وجود

... loading ...

وجود

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس ،وزیراعظم کی عدم شرکت پر نیا تنازع

هفته 03 جولائی 2021 قومی سلامتی کمیٹی اجلاس ،وزیراعظم کی عدم شرکت پر نیا تنازع

حکومت اپوزیشن میں وزیراعظم عمران خان کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کے معاملے پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے وضاحت طلب کرلی جب کہ وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے دعویٰ کیا ہے وزیراعظم کے آنے پر اپوزیشن لیڈر نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، مسلم لیگ )(ن) نے اس دعویٰ کو مستردکردیا ہے اسپیکر چیمبر میں موجود اجلاس کی مہمانوں کی فہرست اہمیت اختیار کر گئی اپوزیشن نے اس فہرست کے اجراء کے لئے اسپیکر سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ۔ وزیر اعظم کی غیرحاضری کی وجہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو قرار دینے پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیر اعظم قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کے لیے تیار تھے لیکن شہباز کی جانب سے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو پیغام بھیجا گیا تھا کہ اگر وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت کی تو اپوزیشن اجلاس سے واک آؤٹ کر جائے گی۔ پھر وزیر اعظم نے سوچا کہ واک آؤٹ کی ضرورت نہیں ہے اور آپ لوگ اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں اور میں نہیں آؤں گا۔جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آیا وزیر اعظم کو ایسا لگا کہ اپوزیشن انہیں برداشت نہیں کرے گی یا قائد حزب اختلاف کی جانب سے واقعتا کوئی پیغام بھیجا گیا تو فواد چوہدری نے تصدیق کی کہ باقاعدہ پیغام بھیجا گیا تھا۔ وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ رہے تھے لیکن اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا اسپیکر قومی اسمبلی کو پیغام گیا تھا کہ وزیراعظم آئیں گے تو وہ اجلاس میں نہیں آئیں گے ۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے طنزاً کہا ہے کہ یہ بالکل درست بات ہے ، ہم وزیر اعظم کو حکم دیتے ہیں کہ انہیں کیا کام کرنا ہے ۔ فواد چوہدری اس بات سے واقف نہیں تھے کہ وزیر اعظم قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں، کیا اس نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ ان کے وزیر اعظم کی نشست خالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات یہ بھول گئے ہیں کہ وزیر اعظم کو اجلاس میں شرکت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انہیں پہلے ہی بریفنگ مل چکی تھی اور جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا، تاہم اگر وہ آتے تو یہ بہت اچھی بات ہوتی۔شاہد خاقان عباسی نے وزیر اطلاعات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ بجٹ تقریر کے دوران کس نے حملوں اور تقریر میں خلل ڈالنے کا حکم دیا تھا، حکومتی وزرا اور اراکین قومی اسمبلی نے ہمیں بتایا کہ وزیر اعظم کی طرف سے براہ راست پیغام آیا تھا کہ وہ شہباز شریف کو بولنے نہ دیں۔ قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کی عدم شرکت پر ترجمان جے یو آئی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی عدم شرکت سوالیہ نشان ہے۔ اہم قومی ایشوز کو ہمیشہ غیر سنجیدہ رویوں کے بھینٹ چڑھایا گیا ۔ قوم کو بتایا جائے کہ وزیر اعظم نے کیوں شرکت نہیں کی ؟ کیا وزیر اعظم نا اہل ہے ؟ یا یہ ایشو اہم نہیں تھا ؟ ایک کھلاڑی وزیر اعظم ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے ۔ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی اہمیت اور صلاحیت کا اندازہ کشمیر پالیسی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ افغان جیسے اہم ایشو پر خوب غور وفکر کی ضرورت ہے ۔معمولی سی غلطی مستقبل کی تباہی و بربادی پر منتج ہوگی ۔ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم سے اس معاملے پر وضاحت کا مطالبہ کردیا ہے پارٹی کی طر ف سے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی قومی سلامتی کمیٹی میں عدم شرکت سے ایک منفی پیغام گیا ہے ، نیئر بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم افغانستان کے معاملے پر کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ انکی اجلاس سے لاتعلق رہنے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ کیا وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت نہ کر کے یہ پیغام دیا کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں؟ ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ قومی سلامتی کمیٹی میں متعلقہ لوگوں کو مدعو کیا گیا اور وزیراعظم خود کو غیر متعلقہ شخص سمجھ رہے ہیں؟ وزیراعظم کے لئے قومی سلامتی کمیٹی سے زیادہ بھی کوئی اہم مصروفیات تھیں؟ اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس میں شرکت کرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اپنا موقف رکھا، پیپلزپارٹی نے ملکی معاملات پر کبھی سیاست نہیں کی بلکہ قومی سلامتی کے معاملات پر ہمیشہ ریاست کا ساتھ دیا ہے ۔وزیراعظم خود اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر نفرتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔وزیراعظم کو قومی سلامتی کے معاملات پر کنٹینر کی سیاست زیب نہیں دیتی۔وزیراعظم بتائیں کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر اطلاعات کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب وزیر اعظم اس اجلاس میں شریک ہی نہیں تھے تو شہباز نے منع کیسے کیا؟پارٹی صدر نے کسی کو کوئی پیغام نہیں بھیجا۔ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ فواد چوہدری جھوٹے اور پراپیگنڈا مشین ہیں، جب اجلاس اسپیکر نے بلایا تو شہباز شریف منع کیسے کر سکتے ہیں؟۔ فوادچوہدری کے پاس شہباز کی انکار کو ثابت کرنے کے لیے کوئی سرکاری دستاویز یا شواہد موجود ہیں اور انہیں چیلنج کرتے ہوئے وہ دکھانے کا کہا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا عمران صاحب قومی اہمیت اور سلامتی کے دیگر امور پر بھی شہباز شریف کے کہنے پر نہیں آئے تھے ؟ کیا وہ کورونا کی نیشنل پارلیمانی میٹنگ سے بھی شہباز شریف کے کہنے پہ چلے گئے تھے ؟


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر