وجود

... loading ...

وجود

اسٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ ، مہنگائی7 سے 9 فیصد رہنے کا اندازہ

جمعه 04 جون 2021 اسٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ ، مہنگائی7 سے 9 فیصد رہنے کا اندازہ

بینک دولت پاکستان نے کہا ہے کہ سال 2021 کی دوسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ، زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبے ترقی کر رہے ہیں جبکہ کامیاب ویکسینیشن مہم معاشی بحالی کو مزید بہتر بنائیگی، کوویڈ کی دوسری لہر میں لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں رہی،کاروباری اعتماد بتدریج بہتر ہورہا ہے ، آئی ایم ایف پروگرام بیرونی فنانسنگ کا اضافی مواقع پیدا کرے گا،آئی ایم ایف ملکی معیشت کے ساختی مسائل ریفارم ایجنڈا کو سپورٹ کرتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے سال 2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق مہنگائی7 سے 9 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر 26.5ارب سے 27.5 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے ، مالی سال 22 سے سالانہ امپورٹ 47 سے 48 ارب ڈالر ہوگی،آئندہ مالی سال سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی تناسب سے 6.5 سے 7.5 فیصد رہیگا۔ رپورٹ میں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معاشی بحالی کی مضبوطی کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ یہ بات زیر جائزہ مدت میں صنعتی سرگرمی کی بڑھتی ہوئی رفتار، خریف کی اہم فصلوں (علاوہ کپاس) کی بلند پیداوار اور خدمات کے شعبے میں تیزی سے نمایاں ہے ۔ مالی سال21ء کی پہلی ششماہی میں بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں7.6فیصد نمو ہوئی جبکہ دوسری سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 10.4فیصد تک پہنچ گئی، جو مالی سال07ء کی چوتھی سہ ماہی کے بعد سے ایل ایس ایم میں ہونے والی بلند ترین نمو ہے ۔ صنعتی سرگرمی کی رفتار کو بڑھانے میں تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتوں اور غذائی پروسیسنگ کی صنعتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ تعمیرات کی صنعت کو سازگار پالیسیوں سے فائدہ پہنچا جن میں اس صنعت کے لیے حکومت کے امدادی پیکیج کے تحت مالیاتی اقدامات، نیا پاکستان ہائو سنگ اسکیم اور اسٹیٹ بینک کے مالی اقدامات شامل ہیں۔ دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں بینکوں کے قرضہ جاتی پورٹ فولیو میں مکانات اور تعمیرات کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی ہمیشہ تقریباً معمولی سطح پر رہی ہے ۔ حکومت پاکستان کے وڑن کو تقویت دینے کی غرض سے اسٹیٹ بینک نے ہائو سنگ اور تعمیرات کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں مدد دینے کے لیے جولائی2020ء سے متعدد اقدامات کیے ہیں ، جن میں بینکوں کے لیے ترغیبات اور اہداف مقرر کرنا شامل ہیں۔زرعی شعبے میں خریف کی اہم فصلوں نے گذشتہ برس کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائی، جسے ان فصلوں کے زیر کاشت رقبے میں اضافے سے منسوب کیا گیا۔ ربیع کی فصلوں کے لیے اہم خام مال اور گندم کی امدادی قیمت میں اضافے پر مشتمل حکومت کے امدادی پیکیج سے امکان ہے کہ فصلوں کے پورے شعبے میں نمو بڑھے گی۔ تاہم کپاس کی پیداواری صورت حال نے مجموعی زرعی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا کیونکہ 7.7ملین گانٹھوں کی پیداوار کا نظرثانی شدہ تخمینہ مالی سال86ء کے بعد سے کم ترین پیداوار کو ظاہر کرتا ہے ۔ تاہم دیگر فصلوں کی بہتر پیداوار کی بدولت مجموعی زرعی شعبے کی نمو مثبت رہنے کی توقع ہے ۔بحیثیت مجموعی اس بحالی میں کووڈ19 کے دھچکے سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک اور حکومت کے بروقت اور مربوط پالیسی اقدامات نے اہم کردار دا کیا۔ اسٹیٹ بینک کے پالیسی اقدامات میں کم پالیسی ریٹ کے تسلسل ، قرضوں کو مؤخر کرنا اور ان کی تشکیل نو ، اور تنخواہوں کی ادائیگی میں اعانت، شعبہ صحت اور سرمایہ جاتی اخراجات کرنے کی خواہش مند فرموں کے لیے ری فنانسنگ اسکیمیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے اعانتی اقدامات میں معاشرے کے معاشی لحاظ سے کمزور طبقات کو براہ ِراست نقد رقم کی فراہمی کے ساتھ تعمیراتی شعبے کو ٹیکس ریلیف، برآمدکنندگان کو واجب الادا ری فنڈز کی فوری ادائیگی، توانائی کی رعایتی قیمتیں، درآمدی خام مال پر ڈیوٹی میں رعایات، اور زراعت کی ترقی کے لیے زرِ اعانت اور بلند کم از کم امدادی قیمتیں شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان معاون پالیسیوں کے سبب معاشی سرگرمی کی بحالی کلی معاشی عدم توازن، بشمول مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں، میں اضافے پر منتج نہیں ہوئی۔معاشی نمو کی رفتار بڑھنے اور ملک کے نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کے بغیر کووڈ کی دوسری لہر سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کی وجہ سے مالی سال21ء کی پہلی ششماہی میں قرضوں کے لیے فرموں کی طلب سال بسال بنیادوں پر تقریباً دگنی ہو گئی۔ ان قرضوں کا ایک بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کی رعایتی ری فنانس اسکیموں خصوصاً برآمدی ری فنانس اسکیم (ای ایف ایس)، طویل مدتی فنانسنگ سہولت (ایل ٹی ایف ایف) اور عارضی اقتصادی ری فنانس سہولت (ٹی ای آر ایف) کے ذریعے فراہم کیا گیا، کیونکہ فرمیں پیداواری گنجائش میں توسیع اور توازن کاری، جدت طرازی اور تبدل (بی ایم آر) کی سرگرمیاں انجام دے رہی تھیں۔ خصوصاً، عارضی معاشی ری فنانس سہولت کے تحت قرضے 31مارچ2021ء تک بڑھ کر435.7ارب روپے تک پہنچ گئے ۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے لیے مکانات اور تعمیراتی قرضوں کو آخر دسمبر2021ء تک بڑھا کر اپنے نجی شعبے کے مجموعی قرضہ جاتی پورٹ فولیوز کے 5فیصد تک کرنے کا لازمی ہدف مقرر کرنے کے بعد مکان کی تعمیر کے قرضوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران بیرونی شعبے میں 1.1 ارب ڈالر کی فاضل رقم آئی جس کے اسباب کارکنوں کی ترسیلات کا ریکارڈ بلندی پر آنا اور خدمات اور بنیادی آمدنی کے خساروں میں کمی واقع ہونا تھے ۔ یوں تو تمام اہم راہداریوں سے ترسیلات میں اضافہ ہوا تاہم ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل کے ملکوں سے آنے والی ترسیلات میں مستحکم نمو دیکھی گئی۔ ترسیلات کو مستحکم کرنے میں ان چیزوں نے اپنا کردار ادا کیا: باضابطہ ذرائع سے رقم بھجوانے کی ترغیب دینے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے فعال پالیسی اقدامات، کورونا کی وبا کے باعث سرحد پار سفر کا محدود ہونا، وبا کے دوران بہبودی رقوم کی پاکستان کو منتقلی، اور بازارِ مبادلہ میں استحکام کی صورتِ حال۔ جاری کھاتے میں فاضل رقم کی موجودگی اور کافی بیرونی قرضوں کی دستیابی کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران 1.3 ارب ڈالر بڑھ گئے اور اس کے خالص پیشگی واجبات بھی 1.2 ارب ڈالر کم ہوگئے ۔ مزید برآں، اس عرصے کے دوران پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 5.1 فیصد بڑھ گئی۔ دریں اثنا، حال میں متعارف کرائے جانے والے روشن ڈجیٹل اکائو نٹس (آر ڈی اے ) کا سمندر پار پاکستانیوں نے خیر مقدم کیا ہے ، چنانچہ اپریل 2021ء میں ان اکائو نٹس میں ا نے والی رقم 1.0 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے ۔اس دوران مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران صارف اشاریہ قیمت ملکی مہنگائی بحیثیت مجموعی گر کر 8.6 فیصد رہ گئی جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں 11.1 فیصد تھی۔ اس سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں قوزی مہنگائی میں کمی کی بڑی حد تک عکاسی ہوتی ہے جس کے اسباب مذکورہ مدت کے دوران معیشت میں فاضل گنجائش کی موجودگی، توانائی کے نرخوں میں کمی، اور نسبتاً مستحکم شرحِ مبادلہ ہیں۔جہاں تک مالیاتی پہلو کا تعلق ہے ،ٹیکس وصولی گذشتہ سال سے زائد ہوئی جبکہ غیر سودی اخراجات کم ہوئے جس کا نتیجہ مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران بنیادی فاضل رقم کی صورت میں نکلا۔ جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر مالیاتی خسارہ گذشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔ان مثبت تبدیلیوں سے قطع نظر، اس رپورٹ میں تین شعبوں کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر پالیسی سازوں کو مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ پہلا شعبہ قرضوں کی واپسی کا بوجھ ہے ۔ محاصل کی پیداوار میں نسبتاً بہتری کے باوجود، مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران بیشتر سودی ادائیگیوں کا بندوبست نئے قرضوں کے اجرا کے ذریعے کیا گیا۔ دوسرے ، اگرچہ صارف اشاریہ قیمت ملکی مہنگائی مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران سال بسال بنیاد پر کم ہوئی اور اسٹیٹ بینک کی پورے سال کے لیے پیش گوئی کی حد میں رہی تاہم حالیہ مہینوں کے دوران غذائی اشیا کی قیمتیں رسدی پہلو کے دبائو کی زد میں رہیں۔ تیسرے ، اب جبکہ ملکی اقتصادی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں اور اجناس کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو درآمدات کا دبائو بھی سر اٹھا رہا ہے ۔ نیز، یہ دبائو اہم زرعی اجناس یعنی کپاس، شکر اور گندم کے ملکی رسدی چیلنجوں کے باعث دو چند ہو چکا ہے جس نے ان اجناس کی درآمد کو ضروری بنا دیا ہے ۔ رپورٹ میں ایل این جی کی ملکی مارکیٹ پر ایک خصوصی سیکشن شامل ہے ، جس میں اس درآمدی جنس کی منصوبہ بندی، خریداری، اور رسد سے متعلق چیلنجوں پر بحث کی گئی ہے ، اور ان چیلنجوں کا تجزیہ موجودہ ضوابطی اور آپریشنل فریم ورک کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔ حکومت کا یہ فیصلہ کہ ایل این جی کی درآمد میں نجی شعبے کا حصہ مزید بڑھانے کی اجازت دی جائے ، مستقبل میں ان میں سے بہت سے مسائل حل کرنے کے امکانات رکھتا ہے ، اور معیشت میں توانائی کے آمیزے میں اس نسبتاً سستے ایندھن کا حصہ بالآخر بڑھے گا۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر