وجود

... loading ...

وجود
وجود

سابق صدر ممنون حسین علالت کے باعث کراچی میں انتقال کرگئے

جمعرات 15 جولائی 2021 سابق صدر ممنون حسین علالت کے باعث کراچی میں انتقال کرگئے

سابق صدر پاکستان ممنون حسین طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے ،ممنون حسین گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے ،ممنون حسین پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک تھے ، وہ 2013 سے 2018 تک صدر مملکت رہے ، صدر وزیراعظم گورنر سندھ عمران اسمعیٰل وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق صدر پاکستان ممنون حسین کے انتقال پر ایک تعزیتی پیغام میں مرحوم کی مغفرت کی دعا کی ہے اور کہاہے کہ اللہ تبارک و تعالی مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ تفصیلات کے مطابقسابق صدر پاکستان ممنون حسین طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے ۔سابق صدر کے بیٹے ارسلان ممون حسین کے مطابق ممنون حسین گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔ سابق صدر ممنون حسین مسلم لیگ ن سندھ کے صدر اور دیگر عہدوں پر فائز رہے ممنون حسین سال 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے ۔ ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ صدر منتخب ہونے پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا تھا۔ انتخابات میں ان کے مدمقابل پاکستان تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین تھے ،ممنون حسین نے 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے ۔سابق صدر ممنون 23 دسمبر 1940 کو بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ وہ پاکستان کے 12 ویں صدر تھے ، جبکہ وہ گورنر سندھ کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ممنون حسین غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تاجر تھے ۔وہ نوے کی دہائی کے آخر میں پہلی بار پاکستانی سیاست کے افق پر نظر آئے اور 1997 میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر بنائے جانے والے ممنون حسین 1999 میں نواز حکومت کے آخری ایام میں چند ماہ کیلئے گورنر سندھ بھی رہے ۔نواز شریف کی اسیری اور پھر جلاوطنی کے دوران وہ منظرِ عام پر تو نہیں تھے تاہم نواز شریف سے ان کا رابطہ ٹوٹا نہیں اور پھر ان کی وطن واپسی کے بعد ممنون حسین ایک بار پھر سندھ میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم ہوگئے تھے ۔سابق صدر نے اگست 2018 میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی حلف لیا۔سابق صدر مسلم لیگ نواز کے دیرینہ کارکن اور نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ۔ مسلم لیگ نواز کی کراچی میں کمزور پوزیشن کے باوجود وہ ہر دور میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے ۔ اب سے کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ ن کے کراچی ہی سے ایک اور سینئر رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی مشاہد اللہ خان بھی انتقال کر گئے تھے ۔ممنون حسین کی وفات پر زندگی کے ہر شعبہ سے شخصیات دکھ کا اظہار کر رہی ہیں۔ممنون حسین پاکستان کے بارہویں صدر رہے ۔ ممنون حسین نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدارتی منصب کے انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر تھے ۔ ممنون حسین کی مادری زبان اردو تھی۔ وہ کراچی میں قائم ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے مالک تھے ۔ممنون حسین 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے پاکستان آگیا۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویٹ کیا۔1993 میں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی تو ان دنوں ہی ممنون حسین شریف برادران کے قریب پہنچے اور بعد میں وہ مسلم لیگ سندھ کے قائم مقام صدر سمیت دیگر عہدوں پر فائز رہے ۔ ممنون حسین 1997 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر رہے ، 1999 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، مگر صرف چار ماہ بعد ہی میاں نواز شریف کی حکومت کا تخہ الٹ گیا اور وہ معزول ہو گئے ۔صدر ممنون حسین نے سیاست میں دلچسپی 1968 میں لینا شروع کی جب یہ نورالامین کی قیادت میں مسلم لیگ کا حصہ بنے ۔ جلد ہی وہ مسلم لیگ کراچی کے جوائنٹ سیکرٹری بن گئے ۔ 1993 میں انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی اور مسلم لیگ ن کراچی کے سیکرٹری خزانہ رہے ۔ جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں انہوں نے جمہوریت کے لئے آواز اٹھانے پر سیاسی قید بھی کاٹی۔پاکستان کے صدر بننے کے وقت یہ ملکی تاریخ کے دوسرے معمر ترین صدرِ پاکستان تھے ۔ صدر ممنون جنرل ایوب خان کے بعد واحد صدر ہیں جنہیں اپنے دورِ صدارت میں پانچ مختلف چیف جسٹس آف پاکستان سے حلف لینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ممنون حسین منگل 30 جولائی 2013 کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے ملک کے بارہویں صدر منتخب ہوئے ۔ انھوں نے 432 ووٹ لیے ۔ تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین ان کے مدِ مقابل تھے جنہوں نے 77 ووٹ حاصل کیے ۔ 8 ستمبر 2018 کو ممنون حسین کی مدت ختم ہو گئی۔ رخصتی کے وقت انہیں الوداعی گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔


متعلقہ خبریں


حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی وجود - هفته 18 مئی 2024

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی ، قیمت میں مزید ایک روپے 47 پیسے اضافے کی منظوری دے دی گئی۔نیپرا ذرائع کے مطابق صارفین سے وصولی اگست، ستمبر اور اکتوبر میں ہو گی، بجلی کمپنیوں نے پیسے 24-2023 کی تیسری سہ ماہی ایڈجسمنٹ کی مد میں مانگے تھے ، کیپسٹی چارجز کی مد میں31ارب 34 ک...

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم وجود - هفته 18 مئی 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت کو صوبے کے واجبات اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 15دن کا وقت دے دیا۔صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا،کشمیریوں کے سامنے ایک دن میں حکومت کی ہوا نکل گئی، خیبر پخ...

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں وجود - هفته 18 مئی 2024

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پائونڈ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی شدید غصے میں دکھائی دیں جبکہ بانی پی ٹی آئی بھی کمرہ عدالت میں پریشان نظر آئے ۔ نجی ٹی و ی کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 190 ملین پائونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس سلسلے می...

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں اداروں کے کردار پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔ ایک انٹرویو میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے فارم 47 کا فائدہ اٹھایا ہے ، لہٰذا یہ اس سے پیچھے ہٹیں اور ہماری چوری ش...

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن(پی آئی اے ) کی نجکاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مختلف ایئرلائنز سمیت 8 بڑے کاروباری گروپس کی جانب سے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے کے خواہاں فلائی جناح، ائیر بلیولمیٹڈ اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ سم...

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج وجود - هفته 18 مئی 2024

کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں بجلی کی طویل بندش اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا تاہم کے الیکٹرک نے علاقے میں طویل لوڈشیڈنگ کی تردید کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف لائنز ایریا کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور لکی اسٹار سے ایف ٹی سی جانے والی س...

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا وجود - جمعه 17 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا۔بھکر آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انتخابات میں حکومتوں کا کوئی رول نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کا رول ہوتا ہے ، جس کا الیکشن کے لیے رول تھا انہوں نے رول ...

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم وجود - جمعه 17 مئی 2024

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک کے دوران شر پسند عناصر کی طرف سے صورتحال کو بگاڑنے اور جلائو گھیرائوں کی کوششیں ناکام ہو گئیں ، معاملات کو بہتر طریقے سے حل کر لیاگیا، آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کرتے ہیں، کشمیریوں کی قربانیاں ...

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم

گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی وجود - جمعه 17 مئی 2024

ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ میری رائے ہے کہ قانون سازی ہو اور گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، اصل بات وہی ہے ۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمے کی سم...

گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی

جج کی دُہری شہریت، فیصل واوڈا کے بعد مصطفی کمال بھی کودپڑے وجود - جمعه 17 مئی 2024

رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جج کے پاس وہ طاقت ہے جو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج سکتے ہیں، جج کے پاس دوہری شہریت بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ، عدلیہ کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کہا کہ کیا دُہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی...

جج کی دُہری شہریت، فیصل واوڈا کے بعد مصطفی کمال بھی کودپڑے

شکار پور میں بدامنی تھم نہ سکی، کچے کے ڈاکو بے لگام وجود - جمعه 17 مئی 2024

شکارپور میں کچے کے ڈاکو2مزید شہریوں کواغوا کر کے لے گئے ، دونوں ایک فش فام پر چوکیدرای کرتے تھے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع شکارپور میں بد امنی تھم نہیں سکی ہے ، کچے کے ڈاکو بے لگام ہو گئے اور مزید دو افراد کو اغوا کر کے لے گئے ہیں، شکارپور کی تحصیل خانپور کے قریب فیضو کے مقام پر واقع...

شکار پور میں بدامنی تھم نہ سکی، کچے کے ڈاکو بے لگام

اورنج لائن بس کی شٹل سروس کا افتتاح کر دیا گیا وجود - جمعه 17 مئی 2024

سندھ کے سینئروزیرشرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کی لائونچنگ، گرفتاری، ضمانتیں یہ کہانی کہیں اور لکھی جا رہی ہے ،بانی پی ٹی آئی چھوٹی سوچ کا مالک ہے ، انہوں نے لوگوں کو برداشت نہیں سکھائی، ہمیشہ عوام کو انتشار کی سیاست سکھائی، ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مزید بہتر کرنے کی کوشش...

اورنج لائن بس کی شٹل سروس کا افتتاح کر دیا گیا

مضامین
اُف ! یہ جذباتی بیانیے وجود هفته 18 مئی 2024
اُف ! یہ جذباتی بیانیے

اب کی بار،400پار یا بنٹا دھار؟ وجود هفته 18 مئی 2024
اب کی بار،400پار یا بنٹا دھار؟

وقت کی اہم ضرورت ! وجود هفته 18 مئی 2024
وقت کی اہم ضرورت !

دبئی لیکس وجود جمعه 17 مئی 2024
دبئی لیکس

بٹوارے کی داد کا مستحق کون؟ وجود جمعه 17 مئی 2024
بٹوارے کی داد کا مستحق کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر