کراچی میں 4 ہزار سرکاری رہائش گاہیں قابضین سے خالی کرانے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں 4 ہزار سے زائد سرکاری رہائش گاہیں غیر قانونی قابضین سے خالی کرانے کا حکم دیدیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سرکاری رہائش گاہوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں وفاقی حکومت کے 4 ہزار 268 گھروں پر غیر قانونی قبضہ ہے، ان وفاقی گھروں پر ساڑھے 3 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ کراچی میں ایک مکمل مافیا ہے ٗسیکورٹی کے بغیر 4268گھروں کو غیر قانونی قابضین سے خالی نہیں کراسکتے، اس کیلیے پولیس اور رینجرز کی معاونت فراہم کی جائے۔سپریم کورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز غیر قانونی گھروں کا قبضہ ختم کرنے کیلیے اسٹیٹ آفس کو سیکورٹی فراہم کریں، سرکاری رہائش گاہوں کو خالی کروا کر پیش رفت رپورٹ دی جائے جبکہ اے جی پی آر قابضین کی پنشن اور تنخواہوں سے مکانوں کے کرایے کی مد میں واجبات وصول کریں۔

Electrolux