر رکھ کر انہیں وزیراعلیٰ/قائد ایوان کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ پر ایوان کی اکثریت کے حامل رکن اسمبلی کو وزیراعلیٰ/قائد ایوان منتخب کیا جائے ۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ یہ 65ارکان کا مقدس ایوان ہے ۔ یہاں اصولی فیصلہ ہوچکا ہے جام کمال خان ہمارے لئے قابل احترام شخصیت ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کے نام کے ساتھ ریموڈ لکھا جائے انہوں نے کہا کہ ہمارے پانچ اراکین مسنگ پرسنز میں آگئے ہیں یہ روایت اچھی نہیں ہے ۔ ایوان کا تقدس پامال ہورہا ہے اگر وہ بازیاب نہ ہوئے تو ہم احتجاج کریں گے ہمیں اس حد تک نہیں جانا چاہئے کسی بھی رکن کو لاپتہ کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی۔ ہماری گزارش ہے کہ مسنگ اراکین کو ریلیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے اس ایوان کا اعتماد اٹھ گیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ انہیں مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ا قتدار سے چمٹے رہنا مناسب نہیں ہے ۔ اگر وزیراعلیٰ مزید ارکان کو مسنگ کرکے بچ بھی جائیں تو یہ ایوان اب نہیں چل پائے گا۔ قرار داد پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈ رملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پانچ ارکان اسمبلی کو لاپتہ کرنے پر ہم شدید احتجاج کرتے ہیں ارکان کو گرفتار یا لاپتہ کرکے ایوان کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تقدس کو بحال کریں اور پانچوں ارکان کو فوری طو رپر ایوان میں واپس لایا جائے انہوں نے کہا کہ جب چیف ایگزیکٹیو وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کرے تو اسے عوام کا اعتماد حاصل نہیں ہوتا جب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہوگی تو معاملات نہیں چل پاتے چیف ایگزیکٹیو پر لازم ہے کہ وہ سرکاری خزانے کی حفاظت کرے اور اسے بہترین انداز میں خرچ کرے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو مسائل بڑھیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صوبے میں لوٹ کھسوٹ ، غبن ، بدعنوانی ، بے ایمانی کا خاتمہ ہو اور ان تمام کاموں میں ملوث افراد کو سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا کام نہ کرے لیکن وزیراعلیٰ اس میں ناکام رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ان کا حق دلائیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے وہ بیورو کریسی کو پابند کریں کہ وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کریں لیکن بلوچستان میں اس کے برعکس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون پر عملدرآمد کرنے کا پابند بنانے کی ذمہ داری بھی صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی ہوتی ہے۔ بعدازاں سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر بحث مکمل ہونے کے بعد تمام ارکان کو ووٹنگ کے طریقہ کار کے حوالے سے مطلع کردیاگیا ہے بلوچستان اسمبلی کے قواعدوانضباط کار مجریہ1974ء کے آرٹیکل 19بی (5)کے تحت تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری25اکتوبر بروز سوموار صبح گیارہ بجے ہوگی ۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر