وجود

... loading ...

وجود

شیخ الحدیث، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک

جمعرات 01 جولائی 2021 شیخ الحدیث، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک

ممتاز عالم دین جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹان کے مہتمم اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے صدر اور عالمی مجلس عمل کے مرکزی امیر شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر 86سال کی عمرمیں کراچی میں انتقال کرگئے ، جامعہ بنوری ٹاؤن میں نماز جنازہ اور وہیں تدفین ہوئی ، نماز جنازہ میں ہزاروں نے شرکت کی اور ہر آنکھ اشبار تھی ، مختلف علما اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی وفات ملک وملت کا بہت بڑا سانحہ قرار دیا ہے ۔شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر تقریبا 3 ہفتوں سے علیل اور مقامی نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ مولانا عبدالرزاق اسکندر 1935 میں ضلع ایبٹ آباد کے گاؤں کوکل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی دینی و عصری تعلیم آبائی گاؤں اور ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف اور احمد المدارس سکندر پور میں حاصل کی ۔ 1952 میں مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے مدرسہ دارالعلوم کراچی (نانک واڑہ )میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی۔ دور حدیث محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کے مدرسہ جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے کیا اور درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم آپ ہی تھے ۔ 1962 میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں 4 سال تک زیر تعلیم رہے ۔ جامعہ ازہر مصر میں 1972 میں داخلہ لیا، اور چار سال میں پی ایچ ڈی کی ، جس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی کے عنوان سے مقالہ لکھا ۔ انہوں نے 71برس تعلیم و تعلم میں گزارے اور 46برس سے حدیث پڑھانے والے جامعہ بنوری ٹاؤن کے پہلے طالب علم ہیں۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر جامعہ دارالعلوم کراچی کے ابتدائی طلبا میں سے تھے ۔مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مہتمم اور شیخ الحدیث ،فاق المدارس العربیہ پاکستان، اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے صدر ، عالمی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر اور اقرا روضہ الاطفال ٹرسٹ پاکستان کے سرپرست اعلیٰ تھے ۔ ان کے اساتذہ میں علامہ سید محمد یوسف بنوری، حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی ،مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل ، مولانا عبدالرشید نعمانی،مولانا لطف اللہ پشاوری، مولانا سبحان محمود،مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا بدیع الزماں اور دیگر جید علمائے کرام ہیں ۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی اور ڈاکٹر عبدالحیٔ عارفی سے بیعت اورمولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید اور مولانا سرفراز خان صفدر خلیفہ مجاز تھے ۔جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے تعلق 1955 میں بطور طالب علم سے مہتمم تک تاحیات رہا۔ 1981 میں عالمی تحفظ ختم نبوت کی مجلسِ شوری کے رکن ، 2008 میں سید نفیس الحسینی شاہ کے وصال کے بعد نائب امیر اور 2015 میں مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے انتقال کے بعد مرکزی امیر منتخب ہوئے ۔ 1997 میں ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر وفاق المدارس العربیہ کی وفاق کی مجلسِ عاملہ کے رکن، 2001 میں نائب صدر اور شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان کے انتقال کے بعد 2017 صدر منتخب ہوئے ، 3 جون 2021 کو ایک مرتبہ پھر آئندہ 5 سال کے لئے وفاق کے صدر منتخب ہوئے گئے ۔ 2017 سے تمام مکاتب فکر مدارس دینیہ کی تنظیم اتحاد مدارس دینیہ کے صدر بھی رہے ۔ ایک درجن سے زائد عربی اور اردو زبان میں تصانیف و تالیفات ہیں ، جن میں الطریق العصری، کیف تعلم اللغ العربی لغیر الناطقین بھا، القاموس الصغیر، مقف الام الاسلامی من القادیانی، تدوین الحدیث، اختلاف الام والصراط المستقیم،جماع التبلیغ و منھجہا فی الدعو، ھل الذکری مسلمون؟ ، الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار، الاسلام و اعداد الشباب، تبلیغی جماعت اور اس کا طریقِ کار،چند اہم اسلامی آداب،محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین اور دیگر شامل ہیں ۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی نمازِ جنازہ بنوری ٹاؤن میں رات 10 بجے ادا کی گئی اوراُنہیں بنوری ٹائون میں سپرد خاک کیاگیا۔ مرحوم کے اہل خانہ میں بیوہ، دو فرزند مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر،مفتی محمد یوسف اسکندر اور تین صاحبزادیاں ہیں،جبکہ لاکھوں آپ کے فیض یافتہ روحانی فرزند دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دریں اثنا مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی ،شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی، جمعیت علما ء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، مولانا راشد، سومرو ، قاری محمد عثمان ، تنظیم اہلسنت والجماعت کے مرکزی امیر مولانا قاضی نثار احمد ، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، محمد حسین محنتی ، حافظ نعیم الرحمان ، جمعیت علما پاکستان کے شاہ محمد اویس نورانی ، مولانا عبد الرحمن سلفی اور دیگر نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی وفات ملک وملت کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے ملک وملت کے لئے انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ صرف انکے اہل خانہ اور اہل مدرسہ نہیں، پوری علمی دنیا مستحق تعزیت ہے ۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر