وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکی سائنسدان وائی فائی سے بجلی بنانے میں کامیاب

منگل    29    جنوری    2019 امریکی سائنسدان وائی فائی سے بجلی بنانے میں کامیاب

سائنسدانوں نے وائی فائی سگنلز کو بجلی کی شکل میں بدلنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے مستقبل میں ڈیوائسز کو بغیر کسی بیٹری کے چلانے میں مدد مل سکے گی۔میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایسی مشین تیار کی ہے جو وائی فائی سگنلز کو بجلی میں بدل سکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق محققین نے بتایاکہ وائی فائی سگنل کو بجلی میں بدلنے سے ٹو ڈی ڈیوائس کو مکمل طور پر وائی فائی لہروں سے چلانا ممکن ہوگا اور بیٹری کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وائی فائی تیزی سے پھیلنے والا پاور سورس بن چکا ہے اور نئی مشین سے اس کے سگنل کو کارآمد برقی رو میں بدلنا ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انٹینا الٹرنیٹ کرنٹ (اے سی) لہروں کو ڈی سی کرنٹ والٹیج میں بدل دیتا ہے جو برقی مصنوعات میں استعمال ہوسکتا ہے۔ایم آئی ٹی کی ٹیم کا دعویٰ تھا کہ اس ٹیکنالوجی سے برقی مصنوعات، اسمارٹ واچز وغیرہ اور طبی ڈیوائسز کو بجلی فراہم کرنا ممکن ہے۔سائنسدانوں نے بتایا کہ ہم نے مستقبل میں برقی نظام کو بجلی کی فراہمی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کرلیا ہے اور وائی فائی کو توانائی کے طور پر انتہائی آسانی سے استعمال کرنا ممکن ہوسکے گا۔

اس کے لیے انہوں نے ایک نئی طرز کا انٹینا تیار کیا ہے جو ریڈیو فریکوئنسی انٹینا کے طور پر استعمال کرکے وائی فائی کو لے کر چلنے والی برقی مقناطیسی لہروں کو پکڑتا ہے اور ڈائریکٹ کرنٹ میں بدل دیتا ہے۔اس تبدیلی کے لیے ایک پرزے ریکٹی فائر کی ضرورت پڑتی ہے جو غیرلچکدار ہوتا ہے، تاہم ایم آئی ٹی محققین نے اس کے لیے انتہائی پتلا اور لچکدار میٹریل مولیبڈینم ڈسیولفائیڈ استعمال کیا جو دنیا کے چند پتلے ترین سیمی کنڈکٹرز میں سے ایک ہے۔محققین کے مطابق اس طرح کے ڈیزائن سے ایک مکمل لچکدار ڈیوائس بنانے میں مدد ملتی ہے جو اتنی تیز ہوتی ہے جو روزمرہ کی برقی مصنوعات میں استعمال ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی بینڈز بشمول وائی فائی، بلیوٹوتھ، سیلولر ایل ٹی ای اور دیگر کو کور کرسکتی ہے۔اب تک اس حوالے سے تجربات کے دوران سائنسدان وائی فائی سگنلز سے 40 مائیکرو واٹ بجلی بنانے میں کامیاب رہے جو کسی موبائل ڈسپلے کو روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔