وجود

... loading ...

وجود

موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان نوویں نمبر پرآگیا

جمعرات 08 نومبر 2018 موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان نوویں نمبر پرآگیا

موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان نویں نمبر پرآگیا ہے۔وزن کا بڑھنا نہ صرف ظاہری شخصیت کو تباہ کردیتا ہے بلکہ یہ امراض کی جڑ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذیابیطس، بلڈپریشر، امراض قلب اور فالج غرض کہ لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موٹاپاایک عالمی وبا بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلی سے ہی اس کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ کچھ طریقے ایسے بھی ہیں جن پر عمل کرکے وزن میں کمی لائی جاسکتی ہے اور سائنس نے بھی ان کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ وزن بڑھنے سے پریشان ہیں اور اس میں کمی لانا چاہتے ہیں تو کھانے کے اوقات اس حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر لوگ اپنے وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو ناشتے کیلئے بہترین وقت صبح 7 بج کر11منٹ، دوپہر کا کھانا12بج کر 38منٹ جبکہ رات کو6بج کر14منٹ کھانے کے بہترین اوقات ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس حوالے سے 84 فیصد افراد کی رائے یہ تھی کہ کھانے کے مخصوص اوقات موٹاپے سے نجات کیلئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔76فیصد کے خیال میں دن بھر میں سب سے اہم خوراک صبح کے وقت ناشتہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد پورے دن میں کیلوریز کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔پہلے کہا جاتا تھا کہ دن بھر میں زیادہ کھانا وزن بڑھاتا ہے مگر اب ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 5 بار کھانے سے جسمانی وزن کم ہوتا ہے۔

یہ بات فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ ایسٹ فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق روزانہ کے معمول یعنی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے میں پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے دن میں پانچ بار متوازی غذاکھالینے سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عام معمول کو ختم کرنا جیسے ناشتے کو گول کردینے سے وزن کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتا ہے۔اکثر خواتین اپنے بڑھتے وزن کے حوالے سے فکرمند ہوتی ہیں، تاہم دہی کا استعمال ان کا یہ مسئلہ حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ لاوال یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دہی میں شامل بیکٹیریا پروبائیوٹکس خواتین کے جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے۔ تحقیق کے دوران موٹاپے کے شکار مرد و خواتین کو 24ہفتوں تک اس بیکٹیریا سے تیار کردہ گولیاں کھلائی گئیں، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کے وزن میں اوسطا 9.7سے11.5پونڈز تک کمی ہوئی۔

غذا میں زیادہ پروٹین کا استعمال آپ کو موٹاپے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اپنے جسمانی وزن میں کمی کیلئے کیلوریز جلانے کی بجائے آپ غذا میں پروٹین سے بھرپور اشیا کا استعمال زیادہ کریں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گوشت، مچھلی، انڈے وغیرہ کا استعمال اس حوالے سے بہترین ہے کیونکہ یہ پروٹین سے بھرپور غذائیں ہوتی ہیں۔ایک امریکی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوراک کو مناسب طریقے سے چبا کر نگلنا جسمانی وزن میں کمی کا آسان ترین نسخہ ہے۔ ٹیکساس کرسٹین یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق آہستگی سے کھانے اور چھوٹے لقمے لینے سے لوگوں کو کھانے کے کچھ دیر بعد بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ سست روی سے کھاتے ہیں وہ زیادہ پانی بھی پیتے ہیں، جس سے انہیں طبیعت سیر ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ محقق پروفیسر مینا شاہ کے مطابق کھانے کی رفتار میں کمی سے زیادہ کیلوریز جسم کا حصہ نہیں بنتیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

موٹاپے سے تنگ افراد کو چاہیے کہ بادام کھانا اپنی عادت بنالیں۔ پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بادام کو روزانہ کی خوراک کا حصہ بنانے سے بڑھے ہوئے پیٹ میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ42گرام بادام کا استعمال موٹاپے سے تحفظ دے کر امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک کم کردیتا ہے۔روزانہ ایک سیب کھانا ڈاکٹر کو تودور رکھتا ہی ہے مگر یہ موٹاپے سے بچاؤکے لیے بھی اہم ثابت ہوتا ہے۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سبز رنگ کے سیبوں کا روزانہ استعمال نہ صرف پیٹ بھرنے کے احساس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے بلکہ یہ معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹیریا کی تعداد بھی بڑھاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صحت مند بیکٹیریا موٹاپے کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بچوں کو جلد سلانے کی عادت انہیں موٹاپے سے بچانے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے۔ فلاڈلفیا کی ٹمپل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بچپن میں وزن بڑھنے کا سبب صرف فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور کم ورزش نہیں بلکہ نیند کی کمی بھی اس کا ایک اہم عنصر ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہتر اور زیادہ نیند سے بچوں میں کیلوریز لینے کی مقدار کم ہوتی ہے اور وزن قابو میں رہتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی رات کی نیند میں اضافہ وزن کو کنٹرول رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں


آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر