وجود

... loading ...

وجود

آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے،مریم نواز

اتوار 17 اکتوبر 2021 آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے،مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب قانون بدلنے اور چیئرمین کو ایکسٹینشن دینے سے تم اپنے آپ کو احتساب سے نہیںبچا سکتے ،کہتے ہیں تحفوں کی تفصیل نہیں بتا سکتا، غیر ملکی سربراہان ناراض ہوجائیں گے،قوم کو کیا سننے کو ملا، پنڈورا میں عمران خان کا نام نہیں ،کبھی سنا ہے جو چوروں کا سردار ہے وہ ایماندار ہے،عمران خان کہا کرتا تھا جب آٹا مہنگا ہوجائے تو سمجھو وزیراعظم چور ہے، آج روٹی پچیس روپے کی ہوگئی تو چور کون ہے؟رات کے بارہ بج جائیں گے، عمران خان کی کرپشن کی داستانیں ختم نہیں ہوں گی،عمران خان کا مودی فون نہیں اٹھاتا ، بائیڈن فون نہیں کرتا،جب کوئی معاملہ اللہ پر چھوڑے تو تمام طاقت اور ایک پیج کے باوجود رسوائی مقدر بنتی ہے،نوازشریف کے مخالفین کو اللہ نے عبرت کا نشان بنایا،عمران خان نے فوج کے ادارے پر خود کش حملہ کر دیا ہے ، اعلیٰ تقرریاں جن بھوت کر رہے ہیں،ایک شخص کو عہدے پر رکھنے کی خاطر پاکستان کی افواج کو پوری دنیا میں تماشا بنا کر رکھ دیا۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہونے کہاکہ نواز شریف پر ظلم ہورہا تھا اور ان سے انتقام لیا رہا تھا تو انہوں نے کہا تھا میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں۔مریم نواز نے کہاکہ جب نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا، جب انسان اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہے تو دنیا کی تمام طاقت ہونے کے باوجود، ایک پیج پر ہونے کے باوجود تاریخی ناکامی، ذلت اور رسوائی ظالم مقدر بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کیا نواز شریف کے مخالفین کو اللہ نے عبرت کا نشان بنایا، جس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اس کو اللہ نے سرخرو کیا اور ظالم کو اللہ نے نامراد کردیا۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ عمران خان کہا کرتا تھا جب آٹا اور چینی مہنگی ہوجائے تو سمجھ لو وزیراعظم چور ہے، جب بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتو سمجھ جاؤ وزیراعظم چور ہے۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف کے دور میں چینی 50 روپے کلو تھی آج تین سال بعد چینی 120 سے بھی مہنگی ہوئی تو چور کون ہوا، نواز شریف کے دور میں روٹی 5 روپے کی تھی اور اب 25 روپے کی ہوگئی تو چور کون ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں بجلی 11 روپے فی یونٹ ہوا کرتی تھی آج جب بجلی 24 سے 26 روپے یونٹ ہے تو چور کون ہے، نواز شریف کے دور میں پیٹرول 70 روپے لیٹر تھا آج 138 روپے لیٹر ہے تو چور کون ہے۔مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں گھی، کوکنگ آئل 140 روپے اور آج 340 روپے تو چور کون ہے، آج پیٹرول، ڈیزل اور کوکنگ آئل مہنگا ہوگیا اور تاریخی سطح پر قیمتیں پہنچ گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے ایک وعدہ پوا کیا کہ میں ان کو رلاؤں گا اور اس نے پوری قوم کو رلا دیا، آج گھروں میں بیٹھے خواتین بزرگ اور کمانے والے مرد سب جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف نے فون کرکے مجھے بتایا کہ میری طرف سے بھی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرنا اور فیصل آبا، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے عوام سے کہنا ہے جب تم پر ظلم ہوتا ہے تو نواز شریف کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔انہونے کہاکہ مہنگائی کرکے ان کو تسلی نہیں ہوئے اور انتے بے حس لوگ ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل میں اضافہ ایسے کرتے ہیں کہ جیسے عوام کو دو نفل شکرانے کے پڑھنے چاہیے کہ عمران خان نے عوام کے 7 نسلوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ صرف 12 روپے بڑھائے ہیں، اتنے بے حس ہیں کہ ان کے وزرا عوام کے نوالے گنتے ہیں۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ان کے وزرا عوام کو درس دیتے ہیں کہ دو روٹیوں کے بجائے ایک روٹی کھالو اور صبر کرلو، اگر چند لائنوں میں عمران خان کی ساڑھے تین سال کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خان کہتا ہے کہ میں اگر آٹا، سبزی مہنگی کردوں تو آپ نے کھانا کھانا نہیں، اگر اسکول کی فیسوں بڑھا دوں تو بچوں کو پڑھانا نہیں، اگر دوائی کی قیمت میں 500 گنا اضافہ کروں تو علاج نہیں کروانا۔وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے وزرا سے کہتے ہیں کہ ڈٹ کر جھوٹ بولو اور شرمانا نہیں، تاریخ کے بدترین کرپشن اسکینڈلز پر چپ کسی کو بتانا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے پورا ملک کورونا کی لپیٹ میں تھا اور ہے اور اب ان کی نالائقی، نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے دنیا ڈینگی سے عوام مر رہے ہیں لیکن ان کو پرواہ نہیں ہے، نواز شریف کے بغیر عوام رل گئے ہیں اور شہباز شریف کو آج عوام بلا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج جب کورونا سے بچانے والا انجکشن بلیک میں 7،7 لاکھ روپے کا بکتا ہے تو لوگ نواز شریف اور شہباز شریف کو آوازیں دیتے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کس نے کیا تھا اور اوپر سے عوام کو بھاشن دیتا ہے گھبرانا نہیں، سکون صرف قبر میں ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کایہ حال ہے کہ گرمی آتی ہے تو بجلی غائب اور سردیاں آتی ہیں گیس غائب، عمران خان کہتا تھا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) چور ہے تو وقت نے ثابت کیا کہ نوازشریف اور شہباز سے بڑا دیانت دار پاکستان کی تاریخ میں کوئی نہیں آیا۔مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف کے احتساب سے پہلے اقامہ نکلا، پھر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی گواہی نکلی اور پھر مرحوم جج ارشد ملک نکلا اور برطانیہ کی عدالت نے کہہ دیا کہ شہباز شریف پر منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوئی تو پھر میں نیکہا مبارک ہو اللہ نے آپ کو انٹرنیشنل صادق اور امین بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کا تاریخ کا سب سے بڑا 122 ارب کا ایل این جی کا ڈھاکا، آج جس وجہ سے مہنگی بجلی مل رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس کی وجہ عمران خان اور اس کی اے ٹی ایمز نے جان بوجھ کر دیر سے ایل این جی منگائی اور مہنگے داموں خریدی، عوام کی محنت کی کمائی، عمران خان کے دوستوں کے جیبوں میں گئی جس کی وجہ سے آج مہنگی بجلی ملتی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ تاریخ کا سب سے بڑا آٹے کا اسکینڈل اور تاریخ کا سب سے بڑا چینی کا اسکینڈل، پشاور ریپڈ بس اسکینڈل، کرپشن کی داستانیں ختم نہیں ہوں گی۔وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین پر نیب استعمال کیا اور انتقام لیا اور جب اپنا حساب کتاب دینے کی باری آئی تو نیب کا قانون ہی بدل دیا، چاہے نیب کا قانون بدل دو، ان کے چیئرمین کو توسیع دو لیکن خود کو اور اپنے وزرا کو احتساب سے نہیں بچا سکتے ہو۔مریم نواز نے کہاکہ نواز شریف، شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) اور تمام قیادت نے اپنی تین تین نسلوں کا حساب دیا ہے، اور جب تمھاری باری آئی تو یہ کہا کہ مجھے جو غیرملکیوں سے تحفے ملے ہیں اس کی تفصیل نہیں بتاسکتا کیونکہ وہ غیر ملکی سربراہ ناراض ہوجاتے ہیں تو جب ان سے تحفے لے کر اپنے جیب میں ڈالتے تھے تو اس وقت کسی کا خیال نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ پینڈورا پیپرز میں تحریک انصاف اور عمران خان کے وزرا اور ان کی پارٹی اول نمبر پر آئی ہے اور قوم کو سننے کو ملا ہے اس میں عمران خان کا نام نہیں ہے، تو کیا کبھی سنا ہے کہ چوروں کا جو سردار ہے وہ ایمان دار ہے، ہر گز نہیں تو پھر کہاں ہے وہ جے آئی ٹی اور کہاں وہ جسٹس جس نے عمران خان کو کہا تھا کہ میرے پاس آؤ میں فیصلہ کرتا ہوں، پھر فیصلہ ہوا اور نواز شریف کو وزیراعظم کی کرسی سے نکال دیا۔مریم نواز نے کہاکہ پینڈورا پیپرز پر ٹی وی میں وہ ہیجان کہاں ہے، وہ 4 ہزار ٹاک شوز کہاں ہیں جو پاناما پیپر پر میڈیا سے کروائے گئے تھے، قوم انتظار کر رہی ہے۔مریم نواز نے کہا کہ مکافات عمل دیکھو کہ کہتا تھا کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھا تو غیر ملکیوں کے سامنے چٹ سے پڑھتا ہے لیکن یہ تو خود چٹ سے بھی غلط پڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں خارجہ پالیسی ایسی تھی کہ غیرملکی سرمایہ کاری آرہی تھی اور غیرملکی سربراہاں خود چل کر آتے تھے لیکن عمران خان کی خارجہ پالیسی ایسی ہے کہ مودی فون نہیں تھا اور جوبائیڈن فون نہیں کرتا۔مریم نواز نے کہاکہ امریکی ٹی وی پر بیٹھ کر لوگ کہتے ہیں عمران خان کا اختیار اسلام آباد کے میئر سے زیادہ نہیں ہے، غیرملکیوں کو انٹرویو میں سوال کرتے ہیں جوبائیڈن فون نہیں کرتا تو منہ نیچے کرتا ہے، اس طرح پاکستان کی بے عزتی کروا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہتا تھا نواز شریف اداروں سے لڑتا ہے، نواز شریف نے اداروں کو پنجاب پولیس بنادیا ہے لیکن نواز شریف نے جب بھی اسٹینڈ لیا تو عوام کیلئے لیا، جب بھی ٹکراؤ ہوا تو پاکستان کے عوام کی خاطر، ووٹ کی عزت کی خاطر ہوا، وزیراعظم دفتر کی عزت، سویلین بالادستی کی خاطر تھا۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف نے صرف اسٹینڈ نہیں لیا بلکہ اس اسٹینڈ کی اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے، اس کی پاداش میں نواز شریف نے اپنی تین حکومتیں گنوائیں، جیل برداشت کی، بیٹی اور پوری جماعت کو جیل جاتا دیکھا، جھوٹے مقدمے، جھوٹے فیصلے برداشت کیے اور انتقام کا سامنا کیا۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کی باری آئی تو فوج کے ادارے پر حملہ نہیں کیا بلکہ خود کش حملہ کیا، اپنی باری آئی تو اس ایک شخص کو کرسی پر رکھنے کے لیے، جو شخص اس کی کرسی بچاتا ہے اس کو بچانے کیلئے حملہ کیا، وہ شخص جو آپ کی حکومت چلاتا ہے اور تمہارے مخالفین کو پکڑتا ہے اور مارتا ہے، جو ججوں پر دباؤ ڈالتا ہے، عدلیہ کا چہرہ داغ دار کرتا ہے، وہ شخص جو ججوں کو بلیک میل کرتا ہے، جو صحافیوں کو اغوا کرتا اور صحافیوں کی زبانیں بند کرتا ہے اور ان کو نوکریوں سے نکلواتا ہے، وہ شخص جو تمھارے لیے چینلز بند کراتا ہے، وہ شخص جو تمھارے لیے ڈبے بھی اٹھواتا ہے اور الیکشن چوری بھی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ایک شخص کو عہدے پر رکھنے کی خاطر پاکستان کی افواج کو پوری دنیا میں تماشا بنا کر رکھ دیا، اس ایک شخص کی وجہ سے فوج میں ہونے والی تمام تقرریاں ہوا میں لٹک گئیں، ان افسران کا کیا قصور تھا ان کا تقرر بھی ان کے ساتھ ہوا تھا، ان کا بھی تماشا پوری دنیا میں بنا کر رکھ دیا گیا۔مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا یہ وجہ تھی کہ تم اپنی گرتی ہوئی حکومت بچانا چاہتے تھے یا تمہارا حساب کتاب ٹھیک نہیں چل رہا ہے، تقرریاں جن بھوت کر رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر